SOS: MIA
Will be back in a while
Rock On!
In the meanwhile listen to Shahram Azhar’s rendering of Habib Jalib. Awesome awesome.
SOS: MIA
Will be back in a while
Rock On!
In the meanwhile listen to Shahram Azhar’s rendering of Habib Jalib. Awesome awesome.
by Tuzk.net (noreply@blogger.com) at August 20, 2008 03:30 AM
السلام و علیکم!
جب بہت دیر تک کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا لکھوں تو خیال آیا کہ انسان کو اپنی ذات سےہی شروع کرنا چاہیے، کچھ اپنے بارے میں بتانا چاہیے کیوں کہ لوگ اپنے بارے میں تو کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہیں پر دوسروں کے بارے میں جاننے میں ذیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت تھوڑے لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ مجھے کس نام سے پکارا جاتا ہے۔ جو نہیں جانتے وہ جان لیں کہ متصدقہ سرٹیفیکیٹس میں اسمِ شریف عمران ضیاء درج ہے۔جب اس شہر میں آنکھ کھولی تو یہ روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔اب اکثر تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ ویسے مجھے اِس جہاںِ فانی میں آئے ہوئے کافی زمانے بیت چکے ہیں مگر لگتا ہے کہ ابھی تو آئے تھے اور اتنا وقت گزر گیا۔ خیر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں اور صاحبِ اولاد بھی۔ ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا بہت کرم ہے۔
تو دوستوں اب تک کے لیئے اتنا ہی۔یار باقی، صحبت برہم۔اللہ حافظ
by ابو کاشان (noreply@blogger.com) at August 19, 2008 06:55 PM
تجھ سے ملنے کی سزا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
یہ وفاؤں کا سلہ دیں گے تیرے شہر کے لوگ
کیا خبر تھی تیرے ملنے پہ قیامت ہو گی
مجھ کو دیوانہ بنا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
تیری نظروں سے گرانے کے لیے جان حیات
مجھ کو مجرم بھی بنا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
کہ کے دیوانہ مجھے مار رہے ہیں پتھر
اور کیا اس سے سوا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
All right, everybody. Tag time!
In fact, this is first of the two tags I have received in this week. This tag was passed to me by No One. Dinky sister, your tag is coming in the next post.
I had stated somewhere in an old tag (this one, to be precise) that some tags give a superb opportunity for being narcissistic. This tag is one of them; it asks to write down 8 peculiar/random things about me. Now before you proceed, let me warn you: my definition of peculiar/random may differ from yours (just like my definition of weird in the aforementioned tag was not weird at all for some readers).
Anyway, so here we go.
Feel free to tag yourselves. (Yes, I know, it’s pretty mean to be narcissistic and then not explicitly give any of you a chance for it. But tagging others have always been a hard part for me. Also, there’s another tag post coming up shortly — which has a much better potential for narcissism — so you might want to tag yourself with that one if not with this one.)
آپ کے کچھ دوستوں کی عادت عجیب سی ہوتی ہے۔ وہ آپ سے مدد بھی مانگتے ہیں مگر اپنی کم علمی کو ظاہر بھِی نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے ہی ہمارے ایک مہربان ہیں جنہیں کئِ چیزوں کی الف ب بھِی نہیں آتی مگر جب بات کرتے ہیں تو یہی ثابت کرتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ کئ دفعہ جب وہ تاریخ یا دینی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں تو ہم اندر ہی اندر شرمندگی محسوس کرنے گلتے ہیں مگر انہیں ذرا برابر بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔
یہ صاحب ہم سے کمپیوٹر کے بارے میں کئِ دفعہ مدد لے چکے ہیں حالانکہ انہوں نے کمپیوٹر میں ڈپلومہ بھِی کیا ہوا ہے۔ انہیں جب بھی کمپیوٹر کے مسئلے کا حل بتائیں وہ کہتے ہیں “اس کا تو انہیں پہلے ہی علم تھا کوئی اور طریقہ بتائِیں”۔ ایک دفعہ ابھِی ہم نے مسئلے کا حل پورا بتایا بھِی نہیں تھا وہ کہنے لگے اس طریقے کا تو انہیں پہلے سے علم تھا۔ جب ہم نے کہا کہ چلیں ٹھیک کر کے دکھائیں تو انہوں نے کی بورڈ پر انگلیاں چلانی چلانی شروع کر دیں۔ جب وہ تھک گئے تو پھر ہم نے انہیں پہلی دفعہ ان کی اس برائی کی نشاندہی کی مگر انہوں نے نہ سدھرنا تھا نہ سدھرے ہیں۔
اسی طرح ایک دفعہ انگلینڈ پلٹ بوڑھا ہماری مسجد میں وضو غلط طریقے سے کر رہا تھا تو مسجد کے موذن نے انہیں وضو کرنے کا صحیح طریقہ بتانے کی کوشش کی۔ وہ موٹی سی گالی دے کر کہنے لگے “چل تیرے جیسے مجھے کئی سمجھا چکے ہیں”۔ موذن بولا “چاچا تبھِی تو سدھرا ہوا ہے”۔
اس ہفتے ایک میوزیکل پروگرام میں انڈین موسیقار اسماعیل دربار نے ایک گلوکار کو ٹوکا اور بڑے پتے کی بات کہی۔ کہنے لگے “جو بولتا ہے وہ سنتا نہیں ہے اور جو سنتا نہیں ہے وہ سیکھتا نہیں ہے”۔ یہ بات واقعی سچ ہے اگر آپ دوسروں کی بات پوری سنیں گے نہیں تو پھر سیکھیں گے کیسے۔ مگر کیا کیا جائے یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام علوم ایک آدمی نہیں سیکھ سکتا اور اسی لیے نوکریوں پر الگ الگ لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں کوئی انجنیئر ہوتا ہے تو کوئِی ڈاکٹر، کوئی سائنسدان ہوتا ہے تو کوئی پروفیسر۔ بہتر طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئِی آپ کو معلومات فراہم کر رہا ہو تو ان کا علم ہونے کے باوجود اس کی بات غور سے سنیں ہو سکتا ہے وہ آپ کو وہ بات بتا دے جس کا آپ کو پہلے سے علم نہ ہو۔ اگر آپ نے ابتدا سے ہی اسے ٹوک دیا تو پھر کام کی بات سے آپ محروم رہ جائیں گے۔
ہاہاہا۔۔۔ یہ کچھ اور نہیں، ایک فلم کا گیت ہے۔۔۔ایسا بھی وقت آنا تھا۔۔۔ دراصل یہ لفظ یوں رائج ہوا کہ یہاں لوگ اس سے ملتے جلتے الفاظ کی ایک گالی نکالتے ہیں۔۔۔ اب جہاں لوگ وہ گالی نکالنا مناسب خیال نہ کریں، اس کی جگہ یہ لفظ کہہ دیتے ہیں۔ ظاہری معانی فضول اور مقصد وہ گالی۔۔۔ لیکن جب یہ لفظ فلم “سنگھ از کنگ” کے ایک گیت کا ٹائٹل بنا تو جو لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھتے تھے، انہوں نے کھوج لگانا شروع کی۔ یاہو آنسرز انڈیا پر یہ سوال پوچھا گیا کہ What does bhootni ke mean۔۔۔
اب جواب دینے والے بے چارے کیا لکھیں؟ پہلا لکھتا ہے کہ بھوتنی، فیمیل جِن ہوتی ہے۔ دوسرا لکھتا ہے: bhootni ke mean۔۔۔۔ it does’nt have specific meaning۔۔۔ فنی ہی رہا۔۔۔ خیر، آپ گانے سے لطف اندوز ہوں۔
گیت: بھوتنی کے
فلم: سنگھ از کنگ
ہدایت کار: انیس بزمی
موسیقار: پریتم
شاعر: مایور پوری
ستارے: اکشے کمار، جاوید جعفری، کترینا کیف، نیہا دھوپیا
بے بے۔۔۔! وہ آگیا کمینہ!
ہوئےےے
آج خوشی کا دن ہے آیا، نکلا مہورت چنگا (بھئی)
سوٹ پہن کے بن گیا دولہا (بلےےے)
او سوٹ پہن کے بن گیا دولہا کل تک تھا جو ننگا (بھئی)
گھر والوں کا نام نہ لینا (شاوا۔۔۔)
گھر والوں کا نام نہ لینا، بچے ڈر جائیں گے
سیاپا پائیں گے پیٹ پیٹ کے چھاتی۔5
سیاپا پائیں گے
او چلو ڈھول والیو بینڈ واجا لے کے آجاؤ اوئےےے
اک تیرا بھائی ۔۔۔ ہائے سیاپا
بڑا شیدائی ۔۔۔ ہائے سیاپا
اک تیری بہنا ۔۔۔ ہائے سیاپا
بھینگے نینا ۔۔۔ ہائے سیاپا
او پیو پیاکڑ ۔۔۔ ہائے سیاپا
او ماں فے کڑ ۔۔۔ ہائے سیاپا
او چاچو لنگڑا ۔۔۔ ہائے سیاپا
پاوے بھنگڑا ۔۔۔ ہائے سیاپا
کہندے تینو ۔۔۔ ہائے سیاپا
دور فٹے منہ ۔۔۔ ہائے سیاپا
(او نچدا سب توں آگے آگے
سینٹ لگا کے، سہرا سجا کے)۔2
اتے بھاڑے دا سوٹ بوٹ نیچے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنڑایا؟ بھوتنی کے
بھوتنی کے۔۔۔ بھوتنی کے
او تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنڑایا؟ بھوتنی کے
اوے پنڈ دے پیارے ہم تھے
سالوں سے کنوارے ہم تھے
بیٹھے کے بیٹھے ہم ہیں
تُو چڑھ گیا گھوڑی
یاری کر گئی چھٹی
بس اپنی تو ہے ٹٹی
ہم کو جو دیکھے
تجھ کو آئے شرم تھوڑی
جیتے ابے جیتے
اوئے گل سن لے منجیتے
رہ گیا ٹھنڈے ارمانوں کے گھونٹ پی کے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنڑایا؟ بھوتنی کے
بھوتنی کے۔۔۔ بھوتنی کے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنڑایا؟ بھوتنی کے
سیاپا۔۔۔ سیاپا۔۔۔ سیاپا۔۔۔ سیاپا
اب کاہے کا رونا
جب ہوگیا جو تھا ہونا
اچھی قسمت ہے تیری
ہم یار ہیں تیرے
تُو پٹھا ہر جائی
پر اچھی ہے بھرجائی
بیٹھیں گے اس کے در پر
ہم ڈال کر ڈیرے
جیتو اوئے ٹونی
اوئے کیسے ٹالیں ہونی
ہُن کی کرنا اس کھوتے دا خون پی کے
او تینو۔۔
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنڑایا؟ بھوتنی کے
بھوتنی کے۔۔۔ بھوتنی کے
تینو گھوڑی کنے چڑھایا؟ بھوتنی کے
تینو دولہا کنے بنڑایا؟ بھوتنی کے

by Tuzk.net (noreply@blogger.com) at August 19, 2008 06:39 AM
کبھی کسی نے ٹی وی پر لڑائی کی ہے؟ نہیں میں جیری سپرنگر کی بات نہیں کر رہا۔ جیسے فوجیں تو لڑائی میں مقامات کا کنٹرول سنبھالتی پھرتی ہیں ہم لوگ ٹی وی کا کنٹرول سنبھالتے ہوتے تھے۔ تو اسمیں سب سے اہم بات ہوتی تھی کہ اب لڑائی تو ختم ہو گئی کسی ایک کے حصہ ٹی وی آ گیا۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ کوئی ایسا پروگرام ہو جو آپکو تو پسند ہو لیکن حریف کو پسند نہ ہو۔ اب چونکہ دونوں ہی لڑاکے ہیں تو دونوں کے پروگرام بھی کم و بیش ایک سے ہی ہونگے۔ تو اس میں میں یہ دیکھتا تھا کہ یہ کس پروگرام کی تعریف کرتے ہیں اور کس کو برا کہہ رہے ہیں۔ تو جس پروگرام کی یہ تعریف کر رہے ہیں دراصل یہ وہ نہیں دیکھنا چاہ رہے ہوتے تھے تو میں وہی لگا کر بیٹھ جاتا تھا۔ اب جب انہوں نے یہ ٹرک بھی سیکھ لیا تو مجھے دیکھنا پڑتا تھا کہ ہفتے میں یہ کس پروگرام کی بات کر رہے تھے کہ دیکھنا ہے۔ باٹم لائن کہ آپ کو یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اگلا کیا کہہ رہا ہے؟ آپ کو محسوس کرنا پڑتا ہے کہ اگلا کیا چاہتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا بدقسمت ملک ہے جس کے حکمران ایسی ناخلف اولاد کے طور پر لئے جاتے ہیں جس کی پیدائش پر بھی مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں اور مرنے پر بھی شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اس ملک کے حکمران اپنی عوام سے پہلے اپنے آقا کے سامنے نااہل قرار پاتے ہیں اور اس کے بعد میڈیا، اخبارات، کالم نگار اور عوام یک دم نابینا سے بینا ہو جاتے ہیں۔ ان کو تمام خرابیاں نظر آنے لگتی ہیں۔
اب جانے والے پر ایسی نظریں ٹکتی ہیں کہ آنے والی کی “ٹور” اور “چال مستانی” نظر نہیں آتی۔ یہ کیوں نظر نہیں آتی؟ کیونکہ یہ آقا کی نظروں میں اہل ہے۔ اور؟ اور کیوںکہ ہماری تمام حسیات ان کے معاملے میں سوئی پڑی ہیں۔ کیوں سوئی پڑی ہیں ان کو کون کیسے جگاتا ہے؟ ویل آپ کا کیا خیال ہے جاوید چوہدری سال 6 ماہ پہلے تک ایسا کالم لکھ سکتا تھا؟
آپ نے کبھی مچلیوں کے تالاب کا مطالعہ کیا ہے؟ ہاں جی کسی زمانے میں میں ptv2 بھی دیکھا کرتا تھا۔ اگر آپ مچھلیوں کو ایک مقررہ جگہ خوراک ڈالیں تو وہ وہیں آتی ہیں۔ اگر جگہ تبدیل کر دیں تو نئی جگہ کم آتی ہیں لیکن بتدریج وہ پرانی جگہ چھوڑ دیتی ہیں۔ اگر بمباری شمالی علاقہ جات میں ہو تو آپ کا کیا خیال ہے جوان اپنے گھر کا دفاع کریں گیں کہ افغانستان عراق کو سنبھالیں گیں؟ یہ میں نہیں کہہ رہا ابھی ایک ماہ قبل رحمان ملک کا بیان تھا کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان تو کیا عراق تک جا رہے ہیں۔ wtf? ویزے کون دے رہا ہے؟ ٹرانسپورٹیشن؟ اخراجات؟
تو ہم نے امریکہ کے پیچھے لٹھ لے کر پہنچ جانا ہے جب آپ خود ایسے بیانات دیں اور ایسی پارٹی کو سپورٹ کریں تو امریکہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تیاپانچہ نہ کرے؟ امریکی ایک حد تک کر سکتے ہیں اب سر پر تو بیٹھنے سے رہے۔ آپ میں ہمت نہیں۔ ہمیں ہوش تب آتی ہے جب آگ گھر تک پہنچ جائے۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر میدانی علاقوں میں دھماکے نہ ہوں تب تک ہمیں پہاڑوں پر برستی آگ کا احساس ہو گا؟ وہ ہماری طرف دیکھتے ہیں اور جب ہم پیٹرول کو دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں تو وہ ہمیں بھی “شریک جرم” کرنے نازل ہو جاتے ہیں۔ انتخابات کے کتنے عرصہ بعد تک دھماکے بند رہے ہیں اور جب ہماری موجودہ حکومت نے پھرتیاں دیکھائی ہیں تو شروع ہوا ہے۔
کیا مشرف کو سزا ہونی چاہئے؟ ابھی؟ نہیں۔ بعد میں؟ ہاں۔ ہماری سیاست کچھ ایسی ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں لہذا جب تک جی حضوری ہوتی رہے باقیوں کی مجال نہیں ہوتی۔ جب روگردانی ہو تو اپنوں کے ہاتھوں ہی ختم کروا دیا جاتا ہے۔ مشرف کو ملک بدر نہیں کرنا چاہئے کہ وہاں تو عیش ہی عیش ہیں۔ اس کو بس یہی کہیں رکھیں اور سزا کا تب سوچیں جب ان کی پالیسیوں پر عملدرآمد رک جائے۔ کیونکہ موجودہ حکومت انہی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ گیلانی نے فوج بھجوا دی ہے سوات۔ کیانی صاحب نے افغانی سرحد سے فوج اٹھا کر بھارتی سرحد پر لگا دی تو لوگ بغلیں بجائیں کہ بھارت کو آنکھیں دیکھائی ہیں او بےوقوفوں بھارت کو لڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا کام تو ہم ہی خود لڑ مر کر رہے ہیں اس کو بندے مروانے یا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت؟ اکھنڈ بھارت دفن ہو چکا۔ قبضہ کر کے سردرد مول لینے کی ہمت کون کرے؟
تو ابھی مشرف کو سزا سب کو یہ پیغام نہیں دے گی کہ دیکھو ملک کا بیڑہ غرق کر کے کیا حشر ہوتا ہے۔ اس کا یہ پیغام ہو گا کہ حکم پر حرف بہ حرف عمل ہو۔ ورنہ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو ابھی تو ہم سب ہی ایسے ہیں۔ کیا ہمیں موجودہ حکومت کے کارناموں کا علم ہے؟ مشرف جو کر چکا وہ نہیں جو ہو رہا ہے وہ ہمیں متاثر کر رہا ہے۔ تو جدوجہد ختم نہیں ہونی چاہئے اور اس کو مسلسل جاری رہنا چاہئے تاقتیکہ تمام پالیسیاں درست ہو جائیں۔ صدر مشرف سے ابھی محاذ آرائی درست نہیں تھی کیونکہ انٹرنیشنل میڈیا نہ مٹھائیاں بانٹ رہا ہے نہ صدر کی سزا جزا پر بات کر رہا ہے وہ ایٹمی اثاثوں کی بات کر رہا ہے اور یہ راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔
Just in case اگر آپ سوچ رہے ہوں کہ جب بھائی کے ہاتھ ٹی وی کنٹرول ہوتا تھا تو میں کیا کرتا تھا؟ ویل مجھے تو کوئی شوق نہیں لڑ کر اسی جگہ بیٹھنے کا لہذا میں کوئی نئی چیز ڈھونڈ لیتا تھا۔ آپ کو یہ میسج دینا ہوتا ہے کہ مجھے پرواہ نہیں اور میرے پاس کرنے کو اور بہت کچھ ہے۔ کچھ جگہوں پر الفاظ اثر نہیں کرتے۔ خاموشی اثر انداز ہوتی ہے۔ خاموشی وہ کچھ کہتی ہے جو الفاظ نہیں کہہ سکتے۔
Similar Posts:پرویز مشرف رخصت ہوئے۔ انہیں رخصت ہونا ہی تھا۔ اقتدار کی کرسی کب کسی کو ہمیشہ کے لیے ملتی ہے۔ ابھی ہمارے ہر مسئلہ کی وجہ مشرف تھے، اب ہم نے نئے اسباب تلاش کرنے ہیں کہ ہر مشکل میں ان پر انگلی اٹھاسکیں۔ زرداری سے مجھے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی اہم ہوگا۔ اب تک میڈیا کی تقریبا تمام توپوں کا رخ پرویز مشرف کی طرف تھا۔ اب وہ نہیں رہے تو ظاہر ہے آہستہ آہستہ یہ توپیں موجودہ حکمرانوں کی طرف رخ کرلیں گی۔ کیا موجودہ سیاستدان انہیں برداشت کرسکیں گے؟ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے کیا اپنا وعدہ ایفا کرسکیں گے یا یہی راگ الاپتے رہیں گے کہ ہمیں ملک ملا ہی ایسی حالت میں ہے کہ درست ہوتے ہوتے عرصہ لگ جائے گا۔
ہماری عوام بھی خوب ہے۔ ابھی پرویز مشرف کو جوتیاں مار کر اتارا ہے۔ کچھ عرصہ بعد جب موجودہ حکمران ستم ڈھائیں گے تو پھر پرویز مشرف کو یاد کیا جائے گا۔ مشرف چونکہ خود چلے گئے ہیں اس لیے ہماری قوم جلد ہی ان کی غلطیاں معاف کردے گی بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو لوگ اس کی ساری غلطیاں یکسر بھول کر ہر وقت اس کی شان میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ واللہ! ہم بھی خوب ہیں۔
12 اگست 2008۔ بروز منگل۔
میں ایک دوست کے ساتھ سہ پہر سے پی۔اے۔ایف میوزیم میں تھا۔ رات 9 بجے ہم نکلنے ہی والے تھے کہ میرا موبائل فون بجنے لگا۔ دوسری طرف امی تھیں۔ گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں، ثاقب اور انجم پھپھو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، صبا چاچی کا فون آیا تھا، سعد کو فون کرکے کنفرم کرو۔ میرا دماغ جیسے میرا ساتھ چھوڑ گیا۔ ہاں ہوں کرکے فون بند کیا۔ سوچا، سعد کو کیوں، ثاقب کے گھر ہی فون کرکے کیوں نہ معلوم کروں۔ اس کے گھر فون کیا، ثاقب کی چھوٹی بہن نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا تو روتے ہوئے بولی کہ بھائی اور امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، پتا نہیں کس حال میں ہیں۔ میں نے پوچھا، کہاں ہیں وہ؟ کون ہے ان کے ساتھ؟ تو کہنے لگی کہ ابو گئے ہیں۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور امی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ شاید بچیوں کو نہ بتایا ہو لیکن دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔
(اناللہ وانا الیہ راجعون)
کیسی ناقابل یقین خبر تھی۔۔۔ ثاقب میرا پھپھوزاد بھائی تھا۔ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی۔۔۔ ایک بڑی بہن کی شادی ہوچکی تھی اور باقی تین اس سے چھوٹی۔ مجھ سے کوئی دو سال بڑا تھا۔ خاصا عرصہ ہم نے ساتھ گزارا تھا۔ ہم پہلے ان کے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر ہی رہا کرتے تھے۔ تقریبا دس سال کا وقت۔۔۔ یعنی ہمارا بچپن ساتھ بیتا۔ محلے کے لوگ ہمیں تین بھائی سمجھتے تھے یعنی میں، میرا بھائی اور ثاقب۔ افسوس! وہ ہم سے بچھڑ گیا۔ ایسے کہ ہم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔
ثاقب سے میری آخری ملاقات گزرے جمعہ ہی کو ہوئی تھی۔ صبح میرے دفتر آپہنچا۔ بتانے لگا کہ آج میں نے دفتر سے چھٹی کی ہے۔ تقریبا دو گھنٹے پاس بیٹھا رہا، گپ شپ کرتے رہے۔ پھر ایک مووی کاپی کروائی کہ دوپہر میں آؤں گا فلیش ڈرائیو لے کر تو لے جاؤں گا۔ جمعہ کے بعد اپنی امی (میری پھپھو) کے ساتھ آیا۔ قریب ہی زینب مارکیٹ سے خریداری کرنی تھی۔ مجھے کہتا ہے، تم یہیں ہو نا، میں برابر والی کمپیوٹر مارکیٹ سے کوئی سی۔ڈی لے کر آتا ہوں۔ میں پھپھو کے پاس رہا۔ تھوڑی دیر بعد آیا تو اس کے ہاتھ میں SAM CITY 2 کی ڈی وی ڈی تھی۔ پھر اپنی امی کے ساتھ چلا گیا۔ کیا علم تھا کہ یہ آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
ثاقب نے بی بی اے کیا تھا۔ اسے دو، تین دن پہلے ہی اپنی پہلی تنخواہ ملی تھی۔ دو ماہ ہوئے تھے کام کرتے اور یکمشت دو ماہ کی تنخواہ ملی تھی۔ اس نے پانچ سو روپے صدقے کے لیے دیے تھے۔ سب سے چھوٹی بہن کو اسکول میں داخل کروایا گیا تھا اور اور منجھلی بہن کا اسکول تبدیل ہوا تھا۔ بڑی بہن کا میٹرک امتحانات میں نتیجہ 84فیصد آیا تھا۔ مغرب کی نماز پڑھ کر اپنی امی کے ساتھ بائیک پر نکلا تھا کہ بہنوں کا یونیفارم لے آتے ہیں اور بڑی بہن کے لیے کوئی تحفہ۔ بہادر آباد، طارق روڈ جانا تھا۔ یہ طارق روڈ جارہے تھے اور موت ان کے تعاقب میں دوڑی چلی آرہی تھی۔
ایک واٹر ٹینکر کہیں کسی موٹر سائیکل سوار کو زخمی کرکے بھاگا تھا۔ اس کے پیچھے سارجنٹ تھا، اس لیے ٹینکر کا ڈرائیور اندھا دھند گاڑی چلارہا تھا اور ہل پارک چورنگی کے قریب اس نے ثاقب کی بائیک کو ہِٹ کیا۔ موٹر سائیکل دوسری طرف گری اور دونوں ماں بیٹا ٹینکر کے نیچے آکر موقع ہی پر دم توڑ گئے۔ واٹر ٹینکر والا تو پھر بھی بھاگا چلا جارہا تھا۔ اسی اثناء میں اس نے ایک دوسرے موٹر سائیکل والے کو مارا جو خوش قسمتی سے بچ گیا۔ اسی نے تعاقب کیا اور ڈرائیور کو پکڑا۔
روزنامہ “ایکسپریس” کراچی کی خبر
ثاقب کے ساتھ میری آخری یادگار تصویر، میرے رشتہ طے ہونے کی تقریب کے موقع پر۔

دائیں طرف ثاقب اور بائیں طرف میں (عمار)
حادثہ والی رات میں جب گھر پہنچا تو میرا چھوٹا بھائی اسامہ پہلے ہی حسن (میری دوسری پھپھو کا بیٹا) اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ثاقب کے گھر جاچکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد امی، ابو بھی چلے گئے۔ مجھے گھر میں رکنا تھا، اپنی بہنوں کے پاس۔ رات جیسے تیسے گزری۔۔۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ ثاقب کی بہنیں میرے بہت قریب تھیں۔ میں اور ثاقب تقریبا ایک ہی جیسے تھے۔۔۔ میں بھی ان کے سگے بھائی کی طرح تھا۔ مجھے بار بار خیال آتا رہا کہ اس وقت میرا وہاں ہونا کتنا ضروری تھا۔
کتنا بڑا صدمہ تھا۔۔۔ ان کے گھر والوں کے لیے۔۔۔ ثاقب کے والد کے لیے کیسا غم ہے کہ ان کا اکلوتا بیٹا، ان کا سہارا، جس کے لیے انہوں نے اتنا کچھ سوچا تھا، وہ بھی بچھڑ گیا اور ان کی شریکِ حیات۔۔۔ ان کے ہر دکھ درد غم کی ساتھی۔۔۔ وہ بھی نہیں رہی۔۔۔ کیسا رنج کا پہاڑ ٹوٹا ہے ثاقب کی بہنوں پر کہ نہ ان کا سہارا، ان کا محافظ ان کے پاس رہا نہ ہی ان کی مامتا۔
13 اگست 2008ء۔ بروز بدھ
ظہر کے بعد نماز جنازہ تھی۔ لاشیں سہراب گوٹھ کے ایدھی سینٹر میں رکھوائی ہوئی تھیں۔ صبح موسم خوشگوار اور ابر آلود تھا۔ پھوار پڑنا شروع ہوئی اور موسلا دھار بارش میں بدل گئی۔ رحمت کی بارش۔۔۔! میں دن میں گھر سے ثاقب کے ہاں جانے کے لیے نکلا تو ابو کا فون آیا کہ سہراب گوٹھ والے ایدھی سینٹر پہنچ جاؤ۔ بھیگتا ہوا بس میں سوار ہوا۔ سہراب گوٹھ پہنچا تو بارش تھم چکی تھی۔ باقی لوگ بھی اسی وقت پہنچے تھے۔ میتوں کو غسل دینا تھا۔ وہاں تو جیسے قطار لگی تھی۔ایک میت آتی تھی، ایک جاتی تھی۔ ہر ایک کی اپنی داستان تھی۔۔۔ اپنے غم تھے۔۔۔ وہاں لوگ ہنس بھی رہے تھے، رو بھی رہے تھے۔۔۔
ایدھی سینٹر کے سرد خانے کے باہر کرسی پر بیٹھا ایک شخص کافی رو رہا تھا، دوسرا اسے دلاسا دے رہا تھا۔ ثاقب سے پہلے جس میت کو غسل دیا گیا، وہ اس کے ساتھ تھا۔ پتا چلا کہ رونے والا شخص اس لڑکے کا باپ تھا جس کی میت کو غسل دیا گیا۔ وہ لڑکا صبح گھر سے نکل کر دروازے کے باہر کھڑا تھا کہ بائیک پر دو لڑکے آئے اور اسے گھورنے لگے۔ اس نے بھی انہیں دیکھا۔ پھر وہ مڑے اور ایک نے فائر کیا۔ گولی سیدھا اس کے دل میں جا لگی۔ دل ٹوٹ گیا
وہ لڑکا مر گیا۔۔۔ (شاید کوئی تنظیم وغیرہ کا چکر تھا)۔
میں نے ثاقب کی میت کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی مجھ میں ہمت تھی۔ جب اسے سرد خانے سے باہر لایا گیا تو میں اس کمرہ میں جھانک جھانک کر ہی دیکھتا رہا لیکن قریب جانے کا حوصلہ نہیں ہوسکا۔ جب پہلی بار اس کے پاؤں دیکھے تو لگا کہ جیسے پلاسٹک کے ہوں۔ بالکل پیلے، خون سے خالی۔۔۔ سر سے ناک تک پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وہ حصہ کافی متاثر ہوا تھا شاید لیکن جب پٹی ہٹائی گئی تو سامنے سے ٹھیک ہی تھا۔ اندرونی ہڈی چٹخی تھی۔ جسم پر بھی نشانات تھے۔ واٹر ٹینکر کا بے رحم ڈرائیور اسے روندتا چلا گیا تھا۔ میں بے چینی کے عالم میں باہر ٹہلتا رہا۔
بعد میں امی نے بتایا کہ پھپھو کی بھی سیدھے ہاتھ سے لے کر ٹانگ تک کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کتنا وزنی ہوتا ہے وہ ٹرک۔۔۔ تین ہزار گیلن پانی کی جگہ ہوتی ہے۔۔۔۔ اور پھر اس کا اپنا وزن۔۔۔ میں ٹرک کی تصویریں دکھانے کی کوشش کروں گا۔
غسل کے بعد لاشے لے کر روانہ ہوئے تو میں راستہ بھر یہ سوچتا رہا کہ وہاں جاکر سب کا سامنا کیسے کروں گا؟ ثاقب کی بہنوں کو کیسی تسلی دوں گا؟ صبح تک تو میں ٹھیک ہی تھا لیکن اس سفر کے دوران میری اندرونی حالت متغیر ہونا شروع ہوگئی۔۔۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ میرے آنسو نہیں نکلیں گے۔۔۔ میں میت پر نہیں روتا۔ سوچتا ہی نہیں اتنا۔۔۔ پھر میں سوچنے لگا کہ کیا ایسی بھی کوئی میت ہوگی جس پر میرے آنسو بہیں؟
سفر بہت طویل ہوگیا۔۔۔ فاصلہ طے ہی نہیں ہوتا تھا۔ آخر کار گھر پہنچ ہی گئے۔ کہرام برپا تھا۔ لاشیں اتاری جاچکی تھیں۔ مجھ میں اس وقت اندر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ باہر سڑک کنارے کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد حوصلہ کرکے اس جگہ پہنچا جہاں میت رکھی تھی۔ پردے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پھپھو کی میت کی طرف کسی غیر مرد کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ثاقب کی میت کے گرد ہجوم تھا۔ اس کی بہنیں، رشتے دار سب رو رہے تھے۔ ثاقب کے چہرے پر نور تھا، لبوں پر ویسی ہی دبی دبی مسکراہٹ جیسی زندگی میں ہمیشہ رہا کرتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی بہن کا بڑا حوصلہ تھا۔۔۔ آنکھوں میں آنسو تک نہ تھا بلکہ جو رو روہے تھے، انہیں بھی خاموش کروا رہی تھیں کہ کیوں روتے ہو؟ بھائی کو دیکھو تو سہی، ان شاء اللہ جنت میں جائے گا۔۔۔ کلمہ درود پڑھو۔۔۔ چھوٹی بہنوں نے جب مجھے دیکھا تو روتے ہوئے کہنے لگیں کہ بہت پکی دوستی تھی نا آپ لوگوں کی، اتنا عرصہ ساتھ رہے، آپ کچھ کریں نا۔۔۔ کچھ کریں۔۔۔ اور میں۔۔۔ سر پر ہاتھ رکھوں۔۔۔ دلاسا دوں۔۔۔
وہاں میرا ایک کزن بھی موجود تھا۔۔۔ جس سے ہماری بات چیت بند تھی اور تعلقات میں کافی بگاڑ آچکا تھا حالانکہ ہم لوگ کافی عرصہ ساتھ بھی رہے تھے۔ میں نے اسے بھی روتے دیکھا۔ میں نے ایک فیصلہ کیا، اس کے پاس جاکر ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ اس نے ہاتھ ملایا اور پھر میرے گلے لگ کر رونے لگا۔۔۔ میں نے اسے تسلی دی۔ رنجشوں کی دیوار گرادی۔
میت اٹھانے کا وقت آگیا۔۔۔ نماز جنازہ ادا کی گئی۔۔۔ اعظم بستی کے قبرستان میں دفنادیا گیا۔۔۔ محلے کے پانچ، دس دیندار افراد میت کو دفنانے کے بعد بھی موجود رہے۔۔۔ مردوں کو تلقین کی گئی۔۔۔ اذان دی گئی۔۔۔ دعائیں کی گئیں۔۔۔ گھر والے سب چلے گئے تھے سوائے ہم چند افراد کے۔۔۔ کوئی ایک گھنٹہ قبر کے پاس موجود رہے۔۔۔ ہم جب نئے گھر منتقل ہوتے ہیں تو اجنبی اجنبی سا محسوس ہوتا ہے، مردہ بھی نئے گھر جاتا ہے تو عجیب سا محسوس کرتا ہے۔۔۔ کچھ وقت وہیں ٹھہرا جائے تو اسے راحت ہوتی ہے۔
گھر پہنچے تو کھانا لگ چکا تھا۔۔۔ ہمارے ہاں میت کے گھر والے کھانے کا انتظام نہیں کرتے بلکہ یہ ذمہ داری رشتہ دار انجام دیتے ہیں۔ رات میں نے اسی گھر پر گزارنی تھی۔
پتا چلا کہ ثاقب جہاں کام کررہا تھا، وہاں کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر وغیرہ بھی آئے تھے۔ اسے کام کرتے دو ماہ ہی ہوئے تھے لیکن اس کی کارکردگی کے باعث اس کی تنخواہ میں چالیس فیصد اضافہ کردیا گیا تھا۔ اسے کبھی کبھار کوئی مشکل پیش آتی تو وہ مجھے فون کرکے پوچھا کرتا کہ یہ کام کیسے ہوگا؟ کچھ دن پہلے ہی وہ آکسفورڈ ڈکشنری کی سی۔ڈی کا کہہ رہا تھا کہ وہ چاہئے۔۔۔ اس کے پاس سے سیٹ۔اپ کہیں کھوگیا تھا۔ میں نے اسے کہا تھا کہ ڈھونڈ کر رکھوں گا۔۔۔ لیکن اب کس کے لیے ڈھونڈوں؟
ثاقب سے میری مشابہت کے سبب کچھ لوگ بے اختیار مجھے ثاقب کہہ کر آواز دیتے رہے۔ ایک وقت تو میں امی کے پاس بیٹھا تھا کہ ثاقب کی تائی امی آکر بیٹھ گئیں۔ امی سے کہنے لگیں کہ ثاقب سے بہت ملتا ہے، میں کئی بار اسے ثاقب بلاتے بلاتے رک گئی۔۔۔ اس کا صدقہ ضرور دیدینا۔۔۔ اور ایسی ہی کچھ باتیں کرکے رونے لگیں۔
اگلے دن ناشتہ کے وقت میری دادی میرے پاس بیٹھی تھیں۔ میں نے صرف اتنا پوچھا کہ طبیعت کیسی ہے اور انہوں نے میرے کاندھے پر سر رکھ کر جو رونا شروع کیا۔۔۔۔ سب نے مجھے کہا کہ تم یہاں سے ہٹ جاؤ، تمہیں دیکھ کر ثاقب کی زیادہ یاد آتی ہے۔
ثاقب کی بہن رو رہی تھی۔۔۔ اسے چپ کرانے لگا تو چپ ہوکر کہتی ہے، آپ میرے سامنے نہ آئیں، آپ کو دیکھ کر مجھے ثاقب بھائی یاد آجاتے ہیں۔۔۔ پر، شکر ہے۔۔۔ مجھ میں کم سے کم انہیں اپنے بھائی کی شباہت تو نظر آتی رہے گی۔۔۔!
ثاقب بچپن سے بہت شرارتی تھا جبکہ میں بہت بعد میں ہوا۔
وہ مجھ سے صرف دو سال بڑا تھا اس لیے جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، لفظ “بھائی” اور “آپ” کا تکلف مٹ گیا۔ ہمارے ہاں چھ لڑکوں کا گروپ تھا جو اپنی عمر کے حساب سے ان پر مشتمل تھا: ثاقب، میں، اسامہ، سفیان، حسن، سعد۔ کافی عرصہ پہلے ہم نے ایک رات جاگتے ہوئے اپنے گروپ کا نام “سلور سیون (Silver 7)” منتخب کیا تھا۔۔۔ جاسوسی طرز کا نام۔۔۔ یہ میری تجویز تھی۔۔۔ اگرچہ 7 پر اعتراض بھی ہوا کہ ہم چھ ہیں تو نام میں 7 کیوں۔۔۔ لیکن یہی اچھا لگ رہا تھا اس لیے میں نے ادھر ادھر کے بہانے بناکر ٹال دیا۔۔۔
(تحریر جاری۔۔۔)

جی جناب انٹرنیٹ پر ہمارے علاقے میں لگے کمپیوٹر کی فروخت کے لئے لگے درج بالا بینر کی کافی دھوم ہے! ملیر (ماڈل کالونی اور سعود آباد) میں ایسے کئی بینر لگے ہیں! روزانہ ملیر ہالٹ (شاہراہ فیصل) سے گزرنے والے ایک ایسا ہی بینر وہاں لگا بھی دیکھ سکتے ہیں! انفامیشن ٹیکنالوجی کا یہ عروج کیسا ہے؟ بھائی دس کلو کا ایک پیس دینا! اچھا سا!
ڈرائیونگ سیکھانا جتنا مشکل کام ہے وہ مجھے ہی پتہ ہے، وہ بھی تب جب سیکھنے والے ٹین ہوں اور آپ انکو اور وہ آپکو بےوقوف سمجھتے ہوں۔ پہلے کہتے ہیں کہ سڑک پر کچھ کہو نہ کنفیوز کرتے ہو اور غلطی کر کے کہتے ہیں اب ڈانٹو نہ۔ اسی لئے سیکھانے والے اتنے اتنے پیسے لیتے ہیں۔
Similar Posts:چلو جی جو اڑچن تھی وہ نکل گئی یا بقول شخصے
جمہوری کنویں میں جو چیز پڑی تھی اور یوں تو کئی الیکشنی ڈول نکال چکے تھے مگر جب تک یہ چیز نہ نکلتی کنواں پاک نہیں ہوسکتا تھا وہ شے بھی نکل گئی۔
اب ہم اپنا کام کریں اور جن لوگوں کو ووٹ دیے ہیں ان کو اپنا کام کرنے دیں۔
ووٹ بھی تو ہم نے سڑک بنوانے، مامے کے پتر کو نوکری دلوانے، گٹر کھلوانے، پانی کا کنکشن دلوانے کے لیے دیے تھے،
سوری جی وڈا کام تو انہوں نے کر دیا یہی کنواں پاک کرنے والا۔
اب کھیل ختم پیسہ ہضم چلو جی اپنے اپنے گھروں کو جاؤ
ہاں ہاں وہ بھی بحال ہو جائیں گے تم بڑے ان کے مامے لگتے ہو۔
ایک تو کھپ بڑی ڈالتے ہو۔
ٹکے ٹکے کے لوگ ان کو چار پانچ سالوں میں ایک آدھی دفعہ منہ لگا لو تو جہاں دیکھتے ہیں ہاتھ آگے کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں سلام۔
طالبان علم دشمن کیوں ہیں ؟ علمی درسگاہیں کیوں تباہ کرتے ہیں ؟
تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ، حیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں ، پریشان ہوں میں
جینے کے لیے سوچا ہی نہیں ، درد سنبھالنے ہوں گے
مسکرائے تو مسکرانے کے قرض اتارنے ہوں گے
مسکراوں کبھی تو لگتا ہے جیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ہے
زندگی تیرے غم نے ہمیں رشتے نئے سمجھائے
ملے جو ہمیں دھوپ میں ملے چھاوں کے ٹھنڈے سائے
تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ، حیران ہوں میں
آج اگر بھر آئی ہے ، بوندیں برس جائیں گی
کل کیا پتہ ان کے لیے آنکھیں ترس جائیں گی
جانے کب گم ہوا ، کہاں کھویا ، ایک آنسو چھپا کے رکھا تھا
تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ، حیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں ، پریشان ہوں میں
2o years of dictatorship

17th August,1988

18th August,2008
Done!
Pakistan is in dire straits. It is a nation at a crossroads. Extremism is around the corner. The politicians are corrupt. The nukes could end up in the hands of bin Laden.
Pakistan is in dire straits. Its people demand accountability. Those who claim to protect it and make it prosperous seem busy keeping themselves in power. There is no hope for change since the people have no power. They are stuck under a dictator. If the citizens of Pakistan are to be real agents of change, they need a way forward. They need democracy.
In March of 2007, when lawyers came out on the streets, there were only two available narratives. Those who held a results-based approach argued that Musharraf’s dictatorial regime was the best case scenario, the lesser of the two evils. The evil being, of course, justice, accountability and democracy. They raised the specter of rampant jihadism spreading through the populations. They pointed towards the economic development that had occurred on Musharraf’s watch. They warned that Pakistan had some amazingly corrupt politicians. And that US needed a stable ally, a dependable ally, in our war against terror(ism).
Then there were those of us who trusted the people of Pakistan. We knew that jihadism is not some air-borne virus that people can contract by simply inhaling. We knew that it wasn’t Musharraf who had brought about economic development but the people themselves. We knew that politicians are corrupt everywhere - including the US - so why the exception of dictator for Pakistan? We knew that a partnership can only be among equals. And the will of the people needed to be heard.
Ah. But this so-called Lawyer’s Movement was a big sham, we were told. These are just elites. Where are the “people”? Why can’t the Lawyers bring out the masses? Why do they insist on democracy and justice when the people are more concerned with food and security.
Well. Pakistan just had a slow-burning, people-powered, secular revolution and they forced a sitting dictator - who had the complete confidence and support of the only superpower in the world - out. Peacefully. Without any bloodshed. Without any crazy mullah grabbing the nukes and blowing up the world. Without inflation hitting 10,000,000%. Without any riots. With suicide bombings in Lahore. With two regions embroiled in near civil-war. With the same corrupt politicians in charge. With the unshakeable faith, the belief, that they deserved justice. That they deserved the right to have the power to act. That they were citizens of their country, not keeps.
This is unprecedented. This is historic. This is a momentous time in the history of this nation. It has successfully forced accountability - through peaceful and legal means - on its leaders. The people of Pakistan - lawyers and all - have exercised their agency.
And like every other such exercise - be it the election of 2000 or the upcoming election of 2008 in the US - the outcome is up in the air. And hence, the hope is not in the fate of this particular dictator, it is in the accountability to the Pakistani publics, of their representative. If we really want a secure ally in Pakistan, we would do our best to strengthen the people of Pakistan.
PS. Catch me on Worldview with Jerome McDonnell.
PPS. CM friend TSK finally found a picture of Mush’s departure.

چلو خدا خدا کرکے ایک آمر نے تو ملک کی جان چھوڑی
تمہارا کیا خیال ہے جنرل مشرف کے استعفے کے بعد پاکستان آزاد ہو گیا؟
کیا مطلب ہے تمہارا؟
اگر پچھلے چند روز کے واقعات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے جنرل مشرف سے گلو خلاصی بیرونی جمہوری طاقتوں کی مرضی کے بغیر ناممکن تھی۔ تم نے دیکھا نہیں جنرل مشرف بمقابلہ جمہوریت کی کشمکش میں بیرونی طاقتیں کس طرح اثرانداز ہوئیں۔ کس طرح سعودی سکیورٹی چیف نے پاکستان کا ہنگامی دورہ کیا، کس طرح امریکی سفیر نے تمام کھلاڑیوں سے ون ٹو ون ملاقات کی۔ کس طرح برطانوی اس کھیل کا حصہ رہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنرل مشرف کا نعمل البدل اس سے بھی بڑا غیرملکی ایجنٹ ہو گا؟
تم سچ کہتے ہو اور ثبوت کے طور پر قبائلی علاقوں میں جاری جنگ، ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی، بلوچستان کی افراتفری، شدت پسندوں اور دہشت گردوں کیخلاف طاقت کے استعمال کی تکرار، پٹرول کی قیمت نہ گھٹانے کا فیصلہ، ججوں کی بحالی سے انکار، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری پارلیمنٹ ابھی آزاد نہیں ہوئی۔
احمد فراز نے پچھلے سال ایک انقلابی غزل کہی تھی جس کا ایک شعر ہماری حالت کی عکاسی کرتا ہے۔
غیروں سے کیا گلہ ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے
ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئی
تو پھر ہم آزاد کب ہوں گے؟
ہم آزاد تب ہوں گے جب ہم اپنا بجٹ اور معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے بغیر بنائیں گے، جب قبائلی علاقوں پر اتحادیوں کی بمباری رکوا دیں گے، جب ایران کیساتھ گیس کی ڈيل کرپائیں گے، جب ملک کی قسمت کے فیصلے فرد واحد کی بجائے پارلیمنٹ کرے گی۔
یہ کب ہو گا؟
اگر میڈیا نے غداری نہ کی اور موجودہ حکومت نے بجلی کی سہولت ہر گاؤں میں پہنچا دی تاکہ میڈیا گھر گھر پہچن جائے تو پھر قوم جلد بیدار ہونا شروع ہو گی۔ پھر وہ اپنے حقیقی نمائندے چنے گی جو اس کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ تب تک اللہ اللہ کیجئے، روزے رکھیے، نمازیں پڑھئے اور حج کیجئے۔
ابھی ایک ویڈیو ایڈیٹنگ سے متعلق کافی مزے کی چیز ملی! آپ بھی دیکھے!
پھر کسی کے بیان سے متعلق ویڈیو بنانا کتنا دشوار ہو گا آپکی کیا رائے ہے؟؟؟ یا کوئی رائے نہیں ہے!
جنرل پرویزمشرف کو سات اکتوبر سنہ انیس اٹھانوے کو اس وقت پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم نواز شریف سے اختلافات ہونے کی بناء پراستعٰفی دے دیا تھا۔
بارہ اکتوبر سنہ انیس ننانوے کو جنرل پرویزمشرف نے سری لنکا سے واپسی پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔
جنرل پرویزمشرف نے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔نیب کے روبرو سابق وزرا اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی۔
ستائیس جنوری سنہ دو ہزار کو اعلٰی عدلیہ کے ججوں کے لیے پی سی او جاری کیا جس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ایک درجن کے قریب ججوں کو برطرف کردیا گیا۔
بارہ مئی سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے بارہ اکتوبر کے فوجی اقدام کے خلاف درخواست پر جنرل پرویز مشرف کو تین مہینے کے اندر انتخابات کرانے کے لیے حکم دیا۔
سنہ دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں نیا ضلعی نظاِم حکومت متعارف کرایا جس کے تحت پہلے ملک بھر میں مرحلہ وار انتخابات ہوئے اور چودہ اگست دو ہزار ایک میں اس نظام کے تحت منتخب ہونے والوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔
بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو جنرل پرویز مشرف نے بھارت یاترا سے قبل اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کر کے ان کی جگہ خود صدر بن گئے جبکہ اسی روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کردیا۔
گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک نائن الیون کے واقعہ کےبعد جنرل پرویز مشرف امریکہ کےاتحادی کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کو امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔
پانچ اپریل سنہ دو ہزار دو کو صدر مشرف نے قوم سے اپنے خطاب میں صدارتی ریفریڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔
تیس اپریل سنہ دوہزار کو متنازعہ ریفرنڈم ہوا جس میں جنرل پرویز مشرف صدِر مملکت بن گئے۔
اگست دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لیے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کردی گئی۔
دس اکتوبر سنہ دو ہزار دو کو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہوئے ۔ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف اٹھایا۔ جبکہ انیس نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔
تیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو صدر پرویز مشرف نے نئے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی سے حلف لیا۔
پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کوراولپنڈی میں صدر مشرف کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا تاہم صدر مشرف محفوظ رہے۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اکتیس دسمبر سنہ دوہزار تین کو صدر جنرل پرویز مشرف کی توثیق کے بعد سترھویں ترمیم پاکستان کے آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ سترھویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر مشرف آئندہ سال کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔
یکم جنوری سنہ دو ہزار چار پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے چھ سو اٹھاون ارکان نے صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
چار فروری سنہ دو ہزار چار کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے ’ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے تمام الزامات قبول کرتے ہوئےصدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل کی ہے۔
تیس جون سنہ دوہزار چار کو چودھری شجاعت حسین سے صدر مشرف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔
اٹھائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو صدر پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔
پندرہ جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو صدر مشرف کی جانب سے سرحد اسمبلی میں پاس کیے گئے حسبہ بل کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ۔
پچیس ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو صدر پرویزمشرف کی کتاب ’ان لائن آف فائر‘ْ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب فروخت کے لیے پیش کی گئی ۔
نو مارچ سنہ دوہزار سات کو صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا اور اس طرح صدر مشرف کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔
ستائس جولائی کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہوگئی ۔
پانچ اکتوبر کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد بدعنوانی مقدمات کی واپسی کا قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرکیا گیا۔
دو اکتوبر کو پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ نامزد کر دیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نامزد کردیا ۔
چھ اکتوبر کو ہونےوالے صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف دوبارہ صدر منتخب ہوگئے جبکہ ان کی اہلیت کے حوالے سےصدارتی امیدوار جسٹس وجیہ الدین کی درخواست سپریم کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔
تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔اُنہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔
گیارہ نومبر صدر مشرف نے اسمبلیاں پندرہ نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔
پندرہ نومبر کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کردیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم مقرر کردیا۔
سولہ نومبر کو صدر جنرل مشرف نے نگران وزیراعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔
اُنیس نومبر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
بائیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائراپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔
تئیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔
ستائیس نومبر صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔
اٹھائیس نومبر ایک فوجی تقریب کے دوران صدر مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کردی۔
اُنتیس نومبر صدر مشرف نے سویلئن لباس میں دوسری بار ملک کے صدر کا حلف اُٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔
نو دسمبر صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو اُٹھالی جائے گی۔
پندرہ دسمبر صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کردیا۔
اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کو ناکامی ہوئی۔
پچیس مارچ دو ہزار آٹھ کو صدر مشرف نےوزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کوحلف دلوایا۔
سات اگست کو حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ پنجاب ،سندھ سرحد اور بلوچستان اسمبلی نے الگ الگ قرارداد منظور کی جن میں صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا۔
اٹھارہ اگست کو صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفیْ کا اعلان کردیا۔
بشکریہ ۔ بی بی سی اردو
اس وقت تمام افراد مشرف کے جانے پر خوشیاں منا رہے ہیں! ہمیں کئی ایس ایم ایس مبارک باد کے آ چکے ہیں! ممکن ہے آپ میں سے کئی افراد کے لئے یہ خوشی کی بات ہو مگر میرے لئے نہیں! کیونکہ یہاں ایک بندے کو سزا ہو جاتی تو باقی حاکموں کو بھی نصیحت ہو جاتی مگر اب یہ آسرا ہو گا کہ کر لو جو کرنا ہے بعد میں بھاگنے کا راستہ مل جائے گا! کون سی سزا ہونی ہے!
تقریر کے فورا بعد سرکاری میڈیا نے جو زبان بدلی ہو قابل توجہ ہے! کمال ہے بھائی! اِسے بھی یو ٹرن ہی کہیں گے ناں!
اگلا صدر کون ہو گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے! آیا خود مختار ہو گا یا نہیں، وزیراعظم کا پتلی تماشہ تو ہم کافی عرصہ سے دیکھ رہے ہیں! پی پی پی کا ہو گا یا نون لیگ کا، ویسے آپس کی بات ہے مولانا ڈیزل آج کل اپنے بارے میں کافی خوش فہمی کا شکار ہیں!
by خاور کھوکھر (noreply@blogger.com) at August 18, 2008 11:58 AM
صدر مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید اور چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے الگ الگ ان سے الوداعی ملاقات کی ہے جبکہ آج ٹی وی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ صدر مملکت کے مستعفی ہونے کے بعد اب پی سی بی کے چیئرمین بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔
مزید دیکھتے ہیں کہ صدر مشرف کے وفاداروں میں سے کون کون وفاداری کا حق ادا کرتا ہے۔
صدر مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد آگے کیا ہو گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ابھی شاید کسی کے پاس نہ ہو!
مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد کیا اب جج بحال کر گئے جائیں گا؟
پاکستان کا اگلا صدر کون گا؟
یہ دو اہم سوال ہیں جس بارے ہر پاکستان سوچ رہا ہے، جج بحال ہوں گے یا نہیں اس بات سے قطع نظر بات کرتے ہیں ملک کے اگلے صدر کی جس کے بارے میں سوچ کر میرے پسینے چھوٹے جا رہے ہیں۔ کیا کہیں زرداری کی صورت میں قوم پر ایک نیا عذاب تو نہیں آنے والا؟
میری دعا ہے کہ ایسا کبھی نہ ہو، مگر پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں چھوٹی برائی کو دور کرتے ہوئے بڑی برائی ہمارے گلے پڑ جاتی ہے۔
کاش ایسا دن کبھی نہ آئے جب ہمیں کہنا پڑے کہ تری یاد آئی تیرے جانے کے بعد!!
کچھ دن پہلے میرا یاہو کا میسنجر کرپٹ ہوگیا۔ میں نے یاہو کی سائیٹ سے نیا میسنجر ڈاون لوڈ کیا اور جب انسٹال کرنے لگا تو معلوم ہوا یہ بھی کرپٹ ہوگیا ہے ۔ جس کا صاف مطلب تھا سسٹم میں کوئی وائرس ہے جو یہ کرپٹ ہوگیا ہے۔ اس وقت میرے پاس اے وی جی رجسڑ اور نورٹن ٹریل دونوں تھے ان دونوں نے سسٹم اسکین کیا اور کہا یہاں کوئی وائرس نہیں ہے ۔ خیر کسی طرح بھی میسنجر چلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجبورا نئی ونڈو انسٹال کرکے یاہو کو چلنے کے لیے راضی کیا۔
ونڈو انسٹال کرنے کے دوران غلطی سے یو ایس بھی کو میں نے فارمیٹ کر دیا۔ اسے اوپن کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر فارمیٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جو میں نے نہیں کیا بلکہ قریبا سات ڈیٹا ریکوری کے سوفٹ وئیر آزما کر دوسری ڈرائیو میں ڈیٹا ریکور کر لیا لیکن اب یو ایس بی اوپن کرتا ہوں تو اسے فارمیٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، فارمیٹکرتا ہوں تو ونڈو فارمیٹ کرنے سے انکار کردیتی ہے ۔ اسے میں نے دوسرے کمپیوٹر پر بھی ٹرائی کیا ہے لیکن یہی ایرر آرہا ہے۔
ابھی ونڈو کو کچھ دن ہی گزرے تھے کہ میسنجر کو پھر کیا سوجھی اور کرپٹ ہوگیا۔ اب کی بار یاہو کی سائٹ سے میسنجر ڈاؤن لوڈ کیا تو کرپٹ نکلا۔۔۔۔۔ سوفٹ پیڈیا سے ڈاؤن لوڈ کیا تو وہ بھی کرپٹ ۔۔۔۔
اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ سسٹم میں وائرس ہے لیکن اے وی جی سے دو مرتبہ اسکین کروایا اور اس نے دونوں مرتبہ کہہ دیا کوئی وائرس نہیں ہے ۔ اب سوفٹ پیڈیا سے دوسری سورس کو استعمال کرتے ہوئے میں نے میسنجر ڈاؤن لوڈ کرنے نی کوشش کی تو اس نے مجھے مزید خواری سے بچاتے ہوئے ڈاؤن لوڈ ہونے کی زحمت اور صحیح انسٹال ہونے کی مہربانی کی جو اب تک قائم ہے۔
اس ساری کہانی میں یہ سمجھ نہیں آئی کہ یاہو کی سائٹسے لیا ہوا میسنجر کرپٹ ہوگیا اور دوسری سورس کا میسنجر چل گیا ۔۔ دوسرا مسلہ یو ایس بی کا ہے ۔۔۔۔ اور تیسرا مسلہ وائرس کا ہے جسے اے وی جی بھی پکڑنے سے قاصر ہے۔ حتٰی کہ اب خود اے وی جی کو بھی اسنے تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔ مثلاً جب اے وی جی کا دل چاہتا ہے چل جاتا ہے اور جب چاہتا ہے کرپٹ فائل کی طرح ایک طرف پڑا سویا رہتا ہے۔
by Tuzk.net (noreply@blogger.com) at August 18, 2008 09:14 AM