Click here to send us your inquires or call (852) 36130518

UrduTech Venus

January 29, 2009

علمدار

فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے

’’جس كسى نے كوئى چيز اللہ كے ليے ترك كى تو اللہ تعالىٰ اسے ا س كا نعم البدل اور اس سے اچھى چيز عطا فرمائے گا‘‘

Random Posts

by admin at January 29, 2009 09:44 AM

Karachi Metro Blogs

Firing between Student groups in National College

Just heard through EXPRESS TV that two student groups have clashed near/in National College Karachi. Police is not able to go inside the premises as yet.

by MB at January 29, 2009 08:46 AM

lunatic

HAPPPY BIRTHDAY!!!!! :D
listen m postng 4rm cel so dnt mind the plain weirdnes of ths post! I wantd to cal bt my phone dsnt let me:p töns and töns of prayers! N best wishes 4 u!! M gr8 bro love u alot!!!! Muah muah wish i was there with to celebrate with you.. Hugs!!

by Lunatic.... (noreply@blogger.com) at January 29, 2009 08:11 AM

HAPPPY BIRTHDAY!!!!! :D
listen m postng 4rm cel so dnt mind the plain weirdnes of ths post! I wantd to cal bt my phone dsnt let me:p töns and töns of prayers! N best wishes 4 u!! M gr8 bro love u alot!!!! Muah muah wish i was there with to celebrate with you.. Hugs!!

by Lunatic.... (noreply@blogger.com) at January 29, 2009 08:11 AM

علمدار

دنیا کیا ہے؟


دنیا دارالعمل اور آخرت دار جزا ہے، تو مومنوں کو بدلہ جنت اور کافروں کو جہنم کی صورت میں ملے گا۔

تو جب جنت طیب اور اچھی چیز ہے تو اس میں داخل بھی وہی ہوگا جو کہ اچھا اور طیب ہوگا اور پھر اللہ تعالیٰ طیب اور پاک صاف ہے تو وہ قبول بھی طیب اور پاک صاف چیز ہی کرتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمانے کےلئے مصائب اور فتنہ میں ڈالتا ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ مومن کون اور کافر کون ہے اور جھوٹے اور سچے کے درمیان تمیز ہوسکے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دینگے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو معلوم کرلے گا جو کہ جھوٹے ہیں‘‘ العنکبوت1-2

تو کامیابی اور نجات اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک کہ امتحان نہ ہوجائے اور طیب خبیث سے علیحدہ نہ ہوجائے اور مومن اور کافر کا پتہ نہ چل جائے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:
’’جس حال پر تم ہو اسی پر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کہ نہ چھوڑدے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک کو الگ نہ کردے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاہ کردے گا‘‘ آل عمران 179

وہ آزمائش جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور کافر کے درمیان تمیز ہوسکے اس کا ذکر اس فرمان میں کیا ہے:
’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کرینگے دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے، اور ان پر صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے جنہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، ان پر ان کے رب کی رحمتیں اور نوازشیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ البقرۃ 155-157

تو اللہ تعالیٰ بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا اور صبر کرنے والوں سے محبت کرتا اور انہیں جنت کی خوشخبری دے رہا ہے۔
اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہاد کے ساتھ بھی آزماتا ہے فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟‘‘ آل عمرآن142

اور اسی طرح مال واولاد بھی فتنہ ہیں جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مبتلا کرتا ہے تاکہ یہ معلوم کرلے کہ کون شکر کرتا اور کون ناشکری کرتے ہوئے ان میں مشغول رہتا ہے فرمانِ ربانی ہے:
’’اور تم اس بات کو جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایک امتحان کی چیز ہیں اور اس بات کو بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے‘‘ الانفال/28

اللہ تعالیٰ بعض اوقات مصائب اور بعض اوقات نعمتوں کے ساتھ آزمائش میں ڈالتا ہے تا کہ یہ پتہ چل سکے کہ کون شکر گزار اور کون ناشکرا اور کون اطاعت گزار اور کون نافرمان ہے تو پھر انہیں قیامت کے روز بدلہ دے گا –

فرمان ربانی ہے :
’’ہم آزمائش کے لۓ ہر ایک کو برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری طرف لوٹاۓ جاؤ گے‘‘ الانبیاء / 35

اور پھر یہ آزمائش بھی ایمان کے اعتبار سے ہوتی ہے تو لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی پھر اسے کم درجے کی پھر اس سے کم والے کی ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’مجھے اتنا تیز بخار ہوتا ہے جتنا کہ دو آدمیوں کو ہوتا ہے‘‘ صحیح بخاری حدیث نمبر 5648

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کئی قسم کی آزمائش میں ڈالتا ہے ۔
بعض اوقات تو انہیں مصائب وآلام اور فتنے میں ڈال کر امتحان لیتا ہے تا کہ مومن اور کافر اور اطاعت گزار اور نافرمان اور شکر گزار اور ناشکرے کا پتہ چل سکے ۔
اور بعض اوقات جب اس کے بندے نافرمانی کرتے ہیں تو وہ اپنے بندوں کو مصائب میں مبتلا کر کے انہیں سکھاتا ہے تا کہ وہ اس نافرمانی سے باز آ جائیں۔
جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
’’تمہیں جو کچھ بھی مصیبتیں آتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے اور وہ تو سب باتوں سے تو درگزر فرما دیتا ہے‘‘ الشوری / 30

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے :
’’اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ اپنے رب کے سامنے جھکے اور نہ ہی انہوں نے عاجزی اختیار کی‘‘ المومن / 76

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحیم ہے اور امت پر بار بار آزمائش لاتا ہے تا کہ وہ واپس لوٹ آۓ اور گناہوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو ترک کر دے تا کہ اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور کیا ان کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنسے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ ہی نصیحت قبول کرتے ہیں‘‘ التوبہ / 126

اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ گناہوں کی سزا دنیا میں ہی دیتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ لوگ تزکیہ نفس کر لیں اور موت سے پہلے پہلے اللہ کی طرف رجوع کر لیں–
’’اور یقیناً ہم انہیں قریب کے اور چھوٹے عذاب کے علاوہ چکھائیں گے تا کہ وہ لوٹ آئیں‘‘ سجدہ / 21

اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مصائب میں اس لۓ مبتلا کرتا ہے کہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی برائیاں ختم کرے، جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
’’کسی بھی مسلمان کو کوئی تکلیف اور بیماری غم اور پریشانی وافسوس حتی ٰکہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کی بناء پر اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘ صحیح بخاری حدیث نمبر 5641 صحیح مسلم.

بحوالہ: الاسلام سوال و جواب

Random Posts

by admin at January 29, 2009 06:47 AM

افتخار اجمل

اسرائیل کے خلاف پاکستانیوں کا پہلا احتجاج

ڈاکٹر وہا ج الد ین ا حمد صاحب نے میری تحریر ” برطانیہ کی بندر بانٹ اور صیہونیوں کی دہشت گردی” پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح شروع دن ہی سے پاکستانی قوم نے فلسطین کے حق میں آواز اُٹھائی ۔

“محترم ۔ اسرایل کی تاریخ لکھتے رہیں ۔ بہت اچھی معلومات ہیں اور انکا جاننا آج کے وقت میں ضروری بھی ہے ۔ مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ 1948ء میں اسرائیل کے وجود میں آنے پر لاہور کے کالجوں کے طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا تھا اور میں بھی اس میں شامل تھا گو مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا بس یہی کہ ہم فلسطینی مسلمانوں کے حق میں ہیں ۔ میں اسلامیہ کالج میں نیا نیا داخل ہوا تھا”

وہا ج الد ین ا حمد صاحب جو اعلٰی پائے کے نیورو سرجن ہیں سے میرا تعارف اُس وقت ہوا جب انہوں نے اگست 2006ء میں بلاگ لکھنا شروع کیا ۔ وہا ج الد ین احمد صاحب ریاست بھوپال کے قصبہ سَوگر میں غالباً 1933ء میں پیدا ہوئے ۔ وہاں سے ہجرت کر کے ان کے خاندان نے جموں کشمیر کے علاقہ بھمبر سے منسلک پنجاب کے قصبہ کوٹلہ میں سکونت اختیار کی جہاں انہوں نے جموں کشمیر کے اس حصہ کو آزاد ہوتے دیکھا جو آجکل آزاد جموں کشمیر کا حصہ ہے ۔ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انہوں نے ڈھائی سال صوبہ سرحد میں ملازمت کی پھر اعلٰی تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے ۔ اس کے بعد مزید تعلیم کیلئے امریکہ گئے جس کے حصول کے بعد امریکہ کے ہی ہو کر رہ گئے ۔

by افتخار اجمل بھوپال at January 29, 2009 04:12 AM

Aamir Atta

Warid Receives Equity Investment of $ 250 Mln

warid_new_logo Warid Receives Equity Investment of $ 250 MlnWarid Telecom has confirmed the injection of US 250 million dollars (Rs. 20 billion) equity by its joint shareholders Abu Dhabi Group and Singtel, reports Dawn Newspaper citing a statement issued by company.

Statement said that Warid has aggressively penetrated the Pakistan mobile communication services market with huge capital expenditure, which has enabled it to capture market share of 18.8% (as of Dec 08) and coverage in over 450 cities and 7,200 towns across Pakistan.

Company says that equity injection will be used to further enhance the Company’s network coverage with the objective to provide quality services to its customers.

Copyright © 2008 ProPakistani

Similar Posts:

by ProPakistani at January 29, 2009 12:47 AM

Telephonic Banking System to be Launched for Overseas Pakistanis

Governor State Bank, Saleem Raza in a briefing to Senate Standing Committee on Finance said that Government will introduce “telephonic banking system” for overseas Pakistanis to encourage and promote remittances for the economic development of country.

State Bank of Pakistan briefed that the telephonic bank system would facilitate the families of the overseas Pakistanis and it would also discourage the sending of remittances through unofficial channels like “Hundi system”.
Such a Telephonic Banking System is going to help building foreign exchange reserves in the country.

We know that there is an online banking system available for overseas Pakistanis, where they can open/operate a bank account in Pakistan from abroad.

Via [The Nation]

Copyright © 2008 ProPakistani

Similar Posts:

by ProPakistani at January 29, 2009 12:33 AM

Future of Postpaid Market in Pakistan

ufone_postpaid Future of Postpaid Market in PakistanIn Pakistan, it’s been long time that we have not seen longer investments in the post-paid segment of Telco market of Pakistan. The main reason for ignoring Post-Pay market is ARPU and “instant payment as You Use” and list goes on…
The future of Pakistani Telco market is vulnerable (for postpaid segment at least) and will not be opportunistic in any sense to cellular mobile operators. The main reasons for not having confidence on Post-Paid market in Pakistan are:

  • Bad Debts
  • Cost of Recovery Resources
  • Customer Loyalty cost is High
  • Lack of vigilant billing systems

Bad Debts:

Bad debts are always primary interest to Telco’s in postpaid segment of market. Because, most of the customers refused to pay bills or if they pay bills they pay lump sum amount to recovery agent and deny paying any further dues for using services of any particular mobile operator.

Cost of Recovery Resources:

Cost of recovery resources include: human resource hiring, T.A / D.A etc to build efficient recovery resources in the city and in fact this include all over Pakistan. Telco’s are no more interested to invest in this context of their company resources, because when they compare these resources with prepaid investments , cost might equal to a launching a service in prepaid segment as compare to postpaid recovery resources development, where especially, they are not even sure that users will pay the complete amount or vice versa.

Customer Loyalty cost is high:

The cost of customer loyalty is too high in postpaid segment, because postpaid customers are mostly corporate customers and building loyalty for them is too expensive, because corporate sector has separate attitude to deal with.
Deals like Loyalty Cards discounts, lunch / dinner discounts, travelling air tickets discounts are always handled by redemption of redeem points. But these redeem points are again extra cost to company and when company compares this prepaid segment as cost goes significantly high.

Lack of Vigilant Billing Systems:

The billing systems are too weak to provide customer about their updated (real time) information of their usage and mostly customers get charged invalidly. Billing systems like convergent billing systems provide facility of charge customer in actual usage. But again unfortunately, Telco’s are not interested to invest in billing systems as postpaid market overhead is more than prepaid market.

I believe that postpaid segment will not see an end by any of the mobile operators in Pakistan, but there will be no heavy investments in this segment of market except smart solutions offerings like “BlackBerry” or “Mobile 2.0”, where Mobile 2.0 will take almost more than half decade in Pakistan to be adopted by corporate sector.

As it is said by some expert “that every difficulty comes with opportunities”, so if any of mobile operator invest in this segment intelligently in a way that they are able to flourish the market in a way like prepaid is on its peak, for sure they will reap the fruit.

There is a strong rumor in the market that one of multinational mobile operator in Pakistan is working on grasping this opportunity, Let’s See what Happens!!

Copyright © 2008 ProPakistani

Similar Posts:

by ProPakistani at January 29, 2009 12:08 AM

راشد کامران

دو نئے کھلونے

گذشتہ دنوں دو نئے کھلونے ہمارے کلیکشن کا حصہ بنے تو سوچا کیوں نا تفصیلات بلاگ کی جائیں‌تو جناب ایک تو ہے ہمارا باون انچ ایچ ڈی ٹی وی اور دوسرا بلیو رے پلیر۔
ٹی وی خریدنے کے لیے تو کافی سے زیادہ ریسرچ کرنی پڑی کیونکہ اب اتنے زیادہ متغیر ٹی وی کے میعار کا حصہ بن گئے ہیں کہ ٹی وی کا انتخاب کرنا بھی اب ایک تیکنیکی موضوع معلوم ہوتا ہے۔ خیر جناب کافی سارے برانڈز پر ریسرچ کرنے کے بعد میعار اور قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے سام سنگ پر نظر انتخاب ٹہری اور یہ والے حضرت ٹی وی اور یہ والے بلیورے پلیر صاحب کو گھر میں داخلے کی اجازت مل گئی۔

سام سنگ ایل این 52 اے750  کے اس ماڈل کی سب سے اچھی بات اس کا 120 ہرٹز ہونا اور ساتھ ساتھ اس کا کنٹراسٹ ریشو ایک کے مقابلے میں پچاس ہزار ہے جو اچھی کوالٹی کی پکچر کے لیے بہت ضروری ہے  خاص طور پر جب آپ ہائی ڈیفینیشن کو خوش آمدید کر رہے ہوں‌ اور اس کا ریسپانس ٹائم بھی صرف 4 ملی سیکنڈ ہے جو تیز بدلتے مناظر سے گھوسٹ اثر ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔سام سنگ کے اس ماڈل میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ اس کا نیٹ ورک انٹرفیس تھا جس کی بدولت نہ‌صرف یہ کہ انٹر نیٹ سے کچھ آر ایس ایس فیڈز ٹی وی پر دیکھی جاسکتی ہیں بلکہ گھر کے کمپیوٹر پر موجود تصاویر اور ویڈیوز بھی لوکل نیٹ ورک کے ذریعے ٹی وی پر دیکھی جاسکتی ہیں‌۔ اسکے علاوہ 3 ایچ ڈی ایم آئی، 2 کمپونینٹ، 1 اےوی، 1 وی جی اے اور 1 یو ایس بی پورٹ‌کی سپورٹ کے ساتھ یہ بہت ہی شاندار مشین ہے اور ٹی دیکھنے کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔

From Blog

دوسرے صاحب یعنی سام سنگ پی-2550 بلیو رے پلیر بھی خوب ہیں۔ بلیو رے کوالٹی تو محسوس کرنے کی چیز ہے اور ایک دفعہ جب آپ یائی ڈیف پر ایکشن مووی مثلا دی میٹرکس دیکھ لیں تو پھر سنیما جانے کی ضرورت نہیں‌رہتی۔ اس بلیو رے پلیر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بھی انٹر نیٹ سے متصل رہتا ہے‌ اور اپنے آپ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے علاوہ نیٹ فلکس سے مووی براہ راست اسٹریم کرنے اور پینڈورا ریڈیو سے آڈیو اسٹریم کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
ایچ ڈی ایم آئی، یو ایس بی اور آپٹیکل ڈیجیٹل آڈیو آؤٹ پٹ کے ساتھ بلیو رے کے شائقین کے لیے یہ ایک بہت ہی بہترین پلیر ہے۔

From Blog

by راشد کامران at January 29, 2009 12:08 AM

January 28, 2009

Aamir Atta

Details of New System for SIM Verification and its Background

illegal-sims-300x221 Details of New System for SIM Verification and its BackgroundWe know that cellular operators of Pakistan did their best in utilizing every possible channel for selling their connections, and for sure they succeeded in it. But during all this they didn’t focus much on verification of subscribers’ data that resulted in increased concerns of law enforcement agencies, as there were plenty of un-registered SIMs that were not associated to any person.

Despite series of procedures adopted by PTA to address the situation, cellular companies failed to comply with them and kept on focusing on sales instead of subscribers’ verification.

An Standard Operating Procedure (SOP) was issued on 28th June 2005 where mobile companies were required to get their data verified through NADRA database and issue new connection after due verification. In May 2007, a directive was issued by PTA having split the verification in two parts i.e. “New Connection Sale” and “Cleaning of Old Data” with clear dead lines for mobile operators to complete the task. As a result significant amount of old data was cleaned through NADRA database and considerable improvement observed in new connections sales through the franchisees only.

In January 2008, Ministry of IT & Telecom issued a Policy Directive under section 8(2)(c) of the Pakistan Telecommunication (Re-organization) Act 1996, which replicates the procedure already in place for verification of mobile subscribers’ information. In light of the policy directive, a revised Standing Operating Procedure (SOP) was issued inline with the existing policy for immediate implementation by the Cellular Mobile Operators.

To ensure the implementation of SOP, a number of measures were initiated which include meetings with law enforcement officers, business communities and sales representatives and conduct of country wide surveys/inspections through PTA Zonal Offices. About 106 raids were conducted, 853 Franchises were inspected, 4108 retailers were inspected. In the process around 1425 SIMs were confiscated and 102 people were arrested who were involved in illegal business.

Deployment of Online Verification System

The cellular operators are (were) verifying their data through NADRA in batches, which at time becomes a lengthy and time consuming process. For convenient, easy and effective verification different options were explored and finally SMS based verification system was agreed by PTA, Mobile operators and NADRA. The systems was deployed with Mobile operators at selected outlets. Its expansion to all customer service centers, franchisees and registered retailers is still in process.  Around 15% sale is being made through this system.

Measures undertaken by PTA across the country resulted in following actions:-

  • The data of mobile subscribers’ antecedents for connection sold upto 30th November 2008 has been verified through NADRA. A total of 8.23 million unverified connections have been blocked.
  • As a policy, 10 connections on single CNIC are allowed per mobile operator. The excess connections on single CNIC have been regularized through a media campaign. Uptill now 2.92 million excess connections have been blocked. (Total Connections blocked 11.15 millions)
  • To have a control on illegal sellers of mobile connections, mobile operators have now registered all authorize franchisee and retailers.

New System of Activation of SIMs after Verification

To ensure that the mobile connections are being sold to genuine customer with valid documentary proof, PTA in collaboration with the stake holders was planning to introduce “Inactive SIMs” in the market. The activation of the SIMs will take place after verification of subscriber’s antecedents from NADRA.

The sale outlets that are the franchisees, retailers and mobile company customer service centers will sell inactive SIMs. After the sale of inactive SIM has been made the customer will call at call center of mobile company at 789 from that SIM .It would be a free call. Call center representative will ask few questions to verify customer particulars. If the answers are correct the SIM will then be activated. Parameters of the proposed system are:-

  • Sale of non-active SIM by sale outlets after completing mandatory formalities.
  • Customer given an instructions card highlighting activation procedure.
  • In non-activated mode, SIM programmed to dial call centers.
  • Maximum activation time allowed is 24 hours.
  • CMTO Call Center to order activation after verification.

The system will be functional in the country from February 1 2009, and will have following major advantages:-

  • Efficient and effective verification procedure.
  • Simple and easy deployment.
  • Enhanced authentication parameters since it caters for secret questions.
  • The interest/business of franchisee/retailer will not change.
  • Efficient utilization of call based online verification system whereby the activation can be done quickly and accurately.
  • Centralized control and responsibility will be with operators. Convenience and confidentiality of customer is maintained.

Procedure for Getting/ Purchasing a New SIM after 1st February 2009

  • Customer to visit the Customer Service Center/ Franchisee/ Retailer
  • Upon confirmation of original CNIC/passport of the customer, Cellular Services Agreement Form (CSAF) will be provided
  • Customer to fill the CSAF alongwith thumb impression and hand it over to the sales representative
  • New non-activated SIM will be issued to the customer
  • Customer to dial “789” for activation of his/her SIM
  • Upon successful confirmation of few queries by call center representative, SIM will be activated
  • In case of non confirmation, customer will be asked to visit nearest NADRA swift center.

sim_verification_system Details of New System for SIM Verification and its Background

Copyright © 2008 ProPakistani

Similar Posts:

by ProPakistani at January 28, 2009 11:53 PM

جہانزیب

تبدیلی

امریکہ میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، اس وقت سب سے بڑی تبدیلی وہائٹ ہاؤس کے اندر آئی ہے جہاں لورا بش اور جارج بش کی بجائے براک اوبامہ اور میشل اوبامہ سوتے ہیں ۔ باقی تبدیلیوں کی ابھی صرف امید ہے ۔بین الاقوامی سطح پر “سر منڈاتے ہی اولے پڑے” کے مصداق اوبامہ کے صدر نامزد ہوتے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کر دی،اپنی آبائی ریاست ہوائی میں چھٹیاں مناتے ہوئے اوبامہ سے جب اس بارے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ۔جبکہ اِس سے پہلے ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ پر براک اوبامہ کھل کر اِس واقعہ کی مذمت کر چکے ہیں ۔بعد میں بھی غزہ کے حالات پر بات کرتے ہوئے روایتی امریکہ کی طرح اس سب کا الزام حماس کے سر دھر گیا ۔
اِس کے بعد ایک اور بین الاقامی محاذ جو امریکہ کو درپیش ہے” پاکستان” وہاں پر امریکی لائحہ عملی میں جیسے کہ پاکستان کے بہادر وزیرِ اعظم سوچ رہے تھے کہ براک اوبامہ کے آنے سے شمالی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملے بند ہو جائیں گے، یہاں بھی کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے ۔ امریکی ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ گیٹس نے سینٹ کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر حملے جاری رکھیں جائیں گے ۔ اور ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے کہ یہ حملے روک دئے جائیں،کیونکہ یہ حملے کافی نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں ۔سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سینیٹر کارل لِیون نے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا حکومت پاکستان کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے؟ تو رابرٹ گیٹس نے اس کا اثبات میں جواب دیا ۔
اب پتہ نہیں یوسف رضا گیلانی اگلے امریکی انتخابات کا انتظار کریں گے

by جہانزیب at January 28, 2009 11:35 PM

بزم اردو

laughter خیال پارے

لافٹر چینل  ٹیلیویژن کے مختلف چینلوں پر ان دنوں تفریحی پرو گراموں کی باڑھ سی آ گئی ہے ناچ گانوں اورفلمی نغموں کی پیشکش سے قطع نظر چند صحتمند پروگرام بھی نر کئے جا رہے ہیں ان میں لافٹر چینل کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ انسان اب روزمرّہ کی مصروفیات اور ذہنی تناؤ کے عالم میں ہلکی پھلکی تفریح کی تلاش کر تا ہے اور یہ اسے اس قسم کے پروگراموں میں مل جاتی ہے جو حالاتِ حاضرہ پر طنز و تشنیع کے ذریعے اس کے لئے

by Dr. Mohammad Asadullah (zarnigar2005@yahoo.com) at January 28, 2009 11:35 PM

Pak Bloggers

MSN Messenger For Linux

Pidgin internet messenger on Ubuntu allows signing in MSN Messenger, Yahoo Messenger and Google Talk but it does not give you a feel like you are using an instant messenger. Microsoft does not provide a Linux version of MSN Messenger. Using these softwares you can enjoy msn instant messenger on Linux just as on Windows.

KMess


KMess is an alternative MSN messenger client for Linux. It has many features and its interface is almost same as Windows Live Messenger. The main features include

  • Display picture transfers
  • Fast file transfer
  • Custom emoticons and nudges
  • Winks and offline message receiving
  • Rich/ colourful chat styles and logs
  • Live mail email notifications

aMSN


aMSN is also another free open source MSN clone for Linux. The main feature of aMSN include

  • Voice clips
  • Offline messaging
  • Display picture
  • Custom emoticons
  • Webcam support
  • Signing into more than one account at a time
  • Normal and animated emoticons with sounds
  • Time stamping and chat logs
  • Conferencing support

aMSN has many skins to choose from and also have many plugins. So you can add many more features that you like in aMSN using plugins available at aMSN website.

Emesene


It is also very similar to MSN messenger for Windows and is very easy to use for new users. The GUI is very clean and easy to use and you can customize it using themes, smileys, sounds, GUI and conversation formats. The main feature include

  • Tabbed chat
  • Custom emoticons
  • File transfer
  • Offline messaging
  • Nudges
  • Multilanguage GUI
  • Plugins
  • Webcam
  • Winks

To install KMess, aMSN and emesene visit their websites or use the universe package repository in Synaptic Package Manager in Ubuntu.

by Sohail at January 28, 2009 11:08 PM

Aamir Atta

No Samjhota with ADs

mobilink_68_paisa-300x230 No Samjhota with ADsRecently, mobilink has launched new package “Jazz Budget” with tag line “No Samajhota”. The package is no doubt great deal for Jazz customers and good step to achieve value for Mobilink once again.

Ad developed by Mobilink is also catching to viewers and Mobilink users all over the Pakistan. But, unfortunately; in the context of brand management they did blunder mistake in the ad, if you see this ad carefully; you will come to know that at every “Samajhota whistle” models are equipped with brand colors i.e. Indigo, Red and Yellow etc. This can easily be found in Model accessories like Mobile phones, Ear Rings, wardrobe collection etc.

This simply depicts that they are showcasing their own services and asking for no Samjohta. There is also possibility that it can come in the mind of every person that what they done in that ad, but professionals from advertising industry or relevant industry can easily identify the brand color discrepancy in the ad.

Definitely, they will not revamp the ad but this could give them alarm for next ads, where brand color management could be handling in intelligent way. Though there ad was very appealing and to cater general public viewing and they will not do any SAMJHOTA to that.

Copyright © 2008 ProPakistani

Similar Posts:

by ProPakistani at January 28, 2009 11:02 PM

شاہدہ اکرم

Pakistaniat

HDF: Stand With Those Who Build Schools

Adil Najam

A friend who is very active in the Human Development Foundation (HDF) asked me to carry the fund-raising appeal that we have carried in our side-columns for nearly a month. Although these funds are not being raised directly by ATP, I do believe that this is a good cause and would urge those who can to please contribute, in whatever amount you can.

This was not my intent when we first used this widget, and it certainly was not HDF’s, but events in this last month have highlighted just how important schools and education is. Let us all stand with those who build schools, and against those who destroy them.

There are those who are shaken by the constant focus we have kept over the last few days on what the Taliban elements are doing in Swat to schools, and in killing Pakistanis and Muslims. As proud Pakistanis, we must stand vigilant and speak out against that which brings disrepute to and threatens our country, just as we take joy in that which brings us pride.

The bad news is that this is really bad news and very seriously bad news and it is now consistent and constant. We highlight it because the majority of Pakistan is not like this and because we all must make sure that the majority of Pakistan never becomes like this. The good news is that there are far more people and institutions in Pakistan building education and schools (just a few examples covered in ATP here, here, here, here) than there are destroying schools. Let us all please make sure that it always remains so. In fact, we must make sure that no schools are destroyed ever, anywhere.

To learn more about HDF, please see this wonderful PBS documentary. Note, especially, the introductory lines. Makes you think about what a few good (or bad) deeds can do to how the world views you:

So, to repeat myself, I believe this is a good cause and would urge those who can to please contribute. Obviously there is no dearth of good causes, and I would urge you to contribute and help any and all of them. If not the HDF, help out any other group that you know better and is doing good work, especially in education. But, please, do whatever you can for the education of Pakistan’s young. For the sake of all our futures.

P.S. I actaully know that many of our readers are major contributors to the HDF and to many many other good causes, but also that giving over the internet is a new a mysterious enterprise to some. However, having studied philanthropy, especially by Pakistanis, I also know that the habit of giving, even in small amounts, makes a huge positive difference to causes as well as to those giving themselves.

by Adil Najam at January 28, 2009 09:23 PM

شاہدہ اکرم

غمخوار

روسی کوسٹ گارڈ نے جاپانی ماهی گیروں کی کشتی اور مال ضبط کر لیا ـ

روسی کوسٹ گارڈ نے جاپانی ماهی گیروں کی کشتی اور مال ضبط کر لیا ـ
جاپانی وزرت خارجه کو معلوم هوا ہے که منگل کے روز شام آٹھ بجے کے قریب روسی کوسٹ گارڈ نے ایک جاپانی کشتی کو جس پر دس ماهی گير سوار تھے کو سمندر میں روک لیا ہے ـ
روسی گورمنٹ نے وزارت خارجه کی انکوائیری کے جواب میں لکھا ہے كه
١٢٢ ٹن کا جہاز نمبر ٣٨ یوشی مارو روس کے سمندر میں تھا ـ
تتوری کین کے مطابق یه جہاز تتوری کین کی کیکڑا ماهی کیر یونین کی ملکیت ہے اس جہاز یوشی مارو نے هفتے کے روز صبح ١٠ بجے تتوری کین کے ساحل کو چھوڑا تھا ـ
ماهی گیرتتوری کین سے تقریباً ٤٨٠ کلو میٹر کی دوری پر کوئین کرائب نام کے کیکڑے کے شکار پر تھے ـ
اطلاعات کے مطابق ماهی گیروں میں کوئی زخمی نہیں هے اور ناں هی کسی کو هراساں کیا گیا ہے ـ

by ایڈیٹر at January 28, 2009 08:40 PM

شمالی جزائیر کے لیے روانه هونے والے امدادی کارکناں ویزا کی وجه سے واپس ـ

شمالی جزائیر کے لیے روانه هونے والے امدادی کارکناں ویزا کی وجه سے واپس ـ
جاپان میں شماله علاقه جات کے نام سے جانے والے روسی مقبوضه جزائیر کو روانه هونے والا امدادی کارکنوں کا گروپ اس وقت کیسل کر دیا گيا جب روسی ایمیگریشن نے گروپ ممبران سے ایمبارگیشن کارڈ بھرنے کے لیے کہا ـ
وزارت خارجه کے مطابق مندجی ذیل جزائیر میں کچھ شرائط کےساتھ جاپانی لوگوں کا داخل بغیر ویزے کے هوتا ہے
کوناشیری ، ایتروف ، حابومائی ، شیکوتان ـ
حکومت کا خیال ہے که روس اپنے کنٹرول کو ان جزائر پر سخت کرنے کے روجحان کی طرف هے ـ
روسی احکام کا کهنا ہے که ٢٠٠٦ کے قوانیں کے مطابق انہووں نے ایمبارگیشن کارڈ بھرنے کا تقاضا کیا هے
لیکن جاپانی حکام ک مطابق ٢٠٠٧ اوع ٢٠٠٨ میں ایسا نهیں هوتا رها ہے
امدای کاکنوں نے ایمبارگیشن کارڈ پھرںے سے انکار کر دیا ہے
کیونکه خیال کیا جاتا ہے که اگر ایمبارگیشن کارڈ بھر دیا گيا تو یه ایک قسم کا جاپانیوں کی طرف سے ان جزائیر پر روسی قبضے کو تسلیم کرنے والی بات هو جائے گی ـ
جاپانی امدای کارنوں کا یه گروپ ان جزائیر کے لوگوں کے لیے دوائیاں اور پٹیاں
لے کر جارها تھا ـ

by ایڈیٹر at January 28, 2009 08:40 PM

فلپینی لوگوں کي جاپان میں خادم کی نوکری کے لیے درخواستوں کی بھر مار ـ

فلپینی لوگوں کي جاپان میں خادم کی نوکری کے لیے درخواستوں کی بھر مار ـ

منیلا : ٣٠٠٠ سے زیادھ لوگوں نے جاپان میں نرس یا خدمت کی نوکری کے لیے فلپاین اورسیز ایپلامنٹ کے دفتر میں درخواستیں جمع کروائی هیں ـ
ڈیل کے مطابق جاپان ميں ١٠٠٠ نرسوں اور خدمت گاروں کی نوکری کے لیے درخواتیں طلب کی گئیں تھیں
٢٠٠ نرسیں اور ٢٥٠٠ خدمت گار انے والی مئی میں منتخب کیے جائیں گے ـ
جاپان میں اتے هی ان لوگےں کو چھ ماھ کا جاپانی زبان کا کورس کروایا جائے گا اس کے بعد یه لوگ جاپانی کے معیار کے مطابق نرسنگ اور خدمت کرنے کی تربیت لیتے هوئے کام کریں گے ـ

by ایڈیٹر at January 28, 2009 08:39 PM

Ayesha

Abdul Sami

Conspiracy Files… lean mean GREEN machine!

The world is definitely going green. From carbon foot prints to using alternative fuels, everybody who can afford it is jumping the band wagon. But is it good to be green?

Common sense says yes… but I thought common sense was sense that was not so common. Then why is every one actually saying this? A flaw in the system? A loop hole within the metrics of common sense? Perhaps yes, or perhaps it is actually insensible to be green!

Green represents trees, and plants, and weeds, and grass. And they produce Oxygen and take in Carbon Dioxide and hence make the world a better place, and greener!

However, it is not as simple as it sounds. The trees are out to get us. World historical records can easily prove that the highest carbon dioxide levels this planet has ever experienced were seen during the times the great desert of Sahara was a huge rain forest. If this is indeed true, isn’t the whole green model flawed?

It surely is. I will not say much and I will not boggle your minds with details and facts, but the truth is… the trees are living beings with a very conscious state of mind. They have gone thus far unnoticed but they are not just sitting there. They are living and they are spreading themselves, slowly and steadily!

For years the only people who knew and appreciated this fact were the vegetarians. The secrets were passed on from generation to generation, and they adapted themselves to the outer world as lovers of animals, gentle beings, who only ate plants to avoid hurting the animals. But they had sworn secrecy and could not let it out, that they were a secret force trying to prevent the unforeseen massacre the plants are about to cause to the planet.

Sadly, as with all secret societies, as the legends were passed from generation to generation, the secrets were lost. Being vegetarian became a ‘cool thing’ and in fact many so called ‘tree huggers’ took over the title of vegetarians to throw off the whole millennia long scheme.

Back in the sixties figures like Popeye etc were used by the secret vegetarian societies to encourage young minds and children to eat more green foods and hence prevent the spread of this up and coming danger. However, with the advent of hippies and the modern day drugs, the suppressed tree huggers mixed up in to them and with the help of media and the so-called ‘rebellion’ against the societies the whole concept of vegetarianism was totally confused.

What can be done? I have no idea. I only give you the facts… !

by Abdul Sami (noreply@blogger.com) at January 28, 2009 07:07 PM

Adnan-k

Yunis Khan threatens Shoaib Malik as a Pakistani Captain

PCB finally sacked Shoaib Malik and appointed Younis Khan as a new Pakistani Captain. Younis take ‘class’ of Shoaib malik and followin conversation took place between two:

Now Shoaib can give more time to …..his girl friend, Syali Bhagat.

The orignial picture is given here which appears in Jang, Karachi with totally different caption :P

Decide yourself which interpetition is better :P

Related Posts:

Shoaib,Asif aur WOH

Bechari Pakistani Cricket Team

by admin at January 28, 2009 07:03 PM

Falak

She looks like a doooll!


Maths lesson

We got back the results of our mid-year exam. It was atrocious. Paper 1 was out of 26 and the highest mark anyone got was 16. I got 3. A friend of mine got zero marks. Technically, it wasn’t really our fault. I mean, no one had the time to revise! We all revised (more or less) for our GCSEs, but not for the mid-year’s. We thought the paper would be pips and we’d all pas with flying colours.

It is amazing how wrong we were.

When our teacher was giving us back our papers, we just laughed ‘cause it was so funny. Seriously, come on! 3 out of 26? That’s bad but it’s hilarious. So there we all were, giggling hysterically (like we do) when the teacher started going on about how bad our results we were and why are we laughing, go on and laugh then! Go and laugh now! Why isn’t anyone laughing? I give you the permission to laugh! Then she walked out of class to go and get the OHP, and just before she left this one cracked up laughing and she heard it.

As soon as she was out the door we all just laughed manically and swapped results (and more laughter). It was quite funny how bad the results were. We have the capability to achieve A*s, but because nobody revised we all pretty much failed.

We got a HUGE lecture from Miss Maths when she came back. She looked about ready to cry. “Where is this attitude going to take you in life?” she asked us.

Silence.

No one said a word. She asked for an explanation and we all sat there, lifeless.

It was very very bad. :(

Lunch

We played Chinese Whispers whilst eating, the events of the morning forgotten. It was quite hilarious, actually. What started off as, “Osama Bin Laden is hidden under my closet” ended up as “Mustafa has a tuna fish baby in his womb.” Don’t ask me how.

We laughed and laughed and laughed at Mustafa’s stories, he’s so much fun. I cannot remember for the life of me what we were talking about, but I was laughing so hard I had trouble controlling my breathing. :D

After we finished lunch we walked off to class to put our lunch bags away and what not, when Mustafa and The Loud One decided they wanted to do the Signature dance:

(Warning: contains music.)

So Mustafa was the Asian dude aur The Loud One was the other dude, and y’know the bit where they bang into each other at the beginning? Well, my lot bumped into each other and Mustafa goes, “Oh, teri ph*ddi.” It was so bad but so brilliantly funny.

They are both rubbish dancers but fantastic entertainers. :P

Later on…

After the dance I went to the school library and did my stuff there (I am the Head Librarian, ooh!). However, I really really needed to go so I pegged it (or walked slowly) back to class, with the intention of dropping my stuff on my desk and going to the bathroom. However, my evil plan was foiled.

As soon as I opened the classroom door, The Twins (not really twins, just best buds who always hang out with each other) grabbed me and announced ke I was getting married to Mustafa RIGHT NOW. I willingly dropped my books on to the nearest table and let them get me ready (i.e let them stick some other girl’s scarf over my head to act like a ghoonghat-the veil bit they stick over the face to cover it partially or whatever).

She looks like a doooll!

I wrote about the incident in my scrapbook (very scruffily, may I add) and I was very soppy about it all. :)

Nuriyah PROMISED me she will write the post and explain all the details of my wonderful, wonderful marriage (HAHAHAHA), so I, unfortunately, cannot blog about it. :(

However, I can tell you that we are going to Barbados on a mission to “increase the Muslim population!” HAHAHAHAHAHAAAAAAAAAAA!

Ooh, I’m waiting with bated breath *giggles madly*.

Citizenship

It was in this lesson that Miss Head taught us about the history of Israel and Palestine (blimey, that woman knows a lot!). She was explaining ke the downfall of the Muslim ummah is because of lack of education and knowledge.

I must say, I agree.

From there, Nuri and I started discussing men (as in our dads and brothers and what not) and I told her about my father. How he always used to say to us that we have to become architects! We have to become lawyers! Barristers, judges, we have to be SUCCESSFUL-yet he won’t even let his oldest child go to college. How the chadey are we supposed to be successful without even having been to college? How does he expect us to create a future for ourselves with no education behind us?

My Taya-ji was lecturing me the other day (he does not do it often, but when he does it is ace) and he was talking about my dad not letting me go to college and he goes, “Is your dad gonna buy a house for you? Is your dad gonna work for you? Is your dad gonna pay for everything you do?”  And then he said something along the lines of: your dad doesn’t understand. He’s not gonna do everything for you, he has to let YOU do it. He has to put his faith and trust in you and let you learn to do things for yourself. And so what if you make mistakes? Everyone makes mistakes, he can’t stop you from living your life. So on and so forth.

Anyway, Nuri then decided that the ummah is messed up due to men who don’t let their women get an education because they are scared their sisters/daughters will get involved with men (for PETE’S sake!). So basically, we shall put the blame on men and that is the end of that.

HOWEVER, this is not all men. Just some really…ARGHHHH ones who need some sense knocked into them. Many men are quite nice and kind and helpful and help little old ladies cross the road and yada yada yada. (This includes Sami Bhaiyya and Biscuit-ji for being ever so helpful and lovely to me :D .)

Maths lesson (again)

All was fine with Miss Maths. She’d cooled down. :]

We started discussing all the companies that support Israel (thanks to Citizenship) and we were absolutely AGHAST to find that Disney was one of these companies! DISNEY! ARGHHHHH!

When Miss Maths told us a collective gaps went up around the class, and murmurs of shock and astonishment could be heard. This is terrible. DISNEY! Okay, so I’m 16, but I still watch Disney Channel! It’s a cool channel! Bloody chadey, this is terrible.

Sigh.

What a day it was.

By the way, which one is the rude one? Chada or chadee? Or…erm…I dunno. Chadey? Eh? I’m confusing myself now. One of those words mean underpants (which is what I was saying throughout the post) and one of them is a very bad word. I just can’t remember which one is which, it’s so confusing, they’re so alike! Arghh!

Love, Falak

PS. The post I wrote appeared on Biscuit’s blog! Check ittttt!

      

by falakk at January 28, 2009 06:23 PM

میرا پاکستان

کارلیزنگ یا فائنانسنگ

جنرل مشرف کے دور میں جب استعمال ہونے والی اشیا پر لوگوں کو دھڑا دھڑا قرضے دے کر انہیں جال میں پھنسایا گیا، اس وقت بہت سارے لوگوں نے کاریں بھی ادھار خریدیں جن پر بارہ فیصد سے زیادہ سود مقرر تھا۔ کار فنانس کرنے والوں کی اکثریت ڈاؤن پے منٹ کم سے کم ہونے کی وجہ سے حکومت اور بنکوں کے اس جھانسے میں آگئی جس نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا۔

امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں کاریں لیز ہوتی ہیں اور فائنانس بھی مگر کریڈٹ اچھا ہونے کی صورت میں ان پر سود کی اوسط زیرو سے پانچ یا سات فیصد ہوتی ہے۔ مگر اکثر گاڑیاں زیرو فیصد یا دو فیصد پر مل جاتی ہیں۔

اگر آپ کار لیز کر رہے ہیں تو پھر آپ کو گاڑی ایک خاص مدت کے بعد واپس کرنی ہوتی ہے مگر فائنانسنگ کی صورت میں گاڑی قرض ادا ہونے کے بعد بھی آپ کی ہوتی ہے۔ لیز کی قسط فائنانسنگ سے بہت کم ہوتی ہے وہ اسلیے کہ آپ ساری گاڑی نہیں بلکہ اسے کچھ مدت کیلیے خریدتے ہیں۔

ہم  نے پچھلے دو ہفتے گاڑی لیز کرنے پر صرف کیے اور آخر میں نتیجہ یہی نکلا کہ لیزنگ ہو یا فائنانسنگ پہلے تو آپ کا کریڈٹ اچھا ہونا چاہئے۔ پھر آپ یہ دیکھیں کہ گاڑی لینے کا مقصد کیا ہے یعنی اسے آپ کس طرح استعمال کریں گے کیونکہ لیز کی صورت میں آپ کو گاڑی محدود فاصلے تک چلانے کی پابندی ہو گی اور پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ کو فی میل جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اگر تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ گاڑی کی مائلیج کنٹرول کر سکتے ہیں اور دو تین سال بعد بدلنا چاہتے ہیں تو پھر لیزنگ آپ کیلیے بہتر ہے۔ دوسری صورت میں فنانسنگ بہتر رہے گی۔

ہم دیسی لوگوں کی اکثریت ابھی مکمل طور پر سیٹل نہیں ہو پائی اس لیے ہم لوگ کوشش کرتے ہیں استعمال شدہ جاپانی گاڑی خریدیں اور اسے لمبے عرصے تک استعمال کریں تا کہ ہر مہینے کی قسط بھی نہ دینی پڑے اور مرمت پر بھی کم خرچہ آئے۔ اس صورت میں گاڑي کی ڈپریسی ایشن بھی کم ہوتی ہے۔ ہم لوگوں کی اکثریت سود سے بھی بچنے کیلیے گاڑی کیش پر خریدتی ہے۔ لیکن امریکہ میں اب ایسے عربی عالموں کی کمی نہیں ہے جو پہلا گھر یا گاڑی سود پر لینے کو جائز سمجھتی ہے۔

جو لوگ سیٹ ہو چکے ہیں وہ لگثری گاڑیاں لیز کرتے ہیں اور ہر دو تین سال بعد ماڈل بدل لیتے ہیں۔ بہت کم امیر لوگ ایسے ہیں جو گاڑي خریدتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو رقم وہ گاڑی کی خرید پر خرچ کریں گے اسے وہ کاروبار میں لگا کر منافع کما لیں۔ ایک عام آدمی بھی اس اصول سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ فرض کریں آپ نے گاڑی کیش پر خریدی اور دس سال بعد آپ نے حساب لگایا کہ یہ گاڑی آپ کو چار ہزار ڈالر فی سال پڑی۔ اگر آپ یہی گاڑي لیز کرتے تو آپ کو شاید کم نقصان ہوتا وہ اس طرح کہ آپ اس رقم سے انتہائی محفوظ میوچل فنڈ خرید لیتے اور دس سال تک منافع کماتے۔ گاڑي کی قسطیں بھی آپ اسی رقم سے ہر سال دے سکتے تھے۔

لب لبا یہی ہوا کہ لیزنگ اور فائنانسنگ میں سے کونسی آپشن بہتر ہے یہ آپ کی مالی حالت پر منحصر ہے اور ہر کسی کیلیے صورتحال ایک جیسی نہیں ہو تی۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے تو ہم اب لیزنگ کے حق میں ہیں اور اسے ہی بہتر آپشن سمجھتے ہیں۔ یہ سب ہم نے نو سال تک کیش پر گاڑی رکھ کر اور اب لیزنگ کی تحقیق کے بعد سیکھا ہے۔

by ميرا پاکستان at January 28, 2009 04:40 PM

Abdul Sami

Hmm…

Sam: You are throwing your money away…

Sam: It gives me a sense of being immensely rich!

by Abdul Sami (noreply@blogger.com) at January 28, 2009 04:19 PM

Walking Throug

nadia

Yesterday afternoon, at around three, I received a missed call in my cellphone.  I checked the number: +923234984129.  It’s from Pakistan.  I really don’t pay much attention to missed calls, so I simply ignored this. This morning, I received another missed call from Pakistan.  The phone number this time was +923227135365.  I thought that someone back [...]

by nadia at January 28, 2009 03:40 PM

شاہدہ اکرم

حسن مغل

سائمنٹک نارٹن انٹرنیٹ سیکوریٹی بمعہ ٹرائل ری سیٹ

لیں جناب ہم حاضر ہیں مشہورِ زمانہ سائمنٹک والوں کی نارٹن انٹرنیٹ سیکیوریٹی کے ساتھ۔ سیکیوریٹی کی دنیا میں سائمنٹک کا ایک مقام ہے۔ اس کی تمام پراڈکٹس بہت عمدہ ہیں۔ خصوصاََ نارٹن 360، نارٹن گھوسٹ، نارٹن انٹرنیٹ سیکیوریٹی وغیرہ اس لائن میں شامل ہیں، یہاں ہم صرف اور صرف نارٹن انٹرنیٹ سیکیوریٹی کا ذکرِ خیر چھیڑ رہے ہیں، تو جناب یہ آپکو ہر قسم کے وائرس سے محفوظ کردیتی ہے، خصوصاََ اسکی فائر وال بہت عمدہ ہے۔



لیں جی، آپ اسکو یہاں سے حاصل کرسکتے ہیں۔
نارٹن انٹرنیٹ سیکیوریٹی پارٹ 1

نارٹن انٹرنیٹ سیکیوریٹی پارٹ نمبر 2

نارٹن انٹرنیٹ سیکیوریٹی پارٹ نمبر 3

اور یہ رہا اسکا ٹرائل ری سیٹ۔

انسٹال اور یہ رہا ان انسٹال۔

امید ہے کہ آپکو میری یہ کاوش پسند آئے گی۔

Share/Save/Bookmark

by حسن at January 28, 2009 02:49 PM

Dfr agn

New Poodle in Town

All the way from Rawalpindi to Islamabad on highway and exits of Rawalpindi, banners are hanging out of every pole printed with following picture. Could not have an eye to focus the text on banners, but the thing looking like a poodle is clearly visible.

by DuFFeR at January 28, 2009 02:29 PM

حسن مغل

نوجوانانِ پاکستان کو بھکانے کا ایک اور ڈھونگ

لو جناب، پھلے کوئی کم پیکجز تھے جو ٹیلی نار والوں نے ٹالک شالک پر سستا ایس ایم ایس پیکج جاری کردیا۔ تو جناب تفصیلات کچھ یوں ہے کہ اب آپ ٹیلی نار کے ٹالک شالک پیکج کو استعمال کرتے ہوئے ایس ایم ایس پیکج بھی خرید سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ٹالک شالک پر ایس ایم ایس پیکج موجود تھا لیکن وہ صرف ٹیلی نار سے ٹیلی نار ہی مؤثر تھا لیکن اب آپ ہر نیٹ ورک پر ایس ایم ایس کرسکتے ہیں وہ بھی صرف 20 پیسے میں۔ ہیں نا زبردست۔

اس مد میں ٹیلی نار تین مختلف پیکجز کی سہولت فراہم کررہا ہے جسکی تفصیل کچھ یوں ہے،

Package Details

Package Details

پیکجز کو حاصل کرنے کا طریقہ کار کچھ یوں ہے،
1۔ اپنے ٹیلی نار ٹالک شالک نمبر سے 555 ملائیں، پھر جب کمپیوٹر بولنا شروع کردے تو اسکی ایک مت سنیں اور جلدی سے 5 کا بٹن دبا دیں اور یہاں سے اپنا مطلوبہ پیکج منتخب کرلیں۔
2۔ ان پیکجز کا افتتاح مؤرخہ 28 جنوری 2009 بروز بدھ کو ہورہا ہے۔
3۔ آپ اپنے بقایا ایس ایم ایس *111# ملا کر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

Share/Save/Bookmark

by حسن at January 28, 2009 02:20 PM

اوراق

ما ، در پیالہ عکس ِرخ ِ یار دیدہ ایم

ساقی بنُورِ بادہ بر افروز جام ِ ما مطرب بگو کہ کار جہاں شد بکامِ ما اے ساقی شراب کے نور سے میرے پیالہ کو منور کر اور اے مطرب بشارت دے کہ تمام کام خاطر خواہ سرانجام ہوجائے شرح: اے مرشدِ کامل عشق سے ہمارا دل بھر دے کیونکہ عشق ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمام کام [...]

by الف نظامی at January 28, 2009 01:30 PM

Karachi Metro Blogs

Unhealthy water & commission

According to a recent report published in Dawn, 500 of the 1,500 water samples collected and tested by the Karachi Water and Sewerage Board were found unfit for human consumption.

Anyone who can afford now drinks bottled water. The rest make do with boiling the murky water. I think it is about time KW&SB should start charging commission to the multinational companies who sell the bottled water. Had they been doing their job properly and supplying clean water to the residents of this city, the multinationals would not have been doing such a roaring business.

by Tazeen at January 28, 2009 10:33 AM

ابو شامل

تاریخ میں آج کا دن: سانحۂ چیلنجر شٹل

خوب سے خوب تر کی جستجو اور بڑے سے بڑے چیلنج کو قبول کرنے کی قوت و صلاحیت نے انسان کو ترقی کی معراج پر پہنچایا ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان جو خواب دیکھتا آیا، حالیہ چند صدیوں میں اس کی تعبیر پائی۔ انسان کے بڑے خوابوں میں سے ایک آسمان کی وسعتوں کو چھونا تھا۔ [...] No related posts.

by ابوشامل at January 28, 2009 07:40 AM

عبدالقدوس

ہفتہ صفائی

گزشتہ 2 دن سے ہفتہ صفائی منا رہا ہوں سرور سے کچھ گند نکال کر باہر پھینکا ہے اور کچھ مزیدکی توقع ہے ایک کمرہ بھی نیا بنایا ہے اس دوران میں کچھ دیر سرور کو بند بھی کرنا پڑا لیکن خیر۔۔۔۔ کبھی نا پہنچنے سے بہتر ہے دیر سے پہنچ جائے بندہ Related Posts No Related [...]

by عبدالقدوس at January 28, 2009 06:42 AM

Lahore Metro Blogs

Terrorism Part 1

Terrorism sweeps the country, the city, the lives and the dreams. We flee the country, those of us who can; we slander the city; we condemn our lives and we are afraid of our dreams. And we are so busy doing all these things to escape terrorism that, poor us, we don’t even stop to think what we are running away from.

 

There’s a brand-new hype around town now…more hyped than it ever was before. Terrorism seems to vastly affect our ‘cultural’ shows in Lahore now, whether they be the Rafi Peer Theater World Performing Arts Festival, or the cultural complex or whatever. Yes, these groups, which are just patriotically producing the necessities or our nation (o should that be in inverted commas too?), are being directly threatened by those extremely sick people who wear beards. At least, those are the people that are arrested if they dare to show their faces.

 

To clarify, the necessities mentioned above are:

1)      Dance shows

2)      Music shows

3)      Tacky stage shows

 

But let me tell you what happened, what is happening and in all probability, would happen again.

 

Firecrackers.

 

That’s what happened. Outside the cultural complex, outside the Rafi Peer Theater Festival, and well, goodness knows where else. Intense terrorism, my friends, intense. And fully dramatized on that blasted channel Geo.

 

Forget the girls being raped and murdered every day. Forget the fact that America is bombing us every day. Forget the fact that the new black (but thinks, looks and speaks white) American President is silent on such issues being resolved. Forget that if we don’t know of Shakespeare we are ignorant but if we don’t know of Al-Ghazali it’s not too bad. For the cultural, spiritual, degrading colonization we’re living in. Forget the world outside our bubble. Look! Some people who get offended by the scantily-clad dancers on the LCD screen in the World Performing Arts Festival actually have the audacity to put firecrackers outside!

 

These people have gotten so much sympathy, so much coverage…because they deserve it! After all the odds, they went back and performed, and will perform again! Because their art is so much more important than lives in Waziristan y’ know. That’s why Geo dramatizes this and not that.

 

The lives of the non-elite, the non-monied don’t matter, of course. Your countrymen die by the million and all the elite, the newspapers, and the universities think about is how and when and where and what is that amazing new musical called Chicago? How brave of them to perform in smaller and smaller clothes and how nice of them to come to Lahore! After all, firecrackers are no small thing, because they have started hurting the dancers and singers now. Never the mind the generations of children killed by firecrackers in the past, not even to mention the jugular veins cut by the strings of Basant. No. We must celebrate our life, because we have the money and we have the channels. Why represent the poor? We have our tacky stage shows to perform. We are the brave ones to perform at such a time, and then flee the country as soon as we get a third-rate citizenship anywhere. We have to present the faithful dog-image to America so that it will give us citizenship. Poor, brave elite. Eight people injured by firecrackers versus a hundred thousand dead by the American bombings.

 

Bravo, Chicago, bravo…go, Chicago, go…you’re what we need, you’re it, you’re the man (or the two leading women)…our saviors the elite….save us…save us….

 

 

by aamna at January 28, 2009 06:16 AM

Minerva

minerva


This article, referenced first in Five Rupees, is brilliant. It summarizes, lock, stock and barrell, of the hypocritical agenda that made use of religion as its pawn and dominant ideology as its artillery. 

And can anyone explain to me why do you write down numbers on official envelopes when you have no intention of keeping them in working order? I have tried to contact endlessly the boutique that was supposed to give me my wedding jorrah today and since they’re not picking up the phone, this means I’ll have to go all the way to Tariq Road just to ask them if my dress is ready. If the miracle of telecommunication had reached down into their brains, it could have been done over the phone and I’d only go when it was time to pick up my dress.

KESC should be sued. I have a deep, wallowing, fiery longing for this to happen. The electricity wipes out every 2 hours for an hour or over or under that, it stops life, it creates a speed-breaker on the highway that is Karachiite life. It’s really depressing to watch entire areas hounded by darkness. For stretches. It’s just the city of blinking lights instead of blinding, and I really wish Karachiites could get up the nerve to finally sue the damn corporation. I’ve lost two PCs thanks to the multiple breakdowns, industrialists have lost bigger dollars and everyone has just about HAD it with their incompetence with all their shifting of managers and owners. Enough already, okay? We’re human.

Or maybe that’s irrelevant.

Anyway. Now that I’ve finally come to terms with a routine that involves nothing but a half-an-hour workout, 3 movies a day and eating munchies of my choice, I can safely enjoy movies without feeling stupid and restless.

The Upside of Anger:

This family drama revolves around the angry mother of four daughters whose husband disappears with his Swedish secretary. Joan Allen plays the pissed off Mrs. Wolfmeyer trying to come to terms with daughters who misunderstand her, a slightly-drunk boyfriend, Denny (Kevin Costner) and finally a tragedy that, ironically enough, brings her entire trauma to rest.

The movie is intense enough to watch tersely for the entire 2 hours, the story’s pretty together enough when it comes to family-drama cliches. There are rounded and balanced performances from everyone, especially Joan Allen who looks as though she’s been starving for ages. The story also touches upon the lives of her daughters, each of whom are going through their separate brand of crises. Hadley has decided to get married, Andy doesn’t want to go to college and decides to work, Emily seems to be struggling with anorexia and wants to go to Dance School, Popeye (yes, that is the name of the girl) is trying to get the attention of a classmate who turns out to be gay. So all in all, a very full plate for Mrs. Wolfmeyer and her struggling nerves.

In short, Mrs. W is anger personified. With all her life being the ‘nice’ person that she was, she is now not ready to take in a single breath of patience and finds out that her anger is consuming her from within. That realization, however, is neither easy nor natural to come to terms with. Most of us spend our entire lives worrying and fretting and seething over issues that we can easily walk past, problems we can easily solve, matters we can easily forgive. But we choose to writhe and fidget over them because somehow that anger is more important to us. Somehow that anger makes us feel more than our resolution is. Anger becomes a conscious choice rather than a biologically rational occurence. 

Definitely a good watch, definitely something you can digest easily and think about later.

The Wrestler:

Everyone who has grown up watching and loving WWE is going to love this movie. However it’s not just for wrestling lovers.

Randy the Ram Robinson has been wrestling for fifteen years. He is now old, tired and not as great out-of-the-arena as he once was. He is often short of his rent, has a daughter he abandoned, likes a stripper he can’t seem to have a real relationship with - and to make it all all so perfect, he suffers a heart attack after one of his matches and is now forbidden to wrestle, take steroids and all that show-jazz. Forced to think outside the ring (pun unintended), he begins to work at a local supermarket and tries to make amends with his daughter.

The question is whether people can leave their old ways and mould into new ones? What happens when we decide on being someone else when the first version of ourselves failed and gave out from underneath us? Do we meet with success or just a realization that maybe this second version wasn’t really worth the change?

To Kill a Mockingbird:

This is probably the eighth time I’ve seen this movie and it still manages to keep me riveted when Jem’s pants getstuck in the Radley wire.

Atticus Finch (Gregory Peck) is without contest one of the greatest heroes of the modern day. Playing the lawyer defending Tom Robinson, a black man accused of raping a white woman, in a post-Depression Alabama. The story also explores the childhood of his two children, Jem and Scout, and their friend, Dill, as they find their summer entertainment in the local hermit, Boo Radley.

This film is one of the few, ever made, that manage to do justice to the book. It plays up the plot, the actors, the scenes, the gestures, the tone of voices, exactly the way you would imagine when you would read in the book. The book by Harper Lee is by far one of my most favorite of all books, and it’s a very happy admission that the movie happens to have the same position in the all-time-favorite-movie category.

The Big Country:

Okay, I love westerns. And I love Gregory Peck. The math is simple. It’s your regular brand of testosterone-filled vengeance, blazing guns and damsels in distress (though in this flick, the damsel wasn’t too distressed). Tim McKay returns to marry his fiance in the ‘old country’ and finds the ways and methods of the land very different from his own. He steps smack in the middle of the conflict between the Hannasseys, the uncivilized rogues of the country, and Maj. Terrill, McKay’s father-in-law. 

My favorite part however was the “Shall I go on?” sequence, which was basically a scare-off story-competition between the hero and the damsel in no distress.

Go ahead and give it a go if you have remotely loved the American versions of Bollywood masala flicks. Charlton Heston, Burl Ives and Peck are pretty good perks to watch it. And of course. Good old American ingenuity for film-making.

      

by minerva at January 28, 2009 04:38 AM

شعیب صفدر

بلاعنوان

by شعیب صفدر (shoiabsafdar@gmail.com) at January 28, 2009 04:33 AM

افتخار اجمل

دبئی میں ہماری دوڑ دھوپ

دوبئی کی سیر کی دوسری قسط 12 جنوری کو لکھی تھی

بیٹے نے بتایا کہ دبئی میں عمارات ۔ مراکز للتسویق [Shopping Malls] کے علاوہ عجائب گھر [Museum] اور ساحِل سمندر [Beach] ہی دیکھا جا سکتا ہے ۔ سو عجائب گھر جو ایک پرانے محل کے اندر بنا ہوا ہے دیکھا ۔ اس میں پرانے زمانہ کی کِشتیاں ۔ آلاتِ حرب ۔ لباس ۔ برتن وغیرہ رکھے ہیں ۔ پرانے زمانہ میں اس علاقہ میں جس طرح کے باورچی خانے ۔ غُسلخانے اور سونے اور بیٹھنے کے کمرے ہوتے تھے وہ بنائے ہوئے ہیں ۔ پرانے زمانہ کے ہُنر اور تعلیم و تربیت کے مراکز کی بھی نمائش کی گئی ہے

ہم نے ایک کے بعد دوسرا مرکز للتسویق دیکھنا شروع کئے ۔ ان میں پھرنے سے قبل کئی کلو میٹر پیدل چلنے کا کئی سالہ تجربہ ہونا چاہیئے جو ہمیں دس پندرہ سال قبل تو تھا اب نہیں ہے لیکن اپنی عزت کی خاطر ہم نے مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ مرکز للتسویق جہاں ہم گئے ان میں سے جن کے نام یاد رہے وہ حسب ذیل ہیں ۔

مرکز امارات للتسویق ۔ Mall of the Emirates ۔ مول امارات ۔ اس میں برف پر پھِسلنے [Ice Skiing] کا انتظام بھی ہے

مرکز مدینہ الدیرہ ۔ Daira City Centre

مدینہ مھرجان الدبئی ۔ Dubai Festival City

وافی ۔ Wafi ۔ اس کے ساتھ ہی ملحق ایک پرانے بازار کا اصل بحال رکھتے ہوئے اس کی جدید تعمیر کی گئی ہے جس کا نام خان مرجان ہے ۔ یہ بہت خوبصورت سہ منزلہ بازار ہے ۔ اس میں روائتی اشیاء فروخت ہوتی ہیں اور روائتی قہوہ خانہ بھی ہے ۔

ابنِ بطوطہ مرکز للتسویق ۔ اس میں مختلف تہذیبوں کے مطابق حصے بنے ہوئے ہیں اور چھتیں [Ceiling ] بھی مُختلف مگر دلچسپ بنائی گئی ہیں ۔ ایک حصہ میں چھت اس طرح ہے جیسے آسمان جس پر بادل بھی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید تھوڑی دیر میں بارش شروع ہو جائے

سوق مدینہ الجمیرہ . Souk Madinat Jumeirah

مرکز دبئی للتسویق ۔ The Dubai Mall ۔ یہ ابھی نیا نیا بنا ہے ۔ ابھی صرف 500 دکانوں نے کام شروع کیا ہے ۔ 1000 سے زیادہ بند پڑی ہیں ۔ اس میں برف پر پھِسلنے کا دائرہ [Ice Skiing Ring] بھی بن رہا ہے ۔ اس میں بہت بڑا مچھلی گھر [Aquarium] ہے جس میں کبھی ایک اور کبھی دو غوطہ خور بھی تیر رہے ہوتے ہیں ۔

القریہ العالمیہ ۔ Global Village ۔ یہ ایک بین الاقوامی میلہ شاید 18 نومبر کو شروع ہوا اور 22 فروری تک رہے گا ۔ ہم 20 نومبر کو گئے۔ اس میں کچھ دکانیں شروع ہو چکی تھی ۔ اس میں وطنِ عزیز کا بھی ایک بڑا حصہ تھا جس میں قالین ۔ پارچہ جات اور برتنوں کی دکانیں کچھ لگ چکی تھیں باقی سامان آ رہا تھا ۔ اس حصہ کا ماتھا بہت خوبصورت تھا ۔ لاہور کے قلعہ کی شکل بنائی گئی ہے ۔ اس کے سامنے ہی پاکستان کے کھانوں کی دکانیں ہیں بشمول راوی ۔ بندو خان وغیرہ

ان مراکز کی خصوصیات

زیادہتر مراکز کا رقبہ میرے خیال کے مطابق ایک کلو میٹر سکوائر یازیادہ ہے
مرکز کے ساتھ دو سے تین منزلہ پارکنگ کا علاقہ ہوتا ہے جس میں سینکڑوں گاڑیاں کھڑا کرنے کی گنجائش ہوتی ہے
ان میں انسان کی ضرورت کی تقریباً ہر شٔے ملتی ہے شرط جیب بھری ہونا ہے یا بغیر حد کےکریڈٹ کارڈ
سوائے الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کے سامان کے ہر چیز وطنِ عزیز کی نسبت مہنگی ہے
ہر قسم کے آدمی کیلئے کھانا کھانے کا بندوبست ہے
زائرین کیلئے مناسب تفریح اور بچوں کی دلچسپی کا سامان موجود ہے
فضا کو صحتمند رکھنے کیلئے فوارے یا آبشار یا نہر ۔ بعض نہروں میں کِشتی چلتی جس سے زائرین لُطف اندوز ہوتے ہیں
کسی کسی مرکز میں ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا جس پر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے غیرمُسلموں کیلئے
آرام کرنے کیلئے راہداریوں میں صوفے یا بینچ پڑے ہوتے ہیں
کچھ میں سینما ہاؤس ہوتا ہے جہاں سارا دن فلمیں دکھائی جاتی ہیں ۔ ان کے سامنے ٹکٹ خریدنے والوں کی ہر وقت قطاریں لگی رہتی ہیں

زائرین میں لباس کے لحاظ سے غنیم ترین سے مِسکین ترین عورتیں ہوتی ہیں ۔ غنیم ترین یعنی سر سے پاؤں تک مکمل ڈھکی ہوئی اور مِسکین ترین جن بیچاریوں نے ایک یا آدھی بنیان اور کچھہ یا چڈی پہنی ہوتی ہے

ان مراکز کی ایک اہم اور دل خوش کُن خصوصیت یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کیلئے نماز پڑھنے کا علیحدہ علیحدہ انتظام ہے اور ہر نماز کی اذان پورے مرکز اور پارکنگ ایریا میں واضح طور پر سنائی دیتی ہے ۔ مرکز کی وسعت کی وجہ سے سب لوگ ایک وقت پر مسجد میں نہیں پہنچ سکتے اسلئے جماعت کئی بار ہوتی ہے ۔ نماز پڑھنے والوں میں میرے جیسے بھی ہوتے ہیں اور جینز اور ٹی شرٹ پہننے والے بھی ۔ میری بیگم نے بتایا کہ عورتوں کی مسجد میں بہت سے عبایہ اور رومال رکھے ہوتے ہیں ۔ جو عورتیں انگریزی لباس میں ہوتی ہیں وہ نماز کے وقت پہن لیتی ہیں

ایک دن بیٹا کہنے لگا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ داخلہ فیس والے ساحلِ سمندر کے بالکل ایک طرف جا کر شریفانہ طریقہ سے تفریح کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا جا سکتا ہے ۔ ایک جمعہ کو نماز کے بعد روانہ ہوئے اور اس جگہ پہنچ گئے ۔ فیس کی ادائیگی کے بعد داخل ہو کر آخری سِرے پر کار پارک کی اور چٹائیاں اُٹھا کر ساحل کی طرف چل پڑے ۔ ساحل کے قریب پہنچ کر لوہے کی چادر سے بنی دیوار کے قریب براجمان ہو گئے ۔ بیٹا ۔ بیٹی اور بہو بیٹی کھانا لینے چلے گئے ۔ اُس وقت سمندر کے ہمارے سامنے والے حصہ میں چار پانچ کالی اور گوری عورتیں نہا رہیں تھیں تو ہم منہ خُشکی کی طرف کر کے بیٹھ گئے ۔ شاید اُنہیں اس کا احساس ہو گیا اور وہ کچھ دیر بعد وہاں سے دور چلی گئیں اور گویا ہم آزاد ہو گئے یعنی سمندر کی طرف منہ کر کے سمندر کی لہروں ۔ اس میں چلتی کِشتیوں اور سکیٹس [Skates] کا نظارہ کرنے لگے ۔
عجائب گھر

بقیہ تصاویر کیلئے تھوڑا سا انتظار کیجئے ۔

by افتخار اجمل بھوپال at January 28, 2009 03:34 AM

محب علوی

آٹھ زندہ بچوں کی پیدائش کا دوسرا واقعہ

کیلیفورنیا (امریکہ) میں ایک خاتون نے ایک ساتھ آٹھ بچوں کو جنم دیا ہے۔ اس طرح وہ ریکارڈ کے مطابق دنیا میں دوسری خاتون ہیں جنہوں نے آٹھ زندہ بچوں کو ایک ساتھ جنم دیا۔ان میں چھ لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں اور سبھی خیریت سے ہیں۔ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق سات بچے پیدا ہونے تھے مگر آٹھویں بچے نے پیدا ہو کر انہیں حیرت میں مبتلا کر دیا۔ ڈاکٹر کیرن کے مطابق میری آنکھیں کھلی رہ گئی جب آٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی۔

سب سے پہلے آٹھ بچے نیو میکسیکو سٹی میں پیدا ہوئے تھے مگر وہ سب چودہ گھنٹوں کے اندر ہی مر گئے تھے۔

1998 میں ٹیکساس کے علاقے ہیوسٹن پہلی مرتبہ آٹھ بچے ایک ساتھ پیدا ہوا تھے جو زندہ بھی رہے۔ایک ہفتے کے بعد ایک بچے کی موت واقع ہو گئی تھی لیکن باقی سات اپنی دسویں سالگرہ منا چکے ہیں۔

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

by محب علوی at January 28, 2009 03:32 AM

Pak Bloggers

Antivirus And Antispyware For Windows 7

Windows 7 getting good buzz since the beta version is released by Microsoft because of wonderful features that Windows 7 has and the fact that the new Windows is much faster than vista and even XP. Some antivirus providers have worked with Microsoft to release antivirus versions which are compatible with Windows 7.

Here is a list of antivirus softwares which are compatible with Windows 7.

Norton 360

null

Symantec has released the beta version of Norton 360 3.0. They have a special note for Windows 7 users on their website inviting to join their beta version for testing which is a fully windows 7 compatible version antivirus software.
The antivirus is in beta because Windows 7 is still in beta and they are waiting till final release of Windows 7 to label it Windows 7 specific version.

Kaspersky Antivirus For Windows 7


Kaspersky Lab has released a new version of Kaspersky antivirus for Windows 7. The new release is a complex solution for securing computers running Windows 7. The prototype includes not only the antivirus component but an effective and fully functional firewall and anti spam filter.

AVG Antivirus For Windows 7

null

AVG is providing internet security and antivirus for Windows 7 users for free. The special designed antivirus for windows 7 is fully compatible for Windows 7 and includes antivirus, anti-spyware, anti-spam, firewall, safe download, safe search and anti-rootkit.

Antispyware For Windows 7

If you still want to use some anti-spyware applications for Windows 7, try any of following.

Check these antivirus softwares for Windows 7 to protect your PC against any threat and also share any other antivirus which you find works good with Windows 7.

by Sohail at January 28, 2009 02:19 AM

شگفتہ

آٹھ مکان

عمار نے ٹیگ کیا تھا لکھنے کا ارادہ کیا تو لگا کہ یاد داشت کچھ بحال ہونے لگی ہے اور یاد آیا کہ فرحت نے بھی ٹیگ کیا ہوا ہے ، اب سمجھ نہیں آ رہا کہ پہلے کس ٹیگ کا جواب لکھوں لہذا بہتر ہے کہ پھر سے سو جاؤں لیکن حمزہ اینڈ کو سونے بھی نہیں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔

سو ، ٹیگ جواب لکھ لیا جائے ۔ یہ کچھ مشکل سا ٹیگ ہے ، مکان بنانا ہیں وہ بھی آٹھ ۔ ۔ ۔ مجھے فرحت نے ٹیگ کیا۔ ۔ ۔ اب فرحت کو کس نے ٹیگ کیا اصل مجرم وہی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ مکان بنانے کا ٹیگ کوئی لڑکیوں کے لیے تھوڑا ہی ہے یہ تو خالصتاً مردانہ ٹیگ نہیں لگتا اگر دیکھا جائے ، مکان بنانا تو مرد حضرات کا سر درد ہے لہذا بہتر ہے کہ حضرات کو ہی ٹیگ کیا جائے کہ حضرات چونکہ آپ کو کئی کئی شادیاں کرنے کا پیدائشی و اخروی شوق ہوتا ہے یعنی از مہد تا لحد ۔ ۔ ۔ لہذا آپ کو موقع دیا جاتا ہے کہ آٹھ مکان بنائیں اور کم از کم آٹھ خواتین سے شادی کر کے انہیں جنت حاصل کرنے کے مواقع عنایت فرمائیں کہ آپ سے شادی ہو جانے کے بعد ان آٹھ خواتین کو جہنم میں رہنے کی اسی دنیا میں ہی اتنی سزا مل چکی ہو گی کہ اللہ میاں ایسی تمام خواتین کو اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی فٹ جنت میں بھیج دینا ہے۔ ۔ ۔ بلکہ بہتر ہو گا کہ مردوں کے لیے اس ٹیگ پر عمل کرنا لازمی قرار دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتیں کو آخرت میں جنت مل سکے اور جو حضرات اس ٹیگ سے گھبرائیں انہیں مشہور و معروف سیاستدانوں ، وڈیروں ، خانوں ، چوہدریوں اور خاص طور پرجناب کھر سے ضرور ملاقات کروائی جائے تاکہ ان کے آٹھ شادیوں کے تجربات سے کما حقہ استفادہ و عبرت حاصل کی جا سکے ۔ :p

ویسے جو حضرات اس ٹیگ پر عمل کرنا چاہیں انہیں چاہیے کہ عقلمندی سے کام لیں۔ ۔ ۔ دیکھیں اس طرح کہ جو بھی خاتون آپ کو، گھر والوں کو لگے کہ آپ کی زندگی برباد کرنے کے لیے تمام تر ضروری و خصوصی مہارت رکھتی ہیں ان کے لیے پہلے تو دنیا کے کسی بھی کونے میں ایک شاندار سا کھنڈر (کھنڈر جتنا زیادہ کھنڈر ہو اتنا ہی اچھا ہے) تلاش و منتخب کر لیں پھر انہیں مطلع فرمائیں کہ دیکھو بی بی خوبی تو کوئی ایک بھی ڈھونڈے سے نہیں ملی آپ کی ۔ ۔ ۔ البتہ آپ کی خامیاں اس درجہ اعلی ہیں کہ کسی بھی بھلے مانس کی آئندہ زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے برباد ہو سکتی ہے ان کی بدولت اور وہ بھلے مانس میں بھی ہو سکتا ہوں مجھ میں اتنی برداشت ہے کہ میں یہ نقصان اٹھا سکوں ۔ ۔ ۔ اگر کوئی خوبی آپ میں پائی جاتی ہے تو خود ہی بیان کر دیں ورنہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں میرے زیرِ سایہ کچھ نہ کچھ خوبیاں آپ میں بھی در آئیں گی ۔ ۔ ۔ اب اگر آپ کو اور آپ سے پہلے آپ کے امی جان اور ابو جان کو میری یہ برداشت قابلِ توجہ لگے تو قسم لے لیں اگر کبھی میں چاند تارے توڑ لانے کی بات بھی کر لوں بلکہ میرا تو وعدہ ہے کہ ایک نہایت ہی اعلی درجہ کا کھنڈر اس کے علاوہ سلامی میں کچھ نہیں ملے گا ، اگر اس کھنڈر میں جنات کا سایہ ہو تو گھبرانے کی بات نہیں میں خود کسی جن سے کم تھوڑا ہی ہوں گا ۔ ۔ ۔ تو ہو گا یہ کہ مکان کے نام پر اس کھنڈر کو فراہم کرنا میرا کام اور اس کھنڈر کو مکان سے گھر میں تبدیل کرنا آپ کی صلاحیتوں کا امتحان۔ ۔ ۔ تو ایک عدد کھنڈر جس میں جن بھی ہو سکتے ہیں اگر منظور ہو تو مولانا منظور رحمت اللہ علیہ کو زحمت دی جا سکتی ہے کہ آئندہ کے منظر نامہ کی تشکیل کے لیے اپنے منظوری رجسٹر کی گرد جھاڑ سکیں ۔ ۔ ۔ (یا اللہ یہ والا پیراگراف جتنے بھی حضرات و خواتین پڑھنا لکھنا جانتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی دکھائی نہ دے، آمین ) :smile

اس ٹیگ میں دوسرا بڑا مسئلہ ایک عدد حضرت ہیں جن کا نام جان مکین بتایا گیا ہے اور شرط ہے کہ پہلے آپ کو ان صاحب جتنا امیر ہونا ہے آٹھ مکان بنانے کے لیے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی جان مکین سے زیادہ امیر ہو تو وہ کیا کرے کیا جان مکین جتنا غریب ہو جائے پہلے ۔ ۔ ۔ تاکہ آٹھ مکان بنا سکے۔ ۔ ۔ یا پھر مکان ہی نہ بنائے سرے سے۔ مجھے شک ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ صاحب بنام جان مکین میرے جتنے امیر نہیں ہو سکتے پہلے وہ میرے جتنے امیر ہو جائیں تو پھرمیں اتنا ضرور کر دینا ہے کہ مکان بنوا کے سب غرباء میں بانٹ دیے جائیں ۔

تیسرا بڑا مسئلہ اس ٹیگ میں یہ ہے کہ خیالی پلاؤ پکانا ہے ۔ ۔ ۔ لیں جی ہم مسلمان پہلے ہی خیالی پلاؤ کے اتنے شوقین ہیں کہ بس ہر وقت اسی پلاؤ کی دیگ میں ہی رہنا پسند ہے اور عمل سے گھبرانا ، ہر وقت گھبراتے رہنا اور گھبراتے رہتے رہتے ہی زندگی فنا کر جاتے ہیں اپنی اور اپنی سے زیادہ اپنے آس پاس دوسروں کی ۔ ۔ ۔ خیالی پلاؤ سے بہتر نہیں کہ عمل کر لیا جائے اور خیالی پلاؤ کی بجائے اصل پلاؤ بیگم سے ہی پکوا لیا جائے۔ اگر بیگم کو کھانا پکانا اچھا آتا ہو تو چائنیز پلاؤ کی فرمائش بھی کی جا سکتی ہے بیگم سے اور اگر خود بیگم بھی خیالی پلاؤ کی شوقین ہوں تو پھر بہت ہی وڈا مسئلہ ہے پھر تو مجھے بھی نہیں پتہ کہ کیا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ :what

دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت پر عمل کرتے ہوئے چونکہ میں خود بھی بے عمل ہوں یہاں تک کہ مجھے خیالی پلاؤ پکانا تک کام لگتا ہے اور کام کرنے سے تو میں ہمیشہ دور بھاگنا ہوتا ہے اس لیے میں خواب و خیال میں بھی مکان اور وہ بھی آٹھ آٹھ ہر گز نہیں بنا سکتی ۔ ۔ ۔ اب اتنا کام کون کرے ۔ ۔ ۔ لیکن ایک بات ہم سب کو کچھ بنے بنائے گھر تو ملے ہوتے ہیں ناں دنیا میں جو اصل گھر ہوتے ہیں تو میرے بھی کچھ گھر ہیں جو مجھے بھی بنے بنائے ہی مل گئے بغیر کچھ محنت کیے تو میں انہی کا ہی لکھ دیتی ہوں مکان تو مجھ سے کبھی بھی نہیں بنے گا ۔

میرا ایک گھر اماں زرینہ کا دل ہے اماں زرینہ بنگال سے ہیں بہت دبلی پتلی صرف ہڈیوں پر کھال اور ہمارا ڈپارٹمنٹ جس فلور پر تھا وہاں سب کے لیے کام کرتے رہنے پر انہیں چند روپوں کی تنخواہ مل جاتی ہے۔ ایک دن میں سہارا لے کر سیڑھیاں چڑھ رہی تھی تو اماں زرینہ سیڑھیاں اتر رہی تھیں آ کے تو میرا ہاتھ پکڑ لیا کہ آؤ بیٹا میں مدد کر دوں ۔ ۔ ۔ مجھے تو فوراً حساب کتاب کی فکر پڑ گئی میرا وزن تھا 52 اور اماں زرینہ کا ہو گا ضرور اس کا آدھا، تو میں اگر اماں زرینہ کا سہارا لوں تو اس بات کا قوی امکان تھا کہ اپنی کلاس میں پہنچنے کی بجائے بالکل ہی اوپر نہ پہنچ جاؤں ۔ ۔ ۔ یا اللہ اتنا جلدی تجھے پیاری ہو جاؤں ۔ ۔ ۔ نہیں نہیں ۔ ۔ ۔ ابھی نہیں، پھر کبھی سہی ۔ ۔ ۔ بڑی مشکل سے اماں زرینہ کو سمجھایا کہ نہیں اماں مجھے سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے بس دل چاہ رہا تھا تو اس طرح چڑھ رہی ہوں آپ ایسا کریں کہ میری کتابیں اور فائل ڈپارٹمنٹ میں رکھ دیں لے جا کر۔

پھر ایک دن میں گھر جانے کے لیے بھیا کے انتظار میں بیٹھی تھی تو اماں زرینہ آ گئیں کہ بیٹا گھر کیسے جاتی ہو؟ میں بتایا کہ بھائی لینے آتے ہیں ۔ اگلا سوال تھا بھائی کب تک آ جاتے ہیں لینے ؟ میں جواب دیا کہ بس ابھی پہنچنے والے ہی ہوں گے تو کہنے لگیں کہ میں گھر جا رہی تھی تو دیکھا یہاں بیٹھی ہوئی ہو تو واپس آئی ہوں خیال آیا کہ دیر تک اکیلی نہ بیٹھی رہو میں آ گئی اسی لیے کہ ساتھ رہ جاؤں ، بیٹا بھائی کو جلدی بلا لیا کرو ، زمانے کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا ، اسی وقت بھیا پہنچ گئے لینے اور میں اماں زرینہ کو خداحافظ کہا اور زمانہ اور بھروسہ پر سننے کا موقع ضایع ہو گیا ۔

دوسرے گھر کا نام بابا سعید۔ ۔ ۔ سعید بابا چوکیدار تھے لیکن اور بھی بہت سے کام کر رہے ہوتے تھے، چلتے ہوئے انہیں دیکھیں تو لگتا تھا جیسے تکلیف میں چل رہے ہوں میں اور ز کینٹین میں ہوتے تو اگر سعید بابا وہاں سے گزرتے تو ضرور دعائیں دیتے۔ کبھی اگر رش ہوتا تو کینٹین سے جو کچھ ہمیں چاہیے ہوتا تو لا بھی دیتے۔ میں کہیں بھی کسی بھی کونے میں کسی کام میں مصروف ہوتی اور بھیا مجھے لینے پہنچ جاتے تو سعید بابا ضرور مجھے ڈھونڈ کے بتاتے کہ بھائی آ گئے ہیں۔ ان کے پاؤں پر ایک بہت بڑا گہرا سیاہ دھبہ ایک دن نظر آیا میں ز کو بتایا کہ دیکھو شاید بابا کا پاؤں جل گیا ہے ز نے کہا کہ نہیں یہ جلنے کا نشان نہیں ہے بلکہ جو لوگ شوگر کے مریض ہوتے ہیں انہیں اس طرح نشان پڑ جاتا ہے ۔ سعید بابا آئے تو ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ انہیں شوگر ہے اور بہت زیادہ ہو گئی ہے ، ہم لوگوں نے علاج کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہاں ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں اور جو دوائی وہ بتاتا ہے وہ لیتا ہوں ۔ بابا کے جانے کے بعد ز نے مجھے بتایا کہ شوگر کے مرض کا بہت خرچ ہوتا ہے اس کی فیملی میں بھی کسی کو شوگر تھی تو ز کو کچھ معلومات تھیں۔ ز کا کہنا تھا کہ بابا نے غلط کہا ہے کہ ڈاکٹر کے پاس گئے ہیں بلکہ انھوں نے کوئی چھوٹی موٹی دوا کسی سے لے لی ہو گی۔ ہم لوگوں نے اپنے ڈپارٹمنٹ میں اپنے گروپ سے بات کی اور سب نے مل کر کچھ رقم جمع کی بابا کے لیے اب بابا کو وہ رقم دینے کی ہمت کون کرے کہیں انہیں برا نہ لگے تو ایک استاد کی مدد لی اور بابا تک جو کچھ پیسے جمع کیے تھے انہیں پہنچوائے ۔ نہیں معلوم بابا نے اس رقم سے اپنا علاج کیا کہ نہیں کیونکہ ان کے بہت سے بچے بھی تھے اور اسی لحاظ سے بہت سے دوسرے خرچے بھی ۔ انھی دنوں پاکستان ٹور پر جانا ہوا اسی دوران ایک دن خواب میں دیکھا کہ سعید بابا دوسرے عملہ کے ساتھ بیٹھے ہیں میں اور ز ہم دونوں وہاں سے گذر رہے ہوتے ہیں تو سعید بابا آواز دے کر ہمیں بلاتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں سعید بابا نے سفید رنگ کا لباس پہنا ہوتا ہے میں زایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ سعید بابا نے پہلے کبھی سفید رنگ کا لباس نہیں پہنا حالانکہ اتنا اچھا لگ رہا ہے۔ ۔ ۔ ابھی ہم باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ آنکھ کھل گئی اسی دن شام کو ز کا فون آیا کہ ایک خبر ہے سنانے کے لیے، تین دن پہلے سعید بابا کا انتقال ہو گیا ہے ۔ پتہ نہیں ان کے گھر والوں کا کیا حال ہو گا اسٹاف کے لوگ انہیں ہسپتال دیکھنے گئے تھے وہ ہم سب کو یاد کر رہے تھے۔ یوں سعید بابا ہم سے رخصت ہو گئے۔

میرا ایک گھر امی کا دل جو صرف اس وقت مجھے اپنا گھر لگتا ہے جب تک امی سے دور رہوں ورنہ نظر کے سامنے رہوں تو امی کا کہنا ہے مجھے سب بچوں میں کسی نے اتنا نہیں ستایا جتنا تم نے ۔ اور ابو کا دل بھی تو ہے ایک گھر، میرا بڑا دل چاہتا ہے پتہ چلے کسی طرح کہ ابو کو ہم سب بہن بھائیوں میں زیادہ اچھا کون لگتا ہوگا ۔ ابو تہجد کے وقت نماز میں جب دعا مانگتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے سننا، چھوٹے ہوتے دادا جان کو دیکھا تھا تہجد کی نماز پڑھتے اور دوسرا ابو کو دیکھا ہے پتہ نہیں اتنی عاجزی سے کیا کہہ رہے ہوتے ہیں میری آنکھ کھل جائے یا جاگ رہی ہوں اس وقت تو چھپ کے سنتی رہتی ہوں پر ایک لفظ جو سمجھ میں آیا ہو کبھی دادا جان کا یا ابو کا اتنی عاجزی اور گڑگڑا کے دعا مانگنا مجھے کبھی بھی نہیں آیا اس طرح، میں تو سیدھا سیدھا آرڈر کر دیتی ہوں خدا کو ۔ نہیں معلوم مجھے کب اس طرح دعا مانگنا آئے گا چند ایک بار خود بھی تہجد پڑھی تو وہ بھی ریاکاری تھی سب دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے۔ دوبارہ ہمت نہیں کی ۔ ابو کے ساتھ بہت اچھا لگتا ہے خاص طور پر میرا اور ابو کا خاموش مقابلہ چلتا ہے چائے بنانے کا

مسز حاج کا دل تو پتہ نہیں کتنے لوگوں کا گھر تھا ۔

عمرانہ اتنی چھوٹی سی میری دوست ہے پتہ نہیں چار سال کی یا پانچ سال کی۔ آفس کا دروازہ کھلا ہو اور وہاں سے گذرے تو کھڑی رہتی ہے جب تک میں اسے دیکھ کے مسکراؤں نہیں اور ہاتھ نہ ہلا دوں، عمرانہ میری استاد بھی ہے مسکرا کے ہاتھ ہلانا اسی نے مجھے سکھایا، میں جب کام کر رہی ہوں تو مجھے آس پاس بالکل بھی توجہ نہیں ہوتی کہ کیا ہو رہا ہے ، عمرانہ کا مجھے بالکل نہیں پتہ چلا شروع شروع میں ، وہ جب بھی گزرے وہاں سے اور دروازہ کھلا ہو تو وہیں رک جاتی اور کھڑی رہتی ہے، اب آفس میں کوئی اور بھی ہو تو اس سے پوچھیں کہ کس سے بات کرنا ہے تو بس مسکرائے جاتی ہے پھر جب میں اسے دیکھوں تو ہاتھ ہلا کے بھاگ جاتی ہے ، گئی کتنی بار اسی طرح سے ہوا تب مجھے سمجھ آئی ، اتنا اچھا لگتا ہے اب وہ جیسے ہی آ کے کھڑی ہو میں بھی اسے مسکرا کے اسے دیکھتی ہوں اور ہماری دوستی پکی ہوتی جا رہی ہے ، بچے کتنے شاندار سے دوست ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ یا اللہ ، حمزہ اینڈ کو نہ پڑھ لیں کہیں ۔ ۔ ۔

حمزہ اینڈ کو۔ ۔ ۔ ان سب کے دل بھی میرے گھر ہیں، یہ لوگ جتنا مجھے زچ کرتے ہیں اتنا خیال بھی رکھتے ہیں یہ خیال رکھنا کیسا ہوتا ہے اس پر پوری ایک پوسٹ لکھی جا سکتی ہے۔ ۔ ۔ جیسے مجھے پاؤں پر چوٹ لگی تو دل و جان سے خصوصی دوا بنائی گئی میرے لیے جس میں نمک ، صابن ، مختلف رنگ کے پتے ، کالی مرچ ، سرخ مرچ ، ہری مرچ ، ہلدی ، ریت ، پتھر ، لوہے کے کیل ، رنگین اور سفید کاغذ کے ٹکڑے ، شیمپو ، ڈٹرجنٹ ، ٹوتھ پیسٹ ، گرمی دانوں کا پاؤڈر ، اور نجانے کیا کیا پانی میں اچھی طرح گھول کے دوا کا ایک حصہ ایک شیشے کی بوتل اوردوسرا حصہ ایک پلاسٹک کی بڑی سی بوتل میں ڈالا اور کئی گھنٹے تیز دھوپ میں رکھ کے دوا سورج کی روشنی میں تیار کی گئی ، اس کے بعد میرے پاؤں کی جو شامت آئی کہ وہ دوا لگوانا لازمی تھا کہ اتنے خلوص سے تیار کی گئی تھی اور اسے استعمال کیے بغیر میرا پاؤں ہرگز ہرگز ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا۔

م بہت اچھی دوست ہے اب تو مہینوں میں جا کر بات ہوتی ہے لیکن کلاس میں گذرا وقت بہت یاد گار ، ابھی اس کا آخری فون آیا پتہ چلا محترمہ اٹلی سے بول رہی ہیں کہنے لگی تمہاری یاد آ رہی تھی سوچا تمہیں سرپرائز دوں ۔ م نے اپنے ابو کی اچانک موت کے بعد بہت مشکل دن دیکھے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب جب اس سے بات ہوئی تو اتنی خوشی تھی اس کے لہجے میں ۔

ش بہت اچھی دوست ہے صحیح کی بستی ہوتی ہے میری اس کے ہاتھوں لیکن ش کا دل بہت شاندار ہے ہزار شکوؤں کے باوجود بھی اگر ملنے نہیں آ سکے تو فون ضرور کرتی ہے ۔ ابھی تازہ ترین عزت افزائی کل ہی ہوئی ہے میری اس کے ہاتھوں۔

آنٹی اور انکل (فمزا کی ساس اور سسر) دونوں ہی اتنے اچھے لگتے ہیں مجھے دونوں ہی بہت کیئرنگ ہیں۔ ف آپی کی ساس نہیں تھیں لیکن ان کے سسر انکل ب بھی کچھ ماہ ہوئے اب اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی دعائیں ابھی بھی آس پاس محسوس ہوتی ہیں۔

یہ تو آٹھ سے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں سب گھر۔ ۔ ۔ چلیں یہیں رکتے ہیں پھر۔ سیمنٹ بجری سے بنے گھر بہت خوبصورت لگتے ہیں لیکن مجھے اتنے پائیدار نہیں لگے کبھی ۔ ۔ ۔ پائیدار اور اصلی گھر صرف وہ دل ہوتے ہیں جن میں خدا ہمارے لیے کوئی گوشہ بنا دیتا ہے یا پھر پورا دل ہی ہمارا گھر ہوتا ہے۔ جن کی موجودگی چاہے قریب ہوں چاہے دور کسی تکلیف کے لمحے میں، کسی مشکل وقت میں ، کسی مایوس کن گھڑی میں مددگار ہوتی ہے اور مایوس نہیں ہونے دیتی ۔ دل اصل میں تو خدا کا گھر ہوتا ہے جہاں محبت ہوتی ہے خیال کی صورت ، احساس کی صورت ، دعا کی صورت ، کسی دل کو دکھی نہیں کرنا چاہیے کہ پھر اس دل میں ہمارے لیے جگہ ہی نہ رہے ، کسی دل سے باہر ہو جانا بہت بڑی غربت ہے اس کا ازالہ جان مکین جتنی دولت نہیں کر سکتی اور نہ ہی بڑے سے بڑے بنگلے اور مکان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں ۔

چلیں میں بھی اب سب کو ٹیگ کروں ، آپ سب اپنے اپنے اصل گھر بتائیں ذرا :smile

ShareThis

by شگفتہ at January 28, 2009 02:17 AM

Pakistaniat

Pakpattan: The Home of Baba Farid Ganj Shakar

S.A.J. Shirazi

Pakpattan - the name is enough to start the travelers, cautiously curious and devoted faithful dreaming. Already the magic words like sultans and saints are stirring in the head. Let your gaze slip over the dhaki - original citadel of Pakpattan - and the town will suddenly appear. The antiquity is its own message: the town is heritage, and heritage permeates the town.

Enter the once walled inner-city through one of the existing gates and you will find yourself in archetypal form of an ancient town - crooked and narrow streets, dense housing, intricate woodwork on Jharokas, bay windows and doors. So many historic cities have developed losing much of their original character in the process during modern times, but Pakpattan has survived remarkably in tact.

It is the entire urban fabric of the place that is historic. Though, the major portion of the fortification wall has disappeared. At places, the wall has even been utilized as a part of the residences. Four gates (Shahedi, Rehimun, Abu and Mori) have survived out of six but they are all crumbling. Now extensive suburbs stretch from the foot of the wall all around. Thin red bricks from centuries old wall are seen used in the new houses all over the town. The portion of the settlement that sits on the mound can be compared with walled part of Multan City.

The remains of peripheral wall with ancient mystique define the inner portion that is totally pedestrian, vehicular traffic and modern development contained out of the wall. Homes have also retained their essential trait despite renovations to make them comfortable for modern living or to create additional space for more families. You can see the mythical woodwork, murals as well as tiled facades and colorful patterns in old havelies.

General Alexander Cunningham has recognized Pakpattan, anciently known as Ajudhan, as a town that appears in the work of Hellenic historians and other classic writers under the names of Ohydrakae, Sydrakae, Sudraykae and or Hydaekae. Two strategic roads of the past - one from Dera Ghazi Khan and other from Dera Ismail Khan - used to meet here. Great conquerors like Mahmud Ghaznavi, Taimur and traveler like Ibn-e-Batuta crossed Sutlaj from Pakpattan that had been principal ferry on River Sutlaj for centuries.

Medieval history of the town started when Amir Subuktagin subdued Pakpattan in 980 (AD) followed by Ibrahim Ghaznavi in 1080. Even today, the thought that Taimur during his invasion in 1398 spared the lives of those who had not fled the place, out of respect for the shrine of saint Baba Farid, inspire reverence.

The soul of the city is famous saint Farid-ud-Din Masud Ganj Shakar commonly known as Baba Farid. The saint was born in a village Kothewal (near Multan) in 1173 in a family that had migrated from Afghanistan. Saint, scholar and poet, Baba Farid traveled to Khurasan, Kirman, Badakhshan, Baghdad, Mecca Muazzma, Madina Munawara, Kufa, Basra, Damascus, Nishapur, Bukhara, Dehli and Multan before he finally settled in Pakpattan. Here he spent his life in spreading the light of divine Islam.

It was due to the religious services and personal example of the saint that Islam spread in this part of the Subcontinent and many people including Hindu Jogi Birnath along with his followers came into the folds of Islam. The saint died in 1265 and his shrine was constructed by Khwaja Nizam ud Din Auleya in 1267.

Splendors of the ‘Farid Complex’ fire the imagination. The shrine - simple and destitute of ornament - stands next to the bigger shrine of his grandson Ala ud Din Mouj Darya, which was built by Sultan Muhammad Tughlaq. The main chamber of the shrine of Baba Farid has two doors - one in the East is called Noori Darwaza and the other in South in famous Baheshti Darwaza. Besides the principal grave of the saint, there is another grave in the chamber where his son Badr ud Din Suleman is buried. The ample, pure and unadorned architecture is very inspiring. Urs of the saint is celebrated in the month of Muharram but large of devotes stream into the shrine everyday. You can also see Qawwal groups performing and malangs falling in state of trance mostly on Thursdays.

Both the principal shrines are in good condition but the adjoining ancient mosque has decayed. Auqaf is constructing a new mosque nearby as a part of Farid Complex. Besides the shrines of Baba Farid and Mouj Darya, there are over twenty shrines of saintly persons in the town. Most eminent out of these is the shrine of Baba Aziz Makki.

There is a whole different world outside the shrine parameters. Cubbyhole shops selling deathbed spreads, flowers, big bangles and sweets (for niaz) known as Makhane and eating joints are lined up in both the streets leading to the shrine. Business in the streets is thriving because devotees ‘must’ take something home from the shrine. Sleazy sounding and persistent beggars flock around devotees heading for the shrine. People are seen distributing free food: cooked food is available for sale in large quantity round the clock. A philanthropist from Karachi is running a separate Lunger Khana at his own expense since 1995. Bustling with activity, the place seems to have its own culture.

How the name Ajudhan was changed to Pakpattan? It is a fact that name Pakpattan (meaning pure ferry) distinguished due to the home and last resting-place of Baba Farid. According to a local lore, Mughal King Akbar on the eve of his visit to the shrine to pay homage to the saint declared Pakpattan as an official name of the town. The thought that so many people including Ibn-e-Batuta, Guru Nanik Dev Jee and Waris Shah had visited the shrine evokes awe and aura of eternity.

Wandering about in the older part of town near the relics of Kacha Burj - defensive tower that was erected by Haibat Khan during the rule of Sher Shah Suri, you can think about the strategic importance of this town in the bygone era. But, during Mughal time when danger from the North reduced, the town lost its defensive significance.

Pakpattan was first declared district headquarters in 1849 when British rule established in the Subcontinent. The headquarters were later moved to Gugera in 1852 and then to Sahiwal in 1856. British also instituted Pakpattan Municipal Committee in 1868. Kasur-Lodhran section of Railway line was laid in 1910 and Pakpattan became an important station on the Railway map because of railway divisional headquarters and loco sheds. Though this section of railway line was torn apart and sent to Mesopotamia during Second World War and the town could not prosper as an agricultural market in those days. On July 1, 1990, Pakpattan was again declared district headquarters. This became the only district of the country without any tehsil until Arifwala tehsil was included in the district in 1995.

In order to preserve the bits and pieces of history lying under the layers of time, the experts could carry out a survey to record the places having essential significance. The living heritage should be declared as ‘protected area’ - A concept that presently is not there in Pakistan.

This post first appeared in S.A.J. Shirazi’s blog Light Within.

by Owais Mughal at January 28, 2009 01:52 AM

January 27, 2009

Pak Bloggers

5 Stock Photography Sites To Sell Photos Online

Internet makes it possible to sell your photos online to make you some money online. I would suggest you to go for stock photography if you have got some great shots with your camera. People are getting highly quality digital cameras day by day and if you are one of them, you may want to sell photos that you have in your collection.


If you want to make good money from stock photography I will suggest you to learn and practice beyond your family and friends snapshots. So you are more likely to be successful in this field if you have got something a little different.

Here is a list of five stock photography websites

iStockphoto


iStockphoto is one of the most famous stock photography website. They are in business since 2001 and have a large collection of photographs. You need to signup to sell your photos and iStockphoto will need three samples of your work and a little quiz to pass you. Once you are a member of iStockphoto, you have most chances to sell your photos online since they get really good traffic.
You will get 20 to 40 percent of downloads of your photos.

Stockxpert


You need to signup as a regular user at Stockxpert and then apply to be a seller. They require some samples of your work and once you are approved to sell photos, you get 50% of the price of each photo. Once you have a seller account on the site, you have you own private area to manage your stuff and monitor your sellings.

Fotolia


Fotolia gives you highest percentage (64%) of your photos selling price. They also accept more photos to sell than other sites so I will recommend starters to try out Fotolia. They also have forums so you can discuss industry trends with other professionals. They do not have much traffic as other sites but they can be a great choice for starters so give it a try.

Crestock


You need to register a free account at Crestock to have a look at terms and conditions which are almost same as other sites. You will get 30% of the price that your images will sell for. The signup is simple and you can start uploading photos immediately. Crestock reviews your photos to make them available for purchase.

Dreamstime


Dreamstime offers prices on basis of number of times the photos are downloaded so better selling photos have higher price tag. Photographers get 50 to 60 percent of price. They also offer bonuses for sellers. So just setup an account and submit a sample photo to start with them. They will review your photos and upon approving, photos will be available for purchase.
Selling photographs online does not make you rich quick but doing a little work you can keep uploading photos to sell and can make reasonable money online using this way. For people who like photography, it is best way to make money doing what they enjoy.

by Sohail at January 27, 2009 11:15 PM

Mubi

Fire and Ice

Some say the world will end in fire
some say ice

From what i have tasted of desire
I hold those who favour fire

But if it had to perish twice
I think i know enough of hate

To say that for destruction ice
Is also great
And would suffice


robert frost

by Mubi (shalaly_p@hotmail.com) at January 27, 2009 09:56 PM

خاور کھوکھر

تعلیم دشمنی

طالبان کی سکول دشمنی کو پيچھے ایک راز کی بات هے جو که هماری بہادر فوج لوگوں کو بتانا نہیں چاھتی
وه راز یه ہے که حکومتی فوجی یا ملیشیا والے اپنے ٹھکانے سکولوں میں بناتے هیں ـ
تو جی حمله پھر سکول پر هی هو گا ناں جی ـ
میڈیا ہے دنیا کی بہادر ترین کہلوانے کی شوقین پاک فوج کے پاس
تو
جی
جو چاھے آپ کا حسن کرشمه ساز کرے
اصل میں میں یه بات اردو جہاں نام کے بلاگ پر ان کی ایک پوسٹ لیڈیز فسٹ پر کومنٹ میں لکھنا چاھتا تھا
لیکن وهاں میرے لیے تبصرھ کرنا ممکن نهیں هو پته نهیں کیوں ؟
هر بار ایرر اتا ہے
بات یه ہے که هماری حکومتوں کا وطیرھ رها ہے جی صدیوں سے بلکه هزاروں سال سے که هم جب هندو تھے تو تب بھی برهمن عام لوکوں کی تعلیم کے خلاف تھے اور جب
هم ملسمان هو گئے تو تو برابری کی تعلیمات کا سبز باغ دیکھا کر همیں مسلمان کر کے پھر کچھ هی عرصے کے بعد سید بن کے مسلمانوں کے برهمن بن بیٹھنے والے پیدا هو گئے
اب جی اپ همارے حکمرانوں کی ذہنیت دیکھ لیں
تاحیات چئیر مینی
طاقت کل بننے کی کوشش
وغیرھ ان کا بس چلے تو برهمن کی طرح لوگوں کو چھودر بنا کر دیں مگر نام کا هی سہی اسلام کی بھی لاج رکھنی هوتی هے
ایک دفعه اندرون سندھ ةرین بر سفر کرنے والے ایک دوست نے بتایا که اس نے دیکھا که وڈیرھ صاحب سیٹ پر بیٹھے هیں او ر باقی سب لوگ نیچے فرش پر
لیکن سیٹیں خالی پڑی هیں
تو جی اس دوست نے وڈیرھ صاحب سے پوچھا که جی ان لوگوں کو بھی سیٹ پر بٹھا دیں ناںجی
تو وڈیرو نے فرمایا
که اپ نے قران نهیں پڑھا ہے ؟
که اللّه جس کو چاهے عزت دے اور جس کو چاھے ذلت ـ
ان لوگوں کو رب نے ذلیل پیدا کیا ہے آپ کون هوتے هیں جی ان کو برابر بٹھانے والے ؟؟
هماری تاریخ میں برصغیر کی تاریخ کی بات کر رها هوں
کس حکمران نے تعلیم کی مخالفت نهیں کی ہے ؟
اگر جی لوگ پڑھ جائیں تو ان کو معلوم هو جائے گا که
پاک فوج کو چوکیداری کے لیے رکھا ہے ناں که
رقبوں پر قبضے کے لیے
اور ناں جی پلاٹوں کی بندر بانٹ کے لیے ـ
اگر آپ نے پاک فوج کو دیکھا جب یه سکیم پر نکلتے هیں تو
سکولوں میں ڈیرھ لگاتے هیں
تو جی ان کے دشمن پھر سکولوں پر هی حملے کرین گے ناں جی ؟؟
یه پاک فوج اپنے هی لوگوں پر حملے کرتی هے اپنے هی لوگےں کو گمراھ کرتی هے اپنے هی ملک پر قبضه کرتی هے
اپنے هی لوگوں کے رقبے اور پلاٹ ھتھیالیتی هے
چلو جی بقول شخصے
گھر کی عزت گھر میں هی رھ جاتی هے
دیوار کو باهر گرنے سے پہلے اندر هی گرا لیتے هیں ـ
بیگانے پتروں سے پہلے هی گھر میں هی ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

by خاور کھوکھر (ellha@yahoo.com) at January 27, 2009 09:09 PM

Islamabad Metro Blogs

Rainbow in Islamabad

Rainbow in Islamabad, originally uploaded by MobeenAnsari.

the prettiest thing that I’ve seen this season :)

by A for [pine]Apple at January 27, 2009 08:53 PM

غمخوار

انتہائی کمیاب معدنی منرل کی جاپان کو سپلائی ـ

انتہائی کمیاب معدنی منرل کی جاپان کو سپلائی ـ
ویت نامی حکومت نے کہا ہے که ویت نام ، جاپان کو ایک قسم کا کمیاب معدنی منرل ایکسپورٹ کر ے گا جو که هائی ٹیک کی تیکنیک کے پرزھ جات کی تیاری میں کام آتا هے ـ
اگلے مالی سال سے جاپان کی ٹیوٹا تسوبو اور شوجیتز کاپوریشن ویت نام حکومت کے ساتھ مل کر کانوں کی کھدائی کاکام شروع کردیں گے ـ
اس کمیاب منرل کا ٩٠ فیصد چین سے منگوایا جاتا ہے
ویت نام سے معاھدے سے جاپان امید کرتا ہے که تسلی بخش سپلائی کا انتظام هو سکے گا ـ
خام معدنی منرل جیسے که ایلیمنٹ لینتھیم ، سی ریوم ،اور نیوڈمییم مقناتیس بنانے میں ایک اهم جزو هیں ـ
اس کے علاوھ موٹر سازی کی صعنت اور کمپیوٹر کی هارڈ ڈسک بنانے میں بھی کام اتے هیں ،
اس لیے خیال کیا جاتا ہے که ان منرل مانگ میں اضافه هو گا

by ایڈیٹر at January 27, 2009 08:38 PM

بحری قزاقی کے خلاف جاپان کی تیاری اخری مراحل میں ـ

بحری قزاقی کے خلاف جاپان کی تیاری اخری مراحل میں ـ
زرائیع نے بتایا ہے که وزیر دفاع حامادا یاسوکازو بدھ کو حکم کرنے والے هیں که سیلف دیفنس فورسیز صومالی قزاقوں کے خلاف کاروائی کی تیاری کریں ـ
یه مشن جاپانی بحری جہازوں کو صومالی قزاقوں کے تحفظ کے لیے تیار کیا جارها هے
جاپانی جہاز رانوں کی ایسوسی ایشن نے وزارت ٹرنسپورٹ کے ذریعے وزارت دفاع کو یه درخواست کی ہے که ان کو صومالی قزاقوں سے تحفظ فراهم کیا جائے
اب تک کے صومالی قزاقوں کے ریکارڈ کے مطابق ١٥ سے ٢٠ ناٹ کی سپیڈ سے چلنے والے جہازں پر یه قزاق حملے که اهلیت نہیں رکھتے
اس کے علاوھ گاڑیوں کی ٹرانسپورٹ والے جہازوں جن کی سائیڈ بہت اونچی هوتی هیں ان پر بھی اب تک یه قزاق حمله نهیں کر سکے ـ

by ایڈیٹر at January 27, 2009 08:37 PM

Abdul Sami

City of angels…

I watched Slumdog Millionaire and though I liked what I saw, I found it extremely predictable.

So when a few keen lovers asked me my impression, I told them that. They accused me of being cynical. I told them it is a great movie but I do not see it being the best movie of the year.

They remind me I have not seen any movies this year. I admit and agree.

Question pops us… so what is your favourite movie then.

So many !!!

I answer a few… and in those few… I am reminded of City of Angels…

Oh how I love that movie!!!

Most great movies take around 15 minutes to 30 minutes to get you absorbed.

City of angel has you sitting on the edge before you have actually seen anything… it starts off with the producers of the movie silently, and then sound effects absorb you!

15 minutes later… you see Meg Ryan… wow wow wow… lol !!!

My favourite bits are when she is describing tastes of different things to him, not knowing why he asks, as a game perhaps, how she puts those feelings into exact words… and still makes them sound beautiful.

And how it all ends…

Wow… pure genius!!!

I may be writing this review a decade or so late… but hey… I may be writing this again and again and again !!!!

And if YOU have not watched it in a long time, or never (really???) I suggest you do !!!

by Abdul Sami (noreply@blogger.com) at January 27, 2009 08:27 PM

بدتمیز

پھر عرض کیا ہے

I quote.

“ہم “HE ” ہیں یا ” she ” یہ بھی ایک راز ہے کیونکہ یہ سیکرٹ فائل ہے”

نتیجتہ عرض کیا ہے۔

He ہے نا She ہے

اللہ جانے کی ہے

واہ ہم تو شاعر ہو گئے۔

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

by بدتمیز at January 27, 2009 07:06 PM

میرا پاکستان

ناتجربہ کاری نقصان دہ ہوتی ہے

اگر کسی ناتجربہ کار کو جہاز، بس یا ٹرین کا کنٹرول دے دیا جائے تو وہ اپنی جان کیساتھ ساتھ دوسروں کی جان بھی گنوا بیٹھتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بھی محکمے میں سینئرز کو سپرسیڈ کر کے جونیئر کو انچارج بنا دیا جائے تو وہ محکمہ تنزلی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی موقعے پر کہتے ہیں “بندر کے ہاتھ میں ماچس دے دینا”۔

کرکٹ کے کھیل میں بھی اگر جونیئر کو کپتان بنا دیا جائے تو میچ جیتنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ تازہ مثال انگلینڈ کرکٹ کے دو دن رہنے والا کپتان پیٹرسن اور پاکستانی ٹيم کے کپتان شعیب ملک کی ہے۔ ہمارے خیال میں کرکٹ ٹيم کا کپتان اسے ہی بننا چاہیے جو اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہو تا کہ اس کی بزرگی اور تجربے سے پوری ٹيم فائدہ اٹھا سکے۔ اسی طرح کپتانی کیلیے آدمی کا بارعب اور ڈسپلن کا پابند ہونا ضروری ہے یعنی کپتان ٹيم میں ڈسپلن قائم رکھ سکے اور کوئی اس کی حکم عدولی نہ کر سکے۔ کپتان کیلیےضروری نہیں کہ اسے بدیشی زبان پر عبور حاصل ہو ہاں اگر وہ انگریزی جانتا ہے تو پھر اس کیلیے زیادہ اچھا ہے۔ ورنہ وہ اپنی زبان میں تب تک بات کرتا رہے جب تک اسے انگریزی پر عبور حاصل نہ ہو جائے۔ انگریزی پریس کانفرنس میں تو کام آ سکتی ہے مگر میچ جتوانے میں مدد نہیں دے سکتی

ہمارے ہاں ان اصولوں کو پس پشت ڈال کر کپتانی اپنے من پسند اور جھولی چہک لوگوں کو دینے کا زیادہ رواج ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ٹیم تسلسل کیساتھ بہتر کارکردگی کا مضاہرہ نہیں کر پا رہی۔

شعیب محمد کو یونس خان، محمد یوسف اور دوسرے سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں کپتان بنایا جانا نہ صرف پاکستان کیساتھ زیادتی تھی بلکہ شعیب کیساتھ بھی۔ وہ کپتانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکا جس کی وجہ سے پاکستان کیساتھ ساتھ اس کا اپنا وقار بھی خاک میں ملا۔

شیعب ملک کو کپتانی سے ہٹا کر یونس خان کو کپتان بنانے کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔ امید ہے یونس خان سینئر ہونے کی بنا پر ٹیم میں ڈسپلن اور اتحاد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

by ميرا پاکستان at January 27, 2009 06:58 PM

علمدار

لوکل ویب سرور بنائیے

لوکل ویب سرور بنانے کے لیے آپ کو اپنے کمپیوٹر پر آئی ایس ایس، پی ایچ پی اور مائی ایس کیو ایل انسٹال کرنا ہو گا۔ ان تینوں کی انسٹالیشن کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ کوئی بھی فورم اسکرپٹ، ویب سائٹ یا بلاگ وغیرہ اپنے کمپیوٹر پر ہی انسٹال کر کے اس پر کام کر سکیں۔

تقریباً ہر ویب ڈیویلپر نے اپنے کمپیوٹر پر لوکل سرور بنا رکھا ہوتا ہے کیونکہ سرور پر فائلز اپ لوڈ کرنے سے پہلے وہ اس پر تمام ٹیسٹنگ کرتا ہے اور مکمل مطمئن ہونے کے بعد ہی سرور پر فائلز اپ لوڈ کرتا ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ہم یہ کام آئی ایس ایس، پی ایچ پی اور مائی ایس کیو ایل کی مدد سے کریں تو آئیے سب سے پہلے آئی ایس ایس کی انسٹالیشن سے کام شروع کرتے ہیں۔

آئی ایس ایس کی انسٹالیشن
آئی آئی ایس یعنی انٹرنیٹ انفارمیشن سروسز مائیکروسافٹ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لئے دستیاب ویب سرور ہے۔ یہ صرف ونڈوز این ٹی اور اس کے بعد کے تمام آپریٹنگ سسٹمز کے لئے دستیاب ہے۔ یہ کوئی الگ سافٹ ویئر نہیں اور نہ ہی الگ سے دستیاب ہوتا ہے۔ اسے ونڈوز کا حصہ ہی مانا جاتا ہے مگر By Default یہ انسٹال نہیں ہوتا اور اسے خود انسٹال کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ونڈوز کے سرور ایڈیشنز جیسے ونڈوز 2000 سرور وغیرہ میں یہ انسٹالیشن کے دوران ہی انسٹال ہوجاتا ہے۔

ونڈوز 2000 میں آئی آئی ایس کا ورژن 5، ونڈوز ایکس پی میں ورژن 5.1 ، ونڈوز 2003 سرور میں ورژن 6 اور ونڈوز وستا میں ورژن 7 انسٹال ہوتا ہے۔ ونڈوز ایکس پی میں انسٹال ہونے والا ورژن 5.1 ایک محدود صلاحیتوں کا حامل سرور ہے۔ اس پر زیادہ سے زیادہ 10 بیک وقت کنکشنز بنائے جاسکتے ہیں لیکن دیگر تمام ورژنز میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ آئی آئی ایس صرف ایک ویب سرور نہیں بلکہ اس کے تحت دیگر کئی سروسز بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ ان سروسز میں اے ایس پی ، ایس ایم ٹی پی اور ایف ٹی پی سروسز وغیرہ شامل ہیں۔

آئی آئی ایس استعمال کرنے کی وجہ اس کا استعمال میں آسان ہونا ہے۔ لیکن اگر آپ پرفارمنس کے حوالے سے بات کریں تو آئی آئی ایس سے بہتر اپاچی سرور ہے۔ چونکہ اپاچی سرور ونڈوز پر اچھی کاکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتا، اس لئے ہم اپاچی کے بجائے آئی آئی ایس کا استعمال کررہے ہیں۔

ہم اب آئی آئی ایس کی انسٹالیشن کا آغاز کرتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ اس مضمون کو لکھتے ہوئے یہ فرض کیا جارہا ہے کہ آپ ونڈوز ایکس پی استعمال کررہے ہیں۔ اس لئے ہم انسٹالیشن کے دوران تمام طریقہ کار اور اسکرین شاٹس ونڈوز ایکس پی کے حوالے سے دیں گے۔

آئی ایس ایس کی انسٹالیشن شروع کرنے سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کرلیجئے کہ آپ کے پاس ونڈوز ایکس پی کی انسٹالیشن سی ڈی موجود ہے۔ کیونکہ انسٹالیشن کے دوران سیٹ اپ پروگرام آپ سے سی ڈی طلب کرے گا۔

اسٹارٹ مینو میں سے کنٹرول پینل پر کلک کرکے اسے کھول لیجئے۔ اب Add or Romove Programs پر ڈبل کلک کیجئے۔ کچھ ہی دیر میں ایڈ اور ریمو پروگرام کی ایپلٹ کھل جائے گی۔ ابتدائی طور پر آپ اس ایپلٹ میں ان تمام پروگرامز کی فہرست دیکھ سکیں گے جو کہ اس وقت آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال ہیں۔ جتنے زیادہ پروگرامز اس وقت انسٹال ہوں گے، اتنی ہی زیادہ دیر میں یہ ایپلٹ کھلے گی۔ اب آپ اس ایپلٹ کے بائیں طرف موجود آپشنز میں Add/Remove Windows Components پر کلک کریں۔ اس بار یہ ایپلٹ ونڈوز ایکس پی کا سیٹ اپ رن کرتی ہے جو کہ ونڈو ز کمپونینٹس وزارڈ ظاہر کرنے کا سبب بنتی ہے۔

آپ اس وزارڈ کے ذریعے ونڈوز ایکس پی میں موجود مختلف کمپونینٹس شامل اور ختم کرسکتے ہیں۔ کمپونینٹس کی فہرست میں پانچویں نمبر پر Internet Information Services موجود ہے۔ آپ اس آپشن کو چیک کیجئے اور پھر Details کے بٹن پر کلک کریں۔ ایک نئی ونڈو کھل جائے گی جس میں آئی آئی ایس کے مزید ذیلی کمپونینٹس موجود ہوں گے۔ کچھ کمپونینٹس پہلے سے منتخب شدہ ہوں گے۔ یہ وہ کمپونینٹس ہیں جو کہ آئی آئی ایس کو چلنے کے لازماً درکار ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں سے کسی کو بھی اَن چیک کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس بات کی یقین دہانی کرلیجئے کہ SMTP Services کا آپشن چیک ہے۔ دراصل ایس ایم ٹی پی سرور ای میلز بھیجنے کے کام آتا ہے۔ جملہ کے بہت سے فیچرز ایسے ہیں جنھیں درست طریقے سے کام کرنے کے لئے اس ایس ایم ٹی پی سرور کی ضرورت ہوگی۔

اس کے علاوہ آپ یہاں ایک آپشن File Transfer Protocol (FTP) Services کا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ آپشن آئی آئی ایس کے ساتھ ایف ٹی پی سرور انسٹال کرنے کے لئے چیک کیا جاتا ہے۔ یہ پہلے سے چیک نہیں ہوگا۔ ہمیں اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں، اس لئے آپ اسے اَن چیک ہی رہنے دیں۔

iis لوکل ویب سرور بنائیے

ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اب آپ OKکے بٹن پر کلک کرسکتے ہیں۔ سب کمپونینٹس کی ونڈو بند ہوجائے گی۔ آپ Next کے بٹن پر کلک کریں۔ اس کے ساتھ ہی ونڈوز ایکس پی کا سیٹ اپ آئی آئی ایس کی انسٹالیشن کی تیاریاں شروع کردے گا۔ کچھ ہی دیر میں آپ سے کہا جائے گا کہ سی ڈی ڈرائیو میں ونڈوز ایکس پی کی انسٹالیشن سی ڈی لگائیے۔ آپ سی ڈی داخل کرنے کے بعد ڈائیلاگ باکس میں OKکے بٹن پر کلک کریں۔ اگر انسٹالیشن ڈسک درست ہوئی تو انسٹالیشن کا عمل آگے بڑھ جائے گا ۔ بصورت دیگر آپ سے درست سی ڈی لگانے کا تقاضہ کیا جائے گا۔ کچھ ہی دیر میں انسٹالیشن مکمل ہوجائے گی اور وزارڈ آپ کو مبارک باد کے پیغام کے ساتھ Finish کے بٹن پر کلک کرنے کی ہدایت کرے گا۔

انسٹالیشن کی درستگی جانچنے کے لئے انٹرنیٹ ایکسپلورر کھولئے اور اس کے ایڈریس بار میں مندرجہ ذیل ایڈریس لکھئے۔

http://localhost
آپ کو براؤزر میں تصویر جیسا منظر نظر آنا چاہئے۔

localhost لوکل ویب سرور بنائیے

اگر ایسا ہی ہے تو آپ نے کامیابی کے ساتھ آئی آئی ایس کی انسٹالیشن مکمل کرلی ہے۔
انسٹالیشن کے بعد اب آپ اپنے کمپیوٹر پر ایکٹیو سرور پیجز بھی رن کرسکتے ہیں اور اگر آپ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بھی انسٹال کرلیں تو آئی آئی ایس پر ASP.net میں بنے ہوئے ویب پیجز بھی چلائے جاسکتے ہیں۔ لیکن ہمیں بنیادی کام کرنے کے لیے بس آئی ایس ایس ہی درکار تھا جو کہ آپ نے کامیابی سے انسٹال کر لیا ہے تو آپ نے لوکل ویب سرور بنانے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔

اگلی پوسٹس میں آپ پی ایچ پی اور مائی ایس کیو ایل کی انسٹالیشن کے بارے میں پڑھ سکیں گے۔

Random Posts

by admin at January 27, 2009 06:35 PM

Dfr agn

Tomorrow’s Schedule

So I have decided to have an off from office tomorrow and most probably the vacation will be spent by watching these recommended movies

  • Forest Gump
  • The Spy Who Came In From The Cold
  • Madagascar-Escape.2.Africa
  • Behind.Enemy.Lines-Colombia

I hope (you pray ;) ) I’ll be able to go through these all :D

by DuFFeR at January 27, 2009 05:34 PM

ڈفرستان

چھٹی گڈی لٹی

لو بھائیو کل میرا چھٹی کا پروگرام ہے اور آج میں دیکھوں گا
Forest Gump
The Spy Who Came In From The Cold
Madagascar-Escape.2.Africa
Behind.Enemy.Lines-Colombia
آپکی دعاؤں کا طالب

by ڈفر at January 27, 2009 05:25 PM

Abdul Sami

NICOP - The Overseas Pakistani Card

So my Pakistani Passport expires this May, and on advice from a friend, I thought this time I would go for an Overseas Pakistani card, aka NICOP (National ID Card for Overseas Pakistanis???).

Now the proper way to do it is of course go visit the embassy, or high commission (capitals dude… capitals!!!) as it is called in this country.

Instead, I decided to Google my way through it, and it paid off!

Now you can download your forms online, fill them in, attach the lots required, and go to the embassy and submit them, pay it off, and wait for that NICOP card to get delivered to home.

However, there is an even better option. You can actually do the whole friggin process online!!!

What you would need is your or/and your parents’ NIC or NICOP number as well as a scan.

Rest of the things like scanned copy of your current passport etc and passport size photographs, as well as signatures should be a breeze!

However, I had to scan a copy of my left thumb’s fingerprint. That was a hard thing to manage. Bit managed I did.

Then you need somebody who already has one of those to attest it for you. If you live somewhere abroad and know a few Pakistanis, one of them is bound to have it.

Once again you need their name, NICOP number, and a scanned copy of their signature.

Only costs $25.

So I went through the whole process in a very easy casual manner, and submitted my application.

Email back… application submitted.

Email back… application rejected! Please fill in your NIC number, and your parents NIC number.

Why? It asks you for the details of your family’s head. I put in ‘Self’ to avoid my father any hassle and signature and form filling. Besides I am a grown up boy now.

So you put in the NIC number of the family’s head, which is mandatory, and your relation.

Then you fill in your details, and your parents names, which are also mandatory. But the NIC numbers are not.

Anyways, I opened up my application again, and copy pasted the NIC number from the family’s head also to the ‘Applicant’ bit, even though I had already chosen ‘self’.

I applied again, and this time, email back… application approved.

What happens next I cannot say, but if you need one of those, then in a lot of countries you can actually get the whole thing done online. Cool inni!!!

ADDENDUM: Sorry forgot to give the website address: www.nadra.gov.pk

 

by Abdul Sami (noreply@blogger.com) at January 27, 2009 05:05 PM

Walking Throug

nadia

Both my sisters have actually insisted that they want a marriage arranged by our elders.  So, with my family looking around for suitable grooms for my sisters, I thought I’d help by looking into matrimonial advertisements in the newspapers. And here’s what I found: Parents invite proposals for their son, MBA, age 26/178, working in Dubai, from [...]

by nadia at January 27, 2009 04:38 PM

Ayesha

taliban


talibanTehrik-i-Taliban Pakistan, Swat, led by Mullah Fazlullah, has grown into a meance that now seems beyond control. 

Yesterday, the newspaper report said that the Taliban in Swat have issued a list of 47 wanted people, most of them are former or present federal and provincial ministers. They’ve ordered them to appear in their court.

The Taliban in Swat have gained strong control as people from those areas say that they have established checkpoints next to the security forces’ checkposts and no one dare to question them.

The people are subjected to listen to the FM channel of Mullah Fazlullah and every person must have a radio set at home. TV isn’t allowed as from 2004 onwards I have been reading in the papers that local residents, being brainwashed, collectively burn their television sets in Matta and Dir areas. 

No one can talk against the Taliban because if they did then they’ve to pay price with their blood. The Taliban don’t even hesitate to kill the women and throw their bodies on the road. Bombing and torching schools (even the boys’ school) or the houses of their opponents are a common act. So are the slaughtering and defacing the dead.

From what we read in the papers and especially hear from the residents of those areas it seems that the security forces have totally failed to nab them. Although people loathe the Taliban but due to fear no one can say anything. 

Swat would be called the Switzerland of Asia. It’s worse than hell now!

      

by Ayesha at January 27, 2009 04:34 PM

Nayni

Aysa bhi ayk haseen daur tha …..

Aaj mujhey younhi yaad aa gya kay hum collage mae kesi ajeeb o ghareeb harkatain kiya kartey they…. When we were in first year of F.Sc hum buhut shareef bachey they …. ghabraye ghabraye ..sharmaye sharmye… bara aadmi ban’ney kay jazbay se sarshaar … din ho ya raat har waqt yahi imagine kartey they as we were doctors and saving ‘precious’ lives … yeh aur baat kay F.Sc kay result k baad ghar walon ne hmari zindgi bchai hahahaha….. Subah 5 min ki nimaz k baa’d 10 minute ki dua mangtey they uss din honay waley tests main achey marks kay liye …. Nashta karnay ka mood tu buhut hota tha but time nahi .. week mae 3 din karna parta tha jub ammi jee F.Sc pe hazar laantain bajhtey hoye apni akloti sahibzadi k murjhay hoye physics k gham mae dublay hotay chehray ko dekhti thee ..yeh aur baat k ub wohi ammi uth’tey beth’tey myri health pae punjabi muhawrey kasti hain hahahaha…. Myri sweet Maan …. khair Collage pohunch kay pehla kaam yeh kartey they kay chupney k liye jgha talash karain taak morning assembly attend na karni paray aur hum raat ko reh janey wala 75% lesson learn kar sakain un 15 minutes mae ;-) … Ayk shareefana kaam hum yejh kartey they kay hum sab periods attend kartey they ..bulk youn keh lain k hum apney ap ko es muamley mae dosron se mumtaz karney ki koshish kartey they kay as we are future doctors so hum ‘bad-dyanti’ nahi kar saktey ;-) …bus itni se garbur kartey they kay lesson kay doraan ya tu soo jatey they ya phir sketches bnatey they ………. Canteen hum sirf break time mae jaatey they aur pta hum kya khatey they ???? hahaha Biscuits with Mirinda ……. pta nahi kion …. Girls hmarey group ka mazaq uraia karti thee but hum tu phir hum they ..Khaa man bhaata tae paa jug bhaata kay sunehri asool pe karbund yahi haseen lunch kartey they …..

Sab se sangeen marhla lab mae janey ka hota tha…. Allah bhala karay group fellows ka jinho ne myrey hisay k bhi frog ‘zibah’ kiye … main sirf uss k systems pe rawan tabsra karti thi… Chemistry kay sarey practicles Noor perform karti thi aur hum neat neat tables draw kar k readings note kartey they …. Physics toba toba …. zahar lagta tha mujhey yeh subject …Friction ka topis tha naa es mae hahahaha …… Ub bhala itni shandar karkardgi k baa’d kon zalim Doctor bun sakta thaa…..;-)

Chalo acha hee hoya nahi bani warna aaj kal roads pe naaray laga rahi hoti aur koi pata nahi ‘hawalaat’ mae hee bund hoti … hyeee Allah jee thankio thankio …Aap jo kartey ho hmaray bhalay k liye hee kartey ho ….. :-D

by Nayni at January 27, 2009 04:24 PM

Lahore Metro Blogs

The Power of Community: Things Pakistan can Learn from Cuba

This might be a scary movie for rest of the world. But Pakistan and Pakistani may learn from it. Cuba after collapse of soviet union faced two major issues.

  1. Energy Crisis (Peak Oil Prices – Power Shortages of up to 14 – 16 hours a day)
  2. Shortage of Fertilizer (Leading to food shortages)

This is a story of how Cubans, who were an educated nation of doctor and engineers, stood up against all odds and survived gracefully. people believed that sharing what little they DID have (food, land, resources) with each other was more important and for the greater good than hoarding it for themselves. Also the government was very encouraging, and allowed all unused urban land to be turned into incredibly productive gardens.

Cuba's Economic Crisis

Click on the image to see the video

With shortage of fertilizers and power cuts, We are also as vulnerable to a sudden collapse of our current agricultural systems. Watch this one for some inspiration on how to get our Pakistan out of the current Mess!

Also, in last couple of weeks, I have fallen in love with  TED.com again. There are some really inspirational videos over there. have a nice day!

by R. MAK. at January 27, 2009 04:17 PM

شکاری

کر لو گل

صبح دوکان پر جاتے ہوئے آگے والی بس سے ایک بندے نے پان کی پیک تھوکی جو پاس سے گزرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار پر گری بائیک والا تیار ہو کر شاید اپنے آفس جارہا تھا لیکن اس کے کپڑے بری طرح خراب ہوگئے میرا خیال تھا اب اس پان کی پیک تھوکنے والے کی خیر نہیں ہے بائک والا اس کی اچھی خاصی دھلائی کرے گا یا کم از کم نسل ہا نسل کی گالیوں سے ضرور نوازے گا۔
بائیک والا رکا ہیلمٹ اُتارا اور بات کرنے کے لیے منہ کے مختلف زاویے بنانے لگا، اتنے میں‌ بس چل پڑی اور پیک پھنکنے والے نے ہاتھ کے اشارے سے معذرت کی اور بائیک والا بھی خاموش ہوگیا۔
مطلب یہ کہ اس نے بات کیا کرنی تھی خود اس کے منہ میں بھی پان تھا جو اس نے وہیں سڑک کو رنگین کرتے ہوئے پھینک دیا۔

by شکاری at January 27, 2009 04:16 PM

Abdul Sami

Slovenia

I am using Outlook after a long time to post to my blog. I normally use Windows Live Writer (www.live.com) and it works great with my blog. However, the ability to just email to a secret email address and be able to post to your blog is just amazing.

So the news is that, though it is not confirmed yet, I maybe headed to Slovenia soon. One of the lesser known countries of Eastern Europe, it is one of the countries that found freedom once USSR was no more.

Most of what I know about it is from Veronica Decides to Die by Paulo Coelho. Funnily, it also discusses the fact that not many people in the world know of it!

I, myself, never imagined I would be travelling to Slovenia one day. I look forward to it! This would be my first trip to an Eastern European country as well as to one formerly part of USSR.

Let us see what it brings!

by Abdul Sami (noreply@blogger.com) at January 27, 2009 02:53 PM

عادل جاوید

مجھ سے پہلی سی محبت،

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستان کو کبھی بھی مخلص قیادت نصیب نہیں ہوئی؟؟؟ آج تک کوئی بھی حکمران عوامی امنگوں کی نمائندگی نہیں کر سکا۔ میرے نزدیک پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسلہ مخلص قیادت کا فقدان ہے۔

by عادل جاوید چودھری at January 27, 2009 02:23 PM

جہانزیب

لیڈیز فرسٹ

ہم سواتی طالبانی ٹولہ کو مفت میں غیر مہذب سمجھتے رہے، جو صرف خواتین کی تعلیم پر نالاں تھے ۔ اس ناراضگی کو ہر روز کہیں نہ کہیں خواتین کے سکول اور کالج منہدم کر کے اُن کا اظہار کر رہے تھے ۔ لیکن اکثر خیالات کی طرح یہ خیال بھی درست ثابت نہیں ہوا، سی این این کی اِس خبر کے مطابق آج بروز پیر کے با برکت دن طالبانی ٹولہ نے لڑکوں کے ایک اسکول کو بارود سے منہدم کر دیا ۔

سوات، طالبان نے لڑکوں کا اسکول منہدم کر دیا

سوات، طالبان نے لڑکوں کا اسکول منہدم کر دیا


لڑکیوں کے اسکول تو اصل میں مشہور انگریزی مقولہ “لیڈیز فرسٹ” پر عمل کرتے ہوئے پہلے منہدم کئے گئے تھے، پتہ نہیں اب بھی لوگ طالبان کو غیر مہذب اور تہذیب سے عاری وحشی کہنے پر کیوں تُلے ہیں؟ اس سے ایک اور بات بھی واضح ہوتی ہے کہ طالبانی ٹولہ پر لگا یہ الزام کہ وہ صرف لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں، درست نہیں ۔ بلکہ ماشاللہ وہ تو تعلیم کے ہی خلاف ہیں ۔ اللہ پاک ان مجاہدین کو اور طاقت دے، اور طاغوتی حکومت
جو ہم پر مسلط ہے ، اسے جڑ سے اکھاڑنے میں اِن کی مدد فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔ماشاللہ اب تک ایک سو بیاسی اسکول منہدم کئے جا چکے ہیں۔

by جہانزیب at January 27, 2009 01:57 PM

وارث

بابائے اردو شاعری، ولی دکنی کی ایک غزل

بابائے اردو شاعری، شمش ولی اللہ المعروف بہ ولی دکنی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ نے اردو شاعری کو حسن عطا کیا اور جو شاعری پہلے صرف منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کی جاتی تھی آپ نے اسے باقاعدہ ایک صنف کا درجہ دیا اور یوں ایک ایسی بنیاد رکھی جس پر اردو شاعری کی پرشکوہ عمارت تعمیر ہوئی۔

مولانا محمد حسین آزاد، “آبِ حیات” میں فرماتے ہیں۔

“اس زمانے تک اردو میں متفرق شعر ہوتے تھے۔ ولی اللہ کی برکت نے اسے وہ زور بخشا کہ آج کی شاعری، نظمِ فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں، تمام بحریں فارسی کی اردو میں لائے۔ شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا، ردیف وار دیوان بنایا۔ ساتھ اسکے رباعی، قطعہ، مخمس اور مثنوی کا راستہ بھی نکالا۔ انہیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی کی نظم میں چوسر شاعر کو اور فارسی میں رودکی کو اور عربی میں مہلہل کو۔”

Wali Dakani

مولانا آزاد کے زمانے تک ولی دکنی کو اردو کا پہلا شاعر مانا جاتا تھا، جدید تحقیق سے گو یہ اعزاز تو انکے پاس نہیں رہا لیکن اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے جو اوپر مولانا نے کہی ہے۔

ولی کی ایک خوبصورت غزل لکھ رہا ہوں، اس غزل میں جو متروک الفاظ ہیں انکے مترادف پہلے لکھ دوں تاکہ قارئین کو دشواری نہ ہو۔

سوں - سے
کوں - کو، کر
یو - یہ
سری جن - محبوب

تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا

دی حق نے تجھے بادشَہی حسن نگر کی
یو کشورِ ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا

تعریف ترے قد کی الف دار، سری جن
جا سرو گلستاں کوں خوش الحاں سوں کہوں گا

مجھ پر نہ کرو ظلم، تم اے لیلٰیِ خوباں
مجنوں ہوں، ترے غم کوں بیاباں سوں کہوں گا

دیکھا ہوں تجھے خواب میں اے مایۂ خوبی
اس خواب کو جا یوسفِ کنعاں سوں کہوں گا

جلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن
یہ سوز ترا مشعلِ سوزاں سوں کہوں گا

یک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نہیں بے جا
اس مُکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا

زخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی انی نے
یہ زخم ترا خنجر و بھالاں سوں کہوں گا

بے صبر نہ ہو اے ولی اس درد سے ہرگاہ
جلدی سوں ترے درد کی درماں سوں کہوں گا

———————

بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولَن
(آخری رکن فعولن کی جگہ فعولان یا مفاعیل بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا

تج لب کِ - مفعول - 122
صِفَت لعل - مفاعیل - 1221
بدخشا سُ - مفاعیل - 1221
کہو گا - فعولن - 221

جادو ہِ - مفعول - 122
ترے نین - مفاعیل - 1221
غزالا سُ - مفاعیل - 1221
کہو گا - فعولن - 221

ShareThis

by محمد وارث at January 27, 2009 01:48 PM

Ibetda

naqsh.


..after a short but much needed break.

You know something is right, when you have a great time despite having to cancel an out of city trip and being stuck at home for days without internet (laptop’s charger fried) OR cable (the cable wala flipped).

We switched off the cell phones and had five amazing days free from any kind of intervention.

Doesnt that rock?

      

by ibteda at January 27, 2009 12:52 PM

حسن مغل

میڈیا

سمجھ نہیں آتی کہ بھلا ہاتھ میں بڑا سا مگ لیے اول فول بولتی خآ تون ،ورزش کے نام پر اچھلتی کودتی لڑکی اور خوش رہنے کے طریقوں پر مبنی گھنٹے بھر کا لیکچر جس کا ما حصل یہ ہو تا ہے کے خوش رہنے کے لیے ضروری ہے کہ خوش رہا جائے ناخوش نہ رہا جائےاور بس خوش رہا جائے۔۔بھلا یہ سب نوجوانوں پر منفی اثرات کیسے ڈال سکتا ہے۔۔۔۔
ہا ں مگر پھر بھی میڈیا ہمارے نوجوانوں پر منفی اثرات ڈال تو رہا ہے ان اثرات کو سمجھنے کے لیے ضڑوری ہے کہ پہلے ہم نوجوانوں کو سمجھیں ہمارے ہاں عموماً دو اقسام کے نوجوان پائے جاتے ہیں‌ایک وہ جو با لکل بھی فارغ نہیں اور دوسرے جو با لکل ہی فارغ ہیں۔۔
اب جو با لکل ہی فارّغ ہیں وہ اب اتنے بھی فارّغ نہیں‌ کہ مار ننگ شوز دہکھ پائیں اب نیند لینا بھی تو ان کے فرائض میں شامل ہے نا۔۔ یہ قسم عموماً سر شام سے رات گئے تک میڈیا کے زیر تسلط رہتے ہیں۔۔اور یوں‌ہی کو ئی اوٹ پٹانگ قسم کا میوؤیکل شو دیکھتے ہوئے ان پر انکشاف ہوتا ہے کے کوئی ہے جو ان کے جذ بات کو سمجھتا ہے اور انہیں ملکہ عالیہ کو منانے کے لیے 12 آنے کا پیکج دے رہا ہے ۔۔۔ارے ز بردست!‌
سو یہ “نرگسوں” میں پلے ” زخًم خوردہ ” شاہیں‌ منہ اندھیرے (ہعنی دن 12 بجے ہی، “را ہ رسم شہبازی “نبھانے کے لیے یہ پیکج خر یدنے نکل پڑ‌تے ہیں۔۔۔اور گلی کے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر جی جان ایک کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب دوسری جانب نا راض بیٹھی ملکہ عالیہ بھی کوئی ایسے ہی فار غ نہیں بیٹھی ہو تیں‌۔۔۔ وہ میڈ یا سے پوری
ٹر یننگ لے رہی ہو تی ہیں‌۔۔۔ میڈیا انہیں بتا تا ہے کہ کیسے انہیں اپنے متوقع ظالم و جابر سسرال میں جا تے ہی ایک خؤ فنا ک بلا کا روپ دھار نا ہے یا پھر یہ کہ بے وقوفی کی حد تک معصؤ میت سے زندگی کے سنجیدگی طلب
مسا ئل سے نبرد آزما ہو نا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو نوجوان زندگی میں لو میرج کے علاوہ بھی کچھ کر نا چا ہتے ہیں ۔۔۔اور زندگی میں بیت کچھ سیکھنا اور آگے بڑھنا چا ہتے ہیں ،ان کے لیے میڈیا کے پاس کچھ بھی نہیں۔۔۔کیر ئیر کونسلنگ کے پرو گرام آٹے میں نمک سے بھی کم۔۔میڈیا نہیں بتا تا کے آجکل کون کونسی فیلڈ ز میں کیا کیا موا قع ہیں ۔۔۔۔ کوئی فا صٌلاتی تعلیم کا پروگرام نہیں۔۔۔کوئی ادب ،تمیز کی بات نہیں۔۔۔۔میڈیا کو صرف اور صرف آرٹ اور کلچر کی بڑھوتی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے اور کلچر بھی وہ جس سے دوری کی بنا پر اس مملکت کی بنیاد رکھی گئی۔۔۔۔آج اسکو اپنا کہلوانے کے لیے میڈیا دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
طاوس و رباب کو اولیت دینے والا میڈٰیا معا شرے مین اپنی ذمہ داری کو سمجھ ہی نہیں پا یا ۔۔۔۔ مذ ہبی پروگراموں میں بھی کردار کے غازیوں کی بجائے الفاظ کے جا دوگروں کا میلہ یوں لگتا ہے کہ ایک با شعور نوجوان خؤد کو مسلمان کہلوانے میں عار محسوس کر نے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اب بات رہی ہماری ذمہ داری کی تو ۔۔۔ نو جواں میڈیا‌کے منفی اثرات دیں سے دوری کی بنا پر لے رہے ہیں۔۔۔اس کے لیے مثال مغرب سے لی جا تی ہے کہ وہاں مذ ہب کو دنیاوی معا ملا ت سے ا لگ کر نے کی بنا پر ہی ترقی ہوئی ہے ،مگر اس دوری کے معاشرے پر اثرات کا جائزہ بہی تو لیا جائے۔۔۔۔۔۔مذ ہب کچھ بھی نہیں ہے صرف انسان اور حیوان میں پہچان کا ذریعہ اور انسان کو مہذ ب اور پر امن معا شرہ مہیا کر نے کا ضا من ۔۔۔۔۔
ریسرچ ،علم کے حصول اور ایجادات سے مذ ہب نے کب منع کیا ہے۔۔۔۔صر ف دین سے قر بت ہی میڈیا کے پھیلا ئے
ہوئے منفی اثرات کا واحد حل ہے۔۔۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ جیسے انہوں نے اپنے بچے کو پاوں پاوں چلنا سکھا یا۔۔۔ نو جوانی میں ایک بر پھر اس
آُ پ کی ضرورت ہے ۔۔۔وہ چلتے ہوئے لڑ‌کھڑاے گا۔۔۔شاید گر بھی پڑے۔۔۔اسے سہارا دیجیے۔۔پرائیویسی اور شخصی آزادی کے نام پر اسے اس بھیڑ میں تنہا مت چھو ڑیں۔۔۔۔۔

نوٹ یہ مضمون یہاں سے لیا گیا ہے۔

Share/Save/Bookmark

by حسن at January 27, 2009 11:08 AM

Islamabad Metro Blogs

Obituary…

Prof. Ahmad H. Dani died yesterday.

This certainly marks one of the saddest day in the history of our beloved city - Islamabad.

Sir - You made us proud by living within us.

May Almighty forgive his sins, bless his soul, give his family the patience to accept God’s will and us - the residents of the city he chose to live in - the capacity to propagate what he stood for all his life - knowledge and exploration.

Amen!

by Talha Masood at January 27, 2009 09:42 AM

Aadil

Aadil


Like the war-ravaged
world I reside in,
a battle-zone
lies in the cells of
my brain stretching to
the areas inside my chest,

where my role constantly
changes from a peace-maker
to an active soldier
to a mere spectator.

As if fueled by
an external beneficiary,
the trouble never settles.

Torn, whenever I try
to seek refuge
in a peaceful heart
I’m readily refused,
for strangers are
feared as trouble-makers.

Amid the failure
of all the counselling
options, I hope for a
divine intervention
to unite the warring
factions of body and soul
into a contented whole.

      

by Aadil at January 27, 2009 07:02 AM

ابو شامل

احمد حسن دانی انتقال کر گئے

معروف تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دانی جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ مرحوم ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے جس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ انہیں 14 زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں اردو اور مقامی زبانوں پشتو، سندھی، پنجابی، کشمیری، سرائیکی کے علاوہ [...] No related posts.

by ابوشامل at January 27, 2009 06:40 AM

بلو

بچپن کی غلط کاریاں

ڈفر نے کل ایک کمینٹ دیا تھا کہ اس قوم سے غلطی کے سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی تو میرے ذہن میں آیا کہ واقعی اس قوم نے غلطیوں کے علاوہ کچھ کیا بھی ہے یا نہیں۔ غلطی سے دنیا کے نقشے پہ چند آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ کے ایک [...]

by بلا at January 27, 2009 06:38 AM

علمدار

ثمرات الصلاة- آخری حصہ

نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے:
اے میرے مسلمان بھائی! نماز طاعت و بندگی بجا لانے اور برائیوں سے دور رکھنے کا بہترین داعی سبب ہے۔
اے میرے بھائی! آپ نے دن رات میں اللہ کی طرف پوری توجہ کے ساتھ اس کی خوشنودی کے لیے پانچ مرتبہ نماز ادا کی ہے، اس کا آپ پر کیا اثر پڑا ہے؟ کیا آپ کی نماز نے آپ کو بے حیائی اور برائیوں سے روک دیا ہے؟ یقیناً نماز کے عظیم ترین ثمرات میں مصلی کو بے حیائی اور برائی سے روک دینا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ’’جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے، اور نماز قائم کریں۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اور بے شک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ ﴿العنکبوت ۴۵﴾
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے روکنے اور باز رکھنے کا بڑا سامان موجود ہے۔‘‘
ابوالعالیہ نے فرمایا: ’’نماز کے اندر تین باتیں ہوتی ہیں۔ ایک اخلاص، دوسری خشیت، تیسری اللہ کا ذکر۔ لہٰذا جس نماز میں یہ تین باتیں موجود نہ ہوں وہ نماز ہی نہیں ہے۔ اخلاص اسے معروف کا حکم دیتا ہے، خشیت اسے برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر قرآن مجید ہے جو اسے امرو نہی جیسے واجب سے نوازتا رہتا ہے۔
میرے پیارے بھائی! آپ اپنے نفس کا محاسبہ کیجیے، کیونکہ کتنے مصلی ہیں جن کی نماز فقط حرکات و افعال اور اٹھک بیٹھک کے سوا کچھ کام کی نہیں ہوتی، لہٰذا ایسے مصلیوں کو آپ دیکھیں گے کہ گناہ و معاصی میں گرفتار ہوتے ہیں اور انھیں ان گناہوں سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔
کیا اس جیسے لوگ اپنی نماز سے کچھ فائدہ حاصل کرتے ہیں؟
اور کیا اس جیسے لوگوں کو ان کی نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے؟

اے نماز سے غفلت برتنے والے! آپ یاد رکھیں کہ آپ کی نماز گناہوں کے علاج و دوا سے کہیں بہتر ہے اور جس شخص کو اس کی نماز معاصی سے نہیں روکتی، اسے اپنے نفس کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیے، نیز اپنی نماز پر کڑی نظر رکھنی چاہیے، اگر اس میں کوئی عیب نظر آئے تو اس کی اصلاح لینی چاہیے۔
اے میرے مسلمان بھائی! یہ ہیں نماز کے بعض ثمرات و فوائد جنھیں مصلی اپنی نماز کے شجر سے چُنتا ہے، شرط یہ ہے کہ اسے کامل طور پر ادا کیا گیا ہو۔
لیکن یہاں ایک لمحہ محاسبہ کے لیے توقف کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے: کس بنا پر بہت سارے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز کے ان ثمرات سے فائدہ نہیں اُٹھا پاتے ہیں؟
یقیناً بہت سارے حضرات ایسے ہیں جو نماز کے ان ثمرات سے نفع نہیں اٹھا پاتے ہیں۔ کیا انھوں نے کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ کس سبب سے ہم نماز کے ثمرات سے مستفید نہیں ہو پا رہے ہیں؟
اس سوال کے جواب سے پہلے آپ ایک لمحے کے لیے ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر توقف کریں۔ ’’ان نمازیوں کے لیے افسوس ﴿اور ویل نامی جہنم کی جگہ﴾ ہے، جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ’’یعنی جو لوگ نماز کو اپنے وقت سے موخر کر کے پڑھتے ہیں۔‘‘ مزید فرمایا: ’’مصلی کی یہی قسم ہے جو اگر نماز پڑھے تو اسے اس کے اجرو ثواب کی کچھ امید نہیں ہوتی، اور اگر وہ ترکِ نماز کا ارتکاب کرے تو اس پر اسے سزا کا خوف نہیں ہوتا۔‘‘
ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ’’وہ وقت کی پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور نہ رکوع و سجدہ کو مکمل ادا کرتے ہیں۔‘‘
یقیناً نماز کے ثمرات سے فائدہ حاصل نہ ہونے کے واضح ترین اسباب میں ایک اسے وقت سے موخر کر کے پڑھنے، یا رکوع و سجدہ کو مکمل ادا نہ کرنے کے سبب ضائع کرنا بھی ہے۔ اور یہ اکثر مصلیوں کو حال ہے جو نماز کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوتے۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جو اوقاتِ نماز کی محافظت نہیں کرتا، وہ نماز کی بھی حفاظت نہیں کرتا۔ نیز جو وضو، رکوع اورسجدہ کی حفاظت نہیں کرتا، وہ نماز کی بھی حفاظت نہیں کرتا اور جو نماز کی حفاظت نہیں کرتا، اس نے اسے ضائع کر دیا۔ اور جو نماز کو ضائع کرے، وہ دیگر فرائض کو مزید ضائع کرنے والا ہو گا۔ اسی طرح جو نماز کی محافظت کرے وہ اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اس کا دین میں کچھ حصہ نہیں جو نماز نہیں پڑھتا۔‘‘
میرے مسلمان بھائی! آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہمیشہ سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھتا ہے، نیز عصر کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا ہے، نیز عشا کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتا ہے، اس کے علاوہ رکوع، سجدہ اور خشوع و خضوع کی کچھ پرواہ نہیں کرتا؟ کیا ایسا شخص نماز کے ثمرات سے نفع اٹھا سکتا ہے؟
یہ اکثر ان لوگوں کی آفت و مصیبت ہے جو اپنی نمازوں کے ثمرات کو نہیں چنتے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’آدمی کی دونوں کنپٹیوں کے بال سفید ہو جاتے ہیں اور اس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک نماز بھی مکمل نہیں پڑھی۔‘‘ دریافت کیا گیا ’’وہ کیسے؟‘‘ ۔ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’نہ وہ خشوع و خضوع کو پورا کرتا ہے اور نہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل توجہ و دھیان لگاتا ہے۔‘‘
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کودیکھا جو رکوع و سجدہ کو مکمل ڈھنگ سے ادا نہیں کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ’’تم نے نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم اس حال میں مر جاؤ تو تمھاری موت اس فطرت کے علاوہ پر ہو گی جس پرا للہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ہے۔‘‘
میرے پیارے بھائی! نماز کے ثمرات کو صرف وہی شخص چُن سکتا ہے جو اس کی ادائیگی میں خلاص کا پیکر ہو، جیسے کاشتکار اپنی کھیتی کے پھل کو اس صورت میں کاٹ سکتا ہے جب وہ کھیت کی جوتائی، سینچائی اور اس پر خصوصی توجہ دے۔ اسی طرح اے نمازی! آپ پر بھی اپنی نماز کو اکمل طریقے پر ادا کرنا، خالص اور سچی نیت کے ساتھ نماز پر مکمل توجہ و دھیان صرف کرنا ضروری ہے۔ اس دن آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو جائے گا جو اپنی نمازوں کے ثمرات کاٹتے ہیں اور اس کی حلاوت و شیرینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
لہٰذا اے میرے پیارے بھائی! آپ غلامانہ نماز پڑھئے اور اس ذات اقدس کی عظمتِ شان کو مستحضر کیجیے جس کے سامنے آپ کھڑے ہیں، ان شاء اللہ العزیز آپ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور آپ نماز کے پھلوں کو توڑنے والوں میں شمار ہو جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر

by admin at January 27, 2009 06:21 AM

MHA

Early morning music

I wrote such a long post, sitting in the train, when suddenly my cellphone ran out of battery. How does it feel? Not too bad, because it was one of the most hopeful posts i've ever written if there is a post of that sort.

Anyways i'm going to pindi and then will be going off to muree inshaAllah from there.

The earlier post which obviously noone will ever see was about change and how i love it. And how getting over things feels like. Right now it feels on top of the world, hamza's still sleeping and imran's still reading mario puzo's dark arena, infact he just finished it, and i'm listening to pink floyd's comfortably numb. Lol, what an unapt song to listen to now, but i love it, and i dont love much of pink floyd just a couple of psychedelic rock songs is what i can normally get into my brain, lol.

This post is pretty different from the last one. Its goin to be about the songs i just listened to.Ummm,starting with some indian song called aja nachle, its a dance number and i always feel like swinging to the beat, then Dancing Jodi from rab ne bna di jodi, love it too, drifting away by faithless, fall for you by second hand serenade (jeddah gave me the song and i loved it), mezarkabul's those who died alone which is a wonderful wonderful composition..., katy perry's i kissed a girl (lol), reminds me of the video haha...hum hain iss pal yahan from the movie kisna, jay z's dirt off your shoulders...passive and orestes by a perfect circle, gardish by karavan, comfortably numb by pink floyd...numb encore...and most importantly, my favourite anthem of all times, One by Metallica...i love it, i love wat lars ulrich has done in this song, he's just a great drummer...sigh, the train's slowed down again, i wonder why, lets go and check out...its kharian!

by m.h.a (noreply@blogger.com) at January 27, 2009 06:07 AM

علمدار

ثمرات الصلاة- ۴

نماز رنج و غم کو دُور کرتی ہے:
یقیناً نماز زندگی کی پریشانیوں، سختیوں اور مصیبتوں پر بہترین مددگار ہے اور آدمی پر جب مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے ازالے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اور اے کمزور آدمی! آپ اپنے رنج و غم اور مصیبت کو دُور کرنے والا، قادر و قوی، بگڑی بنانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ہرگز نہیں پائیں گے جو اپنے ارادے سے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور اپنے رنج و مصیبت دُور کرنے کے لیے اللہ سے فریاد کرنے، اسے پکارنے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کا سب سے قوی وسیلہ نماز کے علاوہ آپ کچھ اور نہیں پا سکتے۔ چنانچہ یہ نماز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید حاصل کرنے میں عجیب و غریب وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ’’پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے۔‘‘ ﴿الصافات:۱۴۴، ۱۴۳﴾
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ’’یعنی یونس علیہ السلام نماز و دعا کرنے والوں میں سے تھے۔‘‘
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ’’نبی کریم حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سخت غم و مصیبت کا معاملہ درپیش ہوتا تو آپ نماز پڑھتے۔‘‘ ﴿اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ صحیح ابوداؤد البانی حدیث نمبر ۴۷۰۳﴾
پھر آپ کا کیا رویہ ہوتا ہے جب آپ پر مصائب نازل ہوتے ہیں؟ کیا آپ ان میں سے ہیں جو نماز کی پناہ لیتے ہیں؟
میرے مسلمان بھائی! یہ نماز کے ثمرات میں سے نہایت عظیم ثمرہ ہے، لہٰذا آپ اس میں کوتاہی برتنے والوں میں سے نہ بنیں۔
کیونکہ آپ نماز میں رنج و مصائب دُور کرنے والے، مجبور و مضطر کی دعا سننے والے اللہ عزوجل سے قریب ہوتے ہیں جب وہ مضطر اسے پکارتا ہے۔
لہٰذا آپ اپنے حوائج و ضروریات بلکہ تمام حوائج و ضروریات کو اللہ کے سامنے پیش کریں اور کسی بھی معمولی ضرورت کو حقیر نہ جانیں، کیونکہ معمولی و تھوڑی چیز بھی میسر نہیں آسکتی اگر اللہ تعالیٰ اسے آسان نہ بنائے۔
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نہایت ہلکی نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: اے بھتیجے! کیا تمھیں اپنے رب عزوجل کے پاس کوئی حاجت و ضرورت نہیں ہے؟ پھر آپ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ سے اپنی نماز میں ہر چیز کا سوال کرتا ہوں، حتیٰ کہ نمک کا بھی۔‘‘
یہ تھے سلف صالحین جو نماز کے لحظات تک کو ضائع کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور ان لحظات کو نہایت قیمتی لحظات میں شمار کرتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بات کی معرفت تامہ رکھتے تھے کہ وہ اس ذات کے سامنے کھڑے ہیں جس سے مسائل پوشیدہ نہیں ہیں۔ لہٰذا اے میرے برادر! آپ اس بات سے ہوشیار رہیں کہ آپ اس عظیم ثمرہ سے غفلت برتنے والوں میں شمار ہو جائیں۔

متعلقہ تحاریر

by admin at January 27, 2009 06:00 AM

ابو شامل

نصر من اللہ و فتح قریب

نصر من اللہ و فتح قریب No related posts. No related posts.

by ابوشامل at January 27, 2009 05:57 AM

Islamabad Metro Blogs

Soup, anyone?

Another inexpensive and tasty winter temptation on my way back from work: The corn soup with ‘anda’ from F-10 markaz.

by sufiblade at January 27, 2009 05:47 AM

ابو شامل

انسانی قیادت کے حصول کے لیے درکار صلاحیت

امتِ مسلمہ آج اس بات پر نہ قادر ہے اور نہ اس سے یہ مطلوب ہے کہ وہ انسانیت کے سامنے مادی ایجادات کے میدان میں ایسے خارق عادۃ تفوق کا مظاہرہ کرے، جس کی وجہ سے اُس کے آگے انسانوں کی گردنیں جھک جائیں، اور یوں اپنی اس مادی ترقی کی بدولت وہ ایک [...] No related posts.

by ابوشامل at January 27, 2009 05:23 AM

عبدالقدوس

کلامِ فراز بعد از فراز

اپنے گھر کی اک اک چیز گنتا ہوں فراز اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد دو ہی لڈوتھے جو میں نے کھا لئے فراز اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد آج اس نے بھی مجھے اجنبی کہہ دیا ہے فراز جو کہتی تھی، کنڈی نے کھڑکا سوہنیا سدھا اندر آ میں تو پہلے [...]

by عبدالقدوس at January 27, 2009 03:53 AM

Pak Bloggers

Free Accelerometer Applications For Nokia N95

Nokia N95 comes pre-configured with the Accelerometer Motion Sensor. Developers have worked on Symbian applications that use the Accelerometer Motion Sensoring feature through its public API and some cool apps have emerged. Here is a list of applications that use Accelerometer.



These applications need the Nokia N95 Accelerometer Plugin Package (N95AccelerometerPlugin.sis). Download it from Here to run on your Nokia N95 phone.
Here is a list of free applications for Nokia N95.

Inclinometer: A cool application for N95 for your road experience. Install it, keep it on your car’s dashboard and it will tell you about the level of your car.

Accelerinvaders: It is a game developed for N95. Control your ship using hand movements and protect the ship from alien attack. (Also works well with Nokia N73, N82, 6120 classic and E51).

Level Tool: Allows using your N95 as level tool.

Ball Game: A simple marble maze game which requires you to move a ball bearing through a maze.

Nokia N95 DJ: Lets you to simulate the iPhone DJ mode on your Nokia N95.

Rock And Scroll: The application made by Keynetik. Functions like another application Nokmote but has better sensitive levels.

ShakeSMS: Allows you to read messages just by shaking or tilting your phone and the phone goes back to idle position by shaking it again.

Flip Silent: very cool app which will silent your N95 phone by just flipping it so if you are in a meeting or class just flip the phone on desk etc and its silent.

NiiMe: Control your computer mouse cursor or play games using Nokia N95. Just uses Bluetooth so no cable is required.

Gmail Client: Instant accesses to your Email on go.

ShoZu: Very nice App for uploading/backup purpose.

Nokia Sports Tracker: For monitoring your fitness, uses internal GPS to log outdoor activities like running and cycling etc.

Smart Movie: Video player for your N95 for playing div x encoded avis.

Wattpad: Read and share stories on your phone.
ScanR: Turn the camera phone into scanner, copier and fax.

by Sohail at January 27, 2009 01:20 AM

Exquisite

Punctuations

"A woman without her man is nothing" Males punctuating the above: "A woman, without her man, is nothing." Females punctuating the above: "A woman: without her, man is nothing."

by exquisite (noreply@blogger.com) at January 27, 2009 12:35 AM

January 26, 2009

Pakistaniat

Ahmad Hasan Dani (1920-2009): Legendary Archeologist, Historian Dies

Darwaish

Legendary archeologist, historian and linguist, Dr. Ahmad Hasan Dani has passed away in Islamabad today at age 89; born on June 20, 1920.

Among Pakistan’s most noted authority on South Asian History and Archeology, Dr. Dani was author of several books and received national and international recognition for his remarkable work. He was under treatment at the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS) in Islamabad where he died today.Dani has left behind his wife, three sons Dr Anis Ahmad Dani (World Bank), Navaid Ahmad Dani (PTV), Junaid Ahmad Dani (Action Aid), daughter Fauzia Iqbal Butt, five grandchildren and two great-grandchildren.

An erudite writer of history and an evergreen tree of knowledge, Dr Ahmad Hasan Dani spent his entire life to establish a better world by providing his study of history, an attribute which made him an extraordinary scholar, at home and abroad.

Ahmad Hasan Dani was a key figure in setting up of several museums in Pakistan and his vast publications have set the pace for future course of action in this vital field in the country. Late Dr. Dani had been extensively engaged in excavation works on the pre-Indus Civilization site of Rehman Dheri. He also made a number of discoveries of Gandhara sites in Peshawar and Swat Valleys, and worked on Indo-Greek sites in Dir.

From 1985, he was involved in research focusing on the documentation of the rock carvings and inscriptions on ancient remains from the Neolithic age in the high mountain region of Northern Pakistan along with Harald Hauptmann of Heidelberg Academy of Sciences, University of Heidelberg. In 1990–91, he led the UNESCO international scientific teams for the Desert Route Expedition of the Silk Road in China and the Steppe Route Expedition of the Silk Road in the Soviet Union.

He was Emeritus Professor at the Quaid-e-Azam University and the director of Taxila Institute of Asian Civilizations. Throughout his career, Dani held various academic positions and international fellowships, apart from conducting archaeological excavations and research. As a prolific linguist, he spoke more than 14 local and international languages and dialects (French, Turkish, Persian, Bangla, Pushto, Hindi, Marathi, Kashmiri, Tamil, Punjabi, Sindhi, Seraiki, Broshiski and Karoshti - apart from English and Urdu).

He was also the recipient of various civil awards in Pakistan and abroad, some of which are:

Professor Dr. Ahmad Hasan Dani’s national and international Awards:

  • 2000 Hilal-e-Imtiaz, Government of Pakistan
  • 1998 Légion d’honneur, President of the French Republic
  • 1997 Aristotle Silver Medal, UNESCO
  • 1996 Order of the Merit, Government of Germany
  • 1994 Knight Commander, Government of Italy
  • 1992 Aizaz-e-Kamal, Government of Pakistan
  • 1990 Palmes Academiques, Government of France
  • 1986 Gold Medal, Asiatic Society of Bangladesh
  • 1969 Sitara-e-Imtiaz, Government of Pakistan
  • 1944 Gold Medal, Banaras Hindu University (the first ever Muslim student there. He broke the 25-year-old record of achieving the highest mark in MA, becoming the first Muslim gold medalist in the University’s history)

by Darwaish at January 26, 2009 11:59 PM

Pak Bloggers

Best Places To Watch Free TV And Movies Online

If you have missed your favourite TV show or program or if you do not have TV or cable connection on your TV you can watch all your favourite TV programs online on your PC. Here is a list of websites that will allow you to watch free TV channels online on your PC so that you can watch your favourite shows in your free time.


List of websites to watch free TV online

Free Tube: Watch live TV channels online for free without to install a new software or hardware. A complete alternative of satellite television, allows you to watch TV online in your browser.

Tape It Off The Internet: 2000+ TV shows and 90,000+ episodes which include all famous TV shows including Lost, Prison Break, Heroes, Family Guy, Weeds, The Simpsons, South Park, The Office, 24 etc. You can watch everything from drama, sitcom, and comedy to documentaries, animated and reality shows on tioti.

ABC: The first network to offer full length sows online, winner of people choice webbey award. ABC provides opportunity to watch popular shows like Lost, Desperate Housewives etc on true full screen which turns your computer into a TV.

Streamick: There are more than 300 TV channels to choose from in different categories and are voted by members. Channels include NBC, ABC, ESPN, BBC1 etc.

Peek Vid: You can watch and download over 700 episodes of popular series including 24, Buffy, Desperate Housewives, Family Guy etc on Peek Vid.

PPlive: The largest worldwide internet TV network famous to watch international channels on your computer. It has largest number of users.

TV-Video: All latest popular TV shows as they aired including 24, Lost, Prison Break can be found on TV-Video.
Choose And WatchFree online TV portal to watch more than 250 channels online.

Hulu: Hulu provides videos in higher resolution from channels including Fox, NBC and others. The videos are in flash format on higher bit rate than Youtube.

Channel Chooser: You can find many TV channels streaming on Channel Chooser. Watch Hollywood blockbusters, thrills, comedy and action movies and breaking news from around the world here.

Blip.Tv: Lots of collection of popular TV shows for free.
Radio Free World[http://www.radiofreeworld.com/]: A place to have free TV channels and free online Radio stations.

TV Land: Best place to find old and new TV shows.

by Sohail at January 26, 2009 11:47 PM

x smiley x

Life Is Like Riding A Bicycle; You Dont Fall Off unless You Stop Pedalling.

I was only ten, so I didn’t know much about babies, and where they came from, and how they were made. It was a day I will never forget. Eight years ago, on a cold January afternoon, Amy, Shibs [my brother] and I were sitting in Grandma’s living room, playing with Lego Bricks 

Gran was in the kitchen, making something, when the phone rang. We weren’t allowed to answer the phone, unless we were told to. Gran didn’t like it. So whenever the phone rang, we would just ignore it, knowing that she would come and answer. She did. She talked for about 3 minutes, to whoever was on the other end and hung up. As she put the receiver down, I couldn’t help notice the change on her face. It went all different. My Gran isn’t the nicest of people. Her face sometimes scares me, it always has, and so I didn’t ask her anything, I just carried on playing.

It had been a week I hadn’t gone to school. Mum was in hospital, so I had to look after Shibs and Amy. My grandpa had just had a stroke a few months back, and he was always in bed, so my Gran would look after him, and couldn’t take us to school. She didn’t want to actually. We never really got on with her.

That was the day Boo was born. An hour after that phone call, dad walked into the room, thinking he would be the first to bring the news that Allah had blessed him with a daughter, but he was wrong. My Gran muttered ‘Ive already heard’. That’s what the phone call was about. She didn’t look happy. She looked disgusted.

My Gran doesn’t like girls. She just doesn’t. She always thought girls were a burden. An embarrassment, and so they should not be born. She has only one daughter. Her daughter has only one daughter. All my uncles have one daughter. My dad is the only brother in the house who has three. Imagine the drama and talk.

Boo was the third girl to arrive in our house, and no one was happy. Except us. Everyone else thought mum would have a baby boy. My aunty in Pakistan actually burst into tears when she found out it was a girl. How bloody pathetic. I mean what is soo good about boys? Why does everyone die to have boys? Even now. They shall feed you sonay Kay laddoo, init?

I would have had it no other way. Even though Boo was born premature, and went through a lot. Special milk different medicines. She stayed in hospital for six months after she was born, because she was only 2 pounds, and the doctors wouldn’t let her out until she grew to 5, but we got there in the end. Alhamdulilah. If I was to go back, I wouldn’t change a thing.

She was soo tiny and fragile, but she bought with her so much joy and happiness. I remember the first evening she came home; Amy and I went round the entire neighbor hood and told everyone our little Boo had come home finally.

She’s eight today, but still our little baby.

The Tiny Tot.

She loves Dora the explorer. She wears High School Musical knickers and vests. She has Bratz heels. She writes me little notes that say “Baaaj! You are the best sister in the world. I love you!” and shoves it under my pillow. She wants me to save my clothes for her till she grows big. She makes paper chatter boxes, and goes round the house doing them on everyone. If I don’t listen to her she says “I will tell mum, you go on this thing called Sparkling Smiles!” i.e. my blog.

Image and video hosting by TinyPic

by [[[ x Smiley x ]]] (riki-pontin@hotmail.co.uk) at January 26, 2009 09:22 PM

عمر احمد

نہ کھیلیں گے، نہ کھیلنے دیں گے

غالباً میں اس وقت چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا۔ میری کلاس میں دے دلا کر تیسری یا چوتھی پوزیشن آ ہی جایا کرتی تھی، لیکن مار مجھے پھر بھی کھانی پڑتی تھی۔ کیونکہ میں گھر کا کام کبھی بھی نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے پڑھنے کا شوق نہیں تھا، بلکہ یہ کہہ لیں کہ پڑھائی کو مجھ سے الرجی تھی۔ :)۔ گھر میں ابا مجھے سرشام ہی جب میں قاری صاحب سے قران پاک کا سبق لے لیتا تھا تو، طرح طرح کی چیزوں

by عمر احمد بنگش (obangash@gmail.com) at January 26, 2009 08:59 PM

Falak

falakk


On Wednesday, a post that I wrote on Saturday (or was it Sunday?) will be posted up on Biscuit ki blog. He has assured me ke it is good and what not but I am still insecure about it, so all of you guys head on up over there on Wednesday and COMMENT on the one I wrote (and the other ones-the guy has a cool blog ;]) and tell me it is ace. If you do not lie then don’t say anything. :D

****

Mum locked us out of the house today. She went to pick up them lot (i.e. my siblings who are still at primary and the one at nursery) and let one of them in the car-which still had the keys in the ignition or whatever and the house keys locked inside that drawer thing at the front-I dunno what it’s called. The clever boy decided he wanted to get out of the car, so did so and closed the door-locking himself out.

Meanwhile, us lot (the high school lot) had arrived home and were wondering why the door was bloody locked and why the TV and the heater was on inside (and jumping up and down whilst thinking this ‘cause we all needed the loo really badly). After talking and larking about outside the house for a bit (we do not have a spare key-well, actually, I think we do but it was inside. Whatever) our Tai pulls up in her car and we all scramble in. She tells us about what happened with mum and the car and we all laugh ourselves silly.

Some dude had to come and help us. I think it involved him climbing through an open window (the upstairs bathroom wala).

Or something.

****

My hair is a bush. :P

****

I have so many books on my shelf. Whenever I get a book from the library and I’ve read it, it goes something like this:

  • Nuri reads it next
  • After her it’s Outcast
  • After her it’s The Loud One (ace girl in my class)
  • After her it’s The Girl Behind Me (the girl who sits behind me-obviously)
  • After her it may be Mevish-sometimes she reads my books and sometimes she doesn’t
  • After her it may be The Girl At The Back (please don’t make me explain this)
  • After that (a few weeks later now) I get the book back

Not necessarily in that order.

Today I received back most of the books I lent out to that lot weeks ago. I had to carry them all home. There were about  9 books. Plus all my school books and files and my other rubbish stuff I carry around with me.

Sigh.

****

I hate it when people make me feel down-especially those people that I’m close to. Can’t they watch what they say? Don’t they know that I’m uber sensitive and that a tiny little remark will send me in to floods of tears? Not that I cried-but still. I mean, have I ever said anything to you? Said something to you that will put you down and ruin your day (before it even bloody started!)

Cryin’ all night.

****

I wanna go to Texas. I’ve read quite a few books in which the main guy was a Texan cowboy who wore those boots and that hat thingy and always used these terms of endearment that I love, like “buttercup,” “cupcake” and “sugar buns.” And the girl was always cool and her mum always had BIG hair and talked too much and all that. I think that’s so brilliant.

Texans are ace. :]

****

I wanna learn how to cook, but I know that if I do my mum will be standing behind me all the time and yelling at me ke I’m doing it all wrong-even though she hasn’t even heard of the recipe.

Also, the kitchen tiles are always bloody freezing, hehe.

****

I miss my Baji. :(

****

We’re all going on at S to get married before August ‘cause that’s what she said last year, but nobody has come to ask for her hand (they would have to be utterly mad to do so) so she is saying that it is August of NEXT year. Challa.

I may or may not dance at the wedding. Probably not, but I will definitely cry. She’s an annoying retard but I love her al the same, she’s like my big (stupid) sister. :D

****

Nuri thinks I have an inner dude who wants a six pack.

 

Love, Falak

      

by falakk at January 26, 2009 08:17 PM

Karachi Metro Blogs

The Poet & The Pragmatist

 Iqbal was a spiritual poet, Jinnah a secular lawyer. Iqbal studied the Quran and compared it to western philosophy, Jinnah studied constitutional law. Iqbal saw in a separate country the chance to re-imagine Islam, Jinnah saw it as a way to secure the rights of his Muslim nation from the tyranny of a democratic majority. Iqbal hoped to separate geography from nationality and help humanity rise to its united potential, Jinnah hoped to separate bigotry from the state and make all people equal before law.

 

 Two men, one spirit. The spirit of human liberation from dogma, persecution & poverty. The spirit of a New World Order. An order based on tolerance, justice & human dignity.

 

There’s only one difference between them: Iqbal dreamed and Jinnah delivered.

 

We’re children of two men who imagined a different world. Will we make the most of this opportunity, this responsibility, this possibility?

 

Join in to see ten people explore the vision of Jinnah & Iqbal.

 

Speakers include: Ramla Akhtar, Khalid Mohammad, Mohammad Nawaz, Tahir Attarwala, Jamal Ashiqain, Imtiaz N. Mohammad, Imran Khan, Salaina Haroon

 

Date: Tuesday, January 27, 2009

Venue: The Second Floor (T2F), Kh-e-Ittehad, Phase 7, DHA

Time: 7:00pm - 8:30pm

by Jamash at January 26, 2009 07:24 PM

بلو

ایک سوال

ایک بندے نے سوال کیا ہے اگر کسی کو جواب پتا ہے تو بتا دے پلیز پاکستان کا وہ کون سا شہر ہے جس کے نام میں 14 نقطے ہیں؟

by بلا at January 26, 2009 07:12 PM